کراچی: نادرا میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف پریس کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC کراچی

کراچی پریس کلب میں نادراملازمین بحالی تحریک کراچی (سندھ) کے ملازمین پر جعلی انکوا ئریوں سے برخاست کیئے جانے والے ملازمین کے حوالے سے سندھ کے صدررضا خان سواتی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نادرا شناختی کارڈ آفس جو کہ 2000 سے پاکستانیوں کا شناختی کارڈ جاری کرتا اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ ادارے کو ہی مقام دلانے میں ملازمین کا اہم رول شامل رہا ہے۔ ہم وہی لوگ ہیں جنہوں نے ادارے کواپنی زندگی کے تین سال دیئے دن رات محنت کر کے اس ادارے کو چار چاند لگانے میں شامل رہے۔ آج ہم وہی لوگ اس ادارے میں برے ہو گئے، ہمیں مختلف الزامات لگا کر نادرا سے بے دخل کر کے ہماری نوکریاں ختم کردی گئی ہیں۔ ہمیں ہم پر جعلی انکوائریاں بنا کر چارج شیٹ دی گئی، انکوائری آفیسر نے صرف اپنے سینئر کے کہنے پر انکوائری کی کوئی E&D 1073رولزکو فالونہیں کیا۔ جس جرم پر ہمیں چارج شیٹ دی گئی اپنے سینئرزکو خوش کرنے اور اپنی نوکری نوکری پڑھانے کی خاطر تمام رولزکو بائی پاس کرتے ہوئے،ای ایکس رول کے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے ملازمین کو چارج شیٹ وشوکاز نوٹس جاری کرکے نوکریاں ختم کردی۔ انکوائری کرنے کیلئے پہلے چارج شیٹ دی جاتی ہے اپنی صفائی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن نا درا میں کوئی چارج شیٹ نہیں دی گئی،  بس شو کاز نوٹس دے کر نوکریوں سے بر خاست کردیا گیا۔ نادرا کے ملازمین 2001 سے نادرا میں کام کررہے ہیں، ان کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔ جبکہ نادرا ایچ آر نے اپنے من پسند لوگوں کو جن کی ڈگریاں واقعی جعلی ہونے کے لیٹر آتے ہی ان ملازموں کو اطلاع دے کر ان سے استعفیٰ کروا کے ان تمام واجبات ادا کرکے ان کو رخصت کیا۔ ادارے میں آج تک ایس او پی مکمل نہیں ہے، مختلف ادوار میں چیئرمین صاحبان اپنی ایس او پیز لے آتے ہیں

اگر ایس او پی میں کمیاں ہیں تو اس کی سزا نادرا ملازمین کو کیوں دی دی جاتی ہے، جبکہ چیئرمین نادرا کی طرف سے ہدایت ہے کہ کسی بھی درخواست کو واپس نہیں کیا ہے۔ پسند نہ پسند کی بنیادپر نادرامیں انکوائریاں کی جارہی ہے جعلی انکوائری کرکے ملازمین کی نوکری ختم کردی جاتی ہے۔ ہماری ایک درخواست پر 2018ء میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نوٹس لیتے ہوئے نادرا سے جواب طلب کیا تھا، جواب میں نادرا نے سپریم کورٹ میں غلط بیان جمع کرایا کہ نادرا نے 338 ملازمین کی انکوائری کی ہے اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نوکریوں سے برخاست کیا ہے اور ہر ایک کو چارج شیٹ دے کر مکمل انکوائری کی ہے۔ یہ بات سراسر جھوٹ اور عدالت عظمی کی توہین ہے نادرا انتظامیہ اپنی نااہلی وکرپشن چھپانے کیلئے چھوٹے ملازمین (ڈیٹا انٹری آپریٹر سپر وائرز، یا وہ افسران جوکہ ان کو پسند نہیں مختلف الزامات لگا کر نوکری سے برخاست کردیتی ہے۔

اگر ایس او پی غلط ہے تو ایس او پی بنانے والے جو اسلام آباد میں ہیں ان کو سزا کیوں نہیں دی جوکہ آج تک نادرا ایس او پی نہ مکمل ہے اور نادرا کے چھوٹے ملازمین کو نقصان ہوتا ہے ۔ اس وقت نادرا کی ایس او پی کے مطابق ہوتا تھا ایس او پی میں کمیاں رہی ہیں تو جنہوں نے ایس او پی جاری کی وہ لاکھوں روپے تنخواہ ومراعات لیتے ہیں۔ وہ نادرا میں آج پہلے سے زیادہ تنخواہ و مراعات لے رہے ہیں، نادرا کے ایک آفیسر جنہوں نے کئی ملازمین کو نوکری ختم کی اور بعد میں خود ٹرمینیٹ ہوئے نادرا نے ان کو بونس تنخواہ مراعات کے ساتھ ساتھ ان کو 40سے 60لاکھ روپے دے کر گھر بھیجا۔ سابقہ چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین جو ابھی چیف ٹیکنیکل آفسیر ہیں انہوں نے اپنے پانچ سال میں نادرا کا آڈٹ نہیں ہونے دیا۔ لاکھوں نہیں کروڑوں روپے نادرا کے مختلف پرجیکٹ پر خرچ کیا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور وہ دوبارہ چیئرمین بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