ہندوستان کا محنت کش طبقہ 26 نومبر کو سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے خلاف عام ہڑتال کے لئے تیار

تحریر: کامریڈ ہیما لتا، مرکزی صدر سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز

ہندوستان کی ٹریڈ یونینز کے سب سے بڑے اتحاد، ’سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز‘ کی جانب سے نیولبرل پالیسیوں اور مزدور حملوں کے خلاف 26نومبر کو پورے ملک میں عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس میں یونینز کے مطابق 25کروڑ سے زائد محنت کش شامل ہونگے۔اس سلسلے میں ہم اس اتحاد کی مرکزی صدر کی جانب سے ہڑتال کے مقاصد اور پس منظر پر مفصل تحریراردو میں شائع کر رہے ہیں۔ یہ تحریر پہلے ’کمیونسٹ پارٹی انڈیا مارکسٹ‘ کے آرگن ’پیپلز ڈیموکریسی‘ میں شائع ہوئی۔

ہندوستان کا محنت کش طبقہ 26نومبر کو ملک گیر عام ہڑتال کے لئے مکمل تیار ہے، محنت کشوں کے آن لائن قومی کنونشن میں بھارتی جنتا پارٹی کی محنت کشوں، جمہوری اور آئینی حقوق پر حکومت کے حملو ں کی شدید مذمت کرتے ہوئے، محنت کشوں کے سات نکاتی مطالبات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عام ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ مکمل طور پر آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی نے آرٹیکل 360 اور 35 (A) کو منسوخ کرکے ریاست جموں وکشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مون سون کے آخری اجلاس کے دوران آٹھ ممبران کومعطل کرتے ہوئے کسانوں سے متعلق تین بل منظور کرلئے۔ اسی طرح پوری حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں پارلیمنٹ سے تینوں مزدور دشمن قوانین کو منظور کروایا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔مودی سرکار کی جانب نیو لبرل ازم اور آر ایس ایس کے ’ہندو راشترا‘ جیسے مزدور دشمن ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے پارلیمانی اور آئینی اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ان ایجنڈوں کی تکمیل میں مودی کو مقامی وغیر ملکی کارپوریشنز اور سرمایہ داروں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے کیونکہ یہ قوانین منافعوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ نیو لیبرل ایجنڈے کا مقصد سرمایہ داروں کے منافعوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنااور دولت کو اکٹھی کرنے کے لئے ہے، جبکہ آر ایس ایس کا ’ہندوراشترا‘ منصوبہ معاشرے کو تقسیم کرتا ہے، اتحاد کو درہم برہم کرتا ہے اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے ذریعہ نیولبرل پالیسیوں کے خلاف متحدہ جدوجہد کو کمزور بنا تا ہے۔

آئینی اور بنیادی حقوق پر حملوں کو ٹریڈ یونینوں سمیت عوام کی تمام جمہوری اور ترقی پسند پرتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عام طور پر شہریوں کے آئینی حقوق، آزادی اظہار، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بحث و مباحثے لوگوں کی توجہ مبذول کر تے ہیں تاہم بی جے پی حکومت ڈھٹائی کے ساتھ لازمی بنیادی حقوقپر شدید حملے کررہی ہے۔ اس حکومت سے معاشرتی اور اقتصادی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لئے آئین کی جاری کردہ ہدایات پر بھی نظر ثانی کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ ہمارے آئین کے ہدایت نامہ اصولوں میں ’آمدنی میں عدم مساوات کو دور کرنے میں ریاست کی ذمہ داری‘کو بی جے پی حکومت نے منسوخ کر دیا ہے۔ دفعہ 38 (2) کے مطابق، ’ریاست خاص طور پر آمدنی میں عدم مساوات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرے گی اور نہ صرف افراد کے درمیان بلکہ مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد کے گروپوں میں، حیثیت، سہولیات اور مواقع میں عدم مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی‘۔ اگرچہ حکومت نوآبادیاتی نظام کے تحت اس آئینی ذمہ داری سے پوری طرح پیچھے ہٹ چکی ہے، لیکن ’عدم مساوات کو کم کرنا‘ بھی عوامی حلقوں کی جانب سے ایک اہم مطالبہ کے طور پر نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر اور ہمارے ملک میں عدم مساوات نوآبادیاتی حکومت کے تحت وسیع ہوتی جارہی ہیں۔مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے ملک میں عدم مساوات کی شر ح میں اضافہ تیز تر ہو چکا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب پیداواری عمل روک دیا گیا تو جی ڈی پی میں منفی نمو دیکھی گئی اور لاکھوں محنت کش افراد اپنی ملازمتوں اور آمدنی سے محروم ہوگئے۔ جبکہ اس دوران بی جے پی حکومت میں چند کارپوریٹس کو اپنی آمدنی اور دولت کو نئی بلندیوں تک بڑھاتے ہوئے دیکھاگیا۔

