اسلام آباد: ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف ہر فورم پر جدوجہد کی جائے گی، مزدور تنظیموں کا اعلان

رپورٹ: نمائندہ مزدور نامہ

حکومت پاکستان نے بدنام زمانہ ’ ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ ‘ (ایم ٹی آئی) کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وفاق میں نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، فیڈرل گورنمنٹ سروسز (ایف جی ایس)، پولی کلینک ہسپتال اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبیٹیشن میڈیسن (این آئی آر ایم) کو ایم ٹی آئی میں تبدیل کردیا گیا جو کہ اب بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے تحت چلائے جائیں گے۔ اب ان ہسپتالوں کو اپنے اخراجات چلانے کے لئے مریضوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل ہسپتالوں کی طرف سے ان ہستپالوں میں عوام کو طبی خدمات تقریباً مفت فراہم کیں جاتی تھیں۔ ملازمین کا سول سرونٹس کا درجہ اور ان کے حقوق ختم کر دیئے جائیں گے تاہم بتایا جا رہا ہے کہ ملازمین کو سرکاری قوانین اور قواعد کے مطابق ریٹائرمنٹ کے فوائد کنٹریبوشن پنشن نظام کے تحت حاصل ہونگے۔ میڈیکل تدریسی ادارے اپنی طرف سے پنشن شراکت جمع کریں گے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت ، تدریسی ادارے ترقیاتی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے حکومت یا بورڈ کے ذریعہ عائد مختلف فیسوں سے وصولیاں برقرار رکھیں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملازمین جو ایم ٹی آئی کے اسپتالوں کے کلینک ، امیجنگ سہولیات اور لیبارٹریوں کے احاطے میں نجی پریکٹس کا انتخاب کرتے ہیں وہ بورڈ کی منظوری کے ساتھ ہی تنخواہ، ایڈجسٹمنٹ ، بونس یا دیگر فوائد میں اضافے کا حقدار ہوسکتا ہے۔

اس فیصلے کے خلاف شعبہ صحت کی ملازمین تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور دیگر مزدور تنظیموں نے سخت غصہ کا اظہار کیا ہے۔ آل پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے مرکزی صدر شرافت اللہ زئی نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی آرڈینس کا سہارا لینا جمہوریت کے ساتھ مذاق اڑانے پر تحریک انصاف کی حکومت کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ آل پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن ایم ٹی آئی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کی جانب سے شدید الفاظ میں اس کی مذمت کی گئی ہے اور اسے عوام کے ساتھ ظلم و ذیادتی قرار دیا ہے۔ قانون بنانے اور منظوری دینے والی اسمبلی کو موجودگی میں ایسے عوام کش اور نظام کش آرڈیننسز کی منظوری نہ صرف آئین پاکستان کی توہین بلکہ جمہوری انداز میں ووٹ کے ذریعے منتخب کئے جانے والی اسمبلی اور عوام کے حق پر ڈاکہ ہے۔ آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک اس کے خلاف ہر فورم پر بھرپور احتجاج کرے گی۔

پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن پمز کے ذمہ داران کا ایم ٹی آئی کے خلاف لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے کل ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم ٹی آی کی صورت میں ہسپتالوں کو لوٹنے کے عمل کی شدید مخالفت کی جائے گی اور اس سلسلے میں دیگر ڈاکٹرزنرسز اور نان گزیٹٹد ملازمین کی ایسوسی ایشنز سے رابطہ کرکے گرینڈ الائنس ترتیب دیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت اور اثاثہ جات کی بندر بانٹ کا سدباب کیا جائے گا۔ منگل کے دن پیرا میڈیکس کے سینئیرز کی حتمی کمیٹی تشکیل پائے گی جو تمام معاملات کو ترتیب دے گی۔ اجلاس میں آل پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل محمد ارشد خان اور پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن پمز کے چئیرمین رانا احمد، صدر چودھری محمد انس، جنرل سیکریٹری سعید اللّٰہ جان مروت اور دیگر عہدیداران ملک زیشان، افتخارِ انجم، صمد خان اور چوہدری قمر گجر نے شرکت کی۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC شعبہ صحت کی نجکاری پالیسی کے خلاف شعبہ صحت کے ملازمین کے ساتھ شانہ بشانہ جدوجہد کرنے کا اعلان کرتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پی ایم سی اور ایم ٹی آئی کی شکل میں حکومت عوام کی زندگیوں پر حملے کر رہی ہے، علاج کا بیوپار دراصل زخموں کی تجارت ہے اور ہم اس کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*