مظفرآباد: ینگ ڈاکٹرز پر ریاستی تشدد نامنظور، اس کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

رپورٹ: PTUDC کشمیر

کل آزاد کشمیر ریاست کی جانب سے ڈاکٹرز کے احتجاج کو ختم کروانے کے لئے مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے باہر قائم ڈاکٹرز کے احتجاجی کیمپ پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ اس دوران ڈاکٹرز پر تشدد کیا گیا اور ان کے کیمپ کو اکھاڑ دیا گیا۔ پولیس کی غنڈہ گردی کے نتیجے میں متعدد ڈاکٹرز شدید زخمی ہوئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ صدر وائے ڈی اے آزاد کشمیر کو بھی زخمی حالت میں گرفتارکیا گیا۔

آزاد کشمیر کے ڈاکٹر اپنے بنیادی مطالبات کے لئے پچھلے 58 دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور گزشتہ 11 دنوں سے آزاد کشمیر اسمبلی کے سامنے دھرنا دیے ہوئے تھے۔ ان کے مطالبات میں تنخواہوں کو ملک کے دیگر صوبوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے مساوی کرنا، حفاظتی سامان کی فراہمی، اسپتالوں میں زیادہ بستر اور نئے عملے کی تعیناتی سمیت کشمیر کے تمام ہسپتالوں میں جدید سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ ان مطالبات کا مقصد ریاست آزاد کشمیر میں مریضوں کے لئے طبی آلات اور عملے کی دستیابی یقینی بنانا ہے تاکہ یہاں بھی علاج و معالجہ کی بہتر سہولیات میسر ہوں اور مریضوں کو علاج کے لئے اسلام آباد نہ جانا پڑے۔ ریاستی تشدد کے فوری بعد ینگ ڈاکٹرز نے آزاد کشمیر بھر میں ایمرجنسی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ، سدھنوتی، نیلم، ہٹیاں اور حویلی سمیت کشمیر بھر میں ڈاکٹرز نے کام چھوڑ دیا۔

یہ بہت شرمناک ہے کہ ریاست ڈاکٹروں کے بہت بنیادی مطالبات اور ضروریات کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہے۔ بدقسمتی سے صحت ہر حکومت کی ترجیحی فہرست میں ہمیشہ آخری چیز ہوتی ہے۔ کورونا وبا کے فوری بعد ریاست پاکستان کا اصل چہرہ سامنے آیا، اس نے سرمایہ داروں کے منافعوں کو تحفظ دینے کے لئے پیکجز کا اعلان کیا مگر عام انسانوں کی زندگیوں کو بچانے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ میڈیا میں ڈاکٹروں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا مگر انہیں حفاظتی سامان نہیں دیا گیا اور جب انہوں نے اپنے اور مریضوں کے حقوق کے لئے صدا بلند کی تو انہیں ریاستی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے ایسا ہی کچھ لاہوراور کوئٹہ میں بھی ہوا۔

ہم پہلے د ن سے ہی کشمیر کے ڈاکٹرز کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کشمیر کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ حق مانگنے پر تشدد کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس ریاستی تشدد کے خلاف دیگر مزدور تنظیموں کے تعاون سے آج مورخہ 3جولائی کو ملک بھرمیں احتجاج کیا جائے گا۔ اگر گرفتار ڈاکٹرز کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا اور ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور حالات کی ذمہ داری ریاست پرعائد ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*