ویلتھ ہورون انڈیا رچ لسٹ 2020 کے مطابق، مارچ کے لاک ڈاؤن کے بعد سے ملک کے سب سے امیر آدمی مکیش امبانی کی دولت میں فی گھنٹہ 90 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس کی دولت 2,77,000 کروڑ روپے اضافے سے 6,58,400 کروڑ روپے ہوگئی، جوکہ 73 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہندوستان کے امیر ترین افراد کی فہرست میں مکیش امبانی کی دولت اگلے پانچ امیروں کی مشترکہ دولت سے زیادہ ہے۔ ایچ سی ایل کے بانی شیو نادر تیسرے نمبر پر ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی اپنی دولت میں 37 فیصد اضافہ کیا ہے۔ جولائی 2020 میں انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا اور ان کی بیٹی روشنی نادر نے ایچ سی ایل کی چیئرپرسن کا عہدہ سنبھال لیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں گوتم اڈانی اور اس کے خاندازن نے اپنی دولت میں 48 فیصد اضافہ کیا اور ملک کا چوتھا امیر ترین آدمی بن چکا ہے۔

کوویڈ 19 وبائی مرض کے دوران بھی انتہائی دولت مند وں کی دولت میں اضافہ، صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔بتایا جاتا ہے کہ وبائی مرض کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایمیزون کے جیف بیزوس، ٹیسلا کے ایلون مسک اور برکشیر ہیتھ وے کے وارین بفیٹ سمیت امیرترین لوگوں نے اپنی دولت میں 845 ڈالر ارب کا اضافہ کیا۔ فوربیز کی سالانہ ارب پتیوں کی رپورٹ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر انسٹی ٹیوٹ برائے پالیسی اسٹڈیز اور امریکن برائے ٹیکس فیئرنس نے یہ حساب لگایا ہے کہ 18مارچ سے 15 ستمبر 2020 کے درمیان، 643 امیر ترین امریکیوں کی مجموعی مالیت 2.95 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 3.8 ٹریلین ڈالر ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم مودی کے مطابق، مزدور یا محنت کشو ں کے برعکس بڑے کارپوریٹ اور دولت مند افراد ’سرمائے کو پیدا کرتے ہیں‘، حکومت کارپوریٹوں کو ’سرمایہ کاری‘ کرنے کے لئے ’مراعات‘ کے نام پر عوام کے لاکھوں کروڑوں روپے مراعات کی شکل میں دے رہی ہے۔ عوام کی قوت خرید بڑھا کرطلب پیدا کرنے کے بجائے حکومت کارپوریٹس کے ہاتھ میں رقم منتقل کررہی ہے۔ یہاں تک کہ جب کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں محنت کش اپنی آمدنی کا واحد ذریعہ کھو بیٹھے، اپنے بچوں اورخاندان کے ساتھ بھوک سے مر رہے ہیں، بی جے پی حکومت ٹریڈ یونینوں نے مطالبے 7500روپے ماہانہ بیروزگاری الاؤنس دینے اور تمام ضرورت مندوں کو 10 کلوگرام ماہانہ مفت راشن تقسیم کرنے سے بھی انکاری ہے۔ لیکن اس نے کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا، بڑے کارپوریٹس کو سستے قرضوں اور دیگر مراعات دے کر یہ کہا جا رہا ہے کہ سرمایہ داروں کو ا ن مراعات سے روزگار پیدا ہوگا اور لوگوں خصوصا ًنوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ تاہم، یہ ایک متک افسانہ ثابت ہوا ہے کیوں کہ منافع بخش مارکیٹوں کی عدم موجودگی میں کوئی نجی کارپوریٹ سرمایہ کاری سامنے نہیں آرہی۔

حکومتوں کے ذریعہ وسائل کی کمی کا یہ عام بہانہ ہے، چاہے وہ موجودہ بی جے پی یا سابقہ کانگریس کی حکومت ہو۔ ہر حکومت محنت کشوں کے حقوق اور عوام کو کسی قسم کی ریلیف دینے سے انکار کرنے کر تے رہے ہیں۔ لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بڑے بڑے کارپوریٹ اور انتہائی مالدار افراد مراعات کے مستحق ہیں کیونکہ وہ سخت محنت، باصلاحیت اور جر ات مند ہیں کہ وہ سرمایہ کاری کرنے کا’خطرہ‘مول لیں۔ مزدور اور غریب سست، نکمے اور جاہل ہیں، لہٰذا ان پر بہت سے مالی وسائل ضائع نہیں کئے جا سکتے۔ زمینی حقائق کے مطابق اس نقطہ نظر نے عدم مساوات کو مزید وسعت دی ہے اور کوویڈ 19 لاک ڈاؤن سے پہلے ہی برباد معیشت کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔یہ غلط فہمی حکمران طبقات نے پیدا کی ہے تاکہ لوگوں کو آمدنی میں عدم مساوات کو زیربحث لانے کے مطالبے کو روکا جائے۔ اس کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین کے ہدایت کردہ اصولوں کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات کو دور کرنے کا مطالبہ مزدور طبقے اور عوام کے سب سے بڑے مطالبات میں شامل کیا جانا چاہئے۔اس بات کے بڑھتے ہوئے ثبوت موجود ہیں کہ وراثت، اجارہ داری،اقربا پروری، ٹیکس چوری اور محنت کشوں کے بڑھتے ہوئے استحصال، محنت، کفایت اور قابلیت وغیرہ نے دولت مندوں کے منافعو ں میں بلند اضافہ کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ارب پتی دولت کا دو تہائی حصہ وراثت، اجارہ داری اور استبداد کی وجہ سے ہے۔

دولت کے ارتکاز کاایک عامل وراثت کے ذریعہ دولت کی منتقلی ہے۔ بیشتر بڑی کمپنیوں کی دولت، ملکیت اور انتظام بچوں اور کنبہ کے دوسرے ممبروں کو منتقل کردیئے جاتے ہیں۔ قابلیت یا اہلیت سے زیادہ یہ پیدائش ہی ہے جو ملکیت اور انتظام کی منتقلی کا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 20 سال سے بھی کم عرصے میں دنیا کے 500 امیر ترین افراد 2.4 لاکھ کروڑ سے زیادہ رقم اپنے ورثاء کو منتقل کریں گے۔ متعدد ممالک جن میں بیشتر اعلی درجے کے سرمایہ دار ممالک شامل ہیں، ایسی وراثت پر ٹیکس عائد کرتے ہیں۔ امریکہ میں وراثت میں 40 فیصد ٹیکس ہے جبکہ جاپان 50 فیصد وراثت ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں ہمارے پاس نہ تو ویلتھ ٹیکس ہے اور نہ ہی وراثت کا ٹیکس۔ انتہائی امیروں پر دولت اور وراثت کے ٹیکس لگانے سے عوام کے بنیادی حقوق اور ان کے استحقاق پر عوامی اخراجات کے لئے مالی وسائل کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔

جیسا کہ پروفیسر پربھاٹ پٹنائک نے بتایاکہ، 2019 میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہمارے ملک میں کل نجی دولت تقریبا 9445 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس میں سے سب سے اوپر والے ایک فیصد کی مالیت 42.5 فیصد یا تقریبا 400 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس سب سے اوپر ایک فیصد پر اگر معمولی دولت ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے تو ملک کو آٹھ لاکھ کروڑ روپے کے قریب رقم مل سکتی ہے۔ اسی طرح ایک تخمینہ ہے کہ اوپر والے ایک فیصد پر ایک تہائی پر وراثت ٹیکس لگا کر 6.67 لاکھ کروڑ روپے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح صرف ایک فیصد پردولت مند اور وراثت پر ٹیکس عائد کرنے سے ملک کو 14.67 لاکھ کروڑ روپے کا اضافی سرمایہ مل سکتا ہے۔اس کے علاوہ، 2019-20ء میں تقریبا 5 لاکھ کروڑ روپے انکم اور کارپوریٹ ٹیکس میں غیر حقیقی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی وغیرہ کی شکل میں عام صارفین سے تقریبا 2 لاکھ کروڑ روپے کے بالواسطہ ٹیکس جمع کیے جاتے ہیں، لیکن حکومت کو جمع نہیں کروائے جاتے ہیں او ر وہ کمپنیاں ہڑپ کر جاتی ہیں۔

دولت اور وراثت ٹیکس کے ذریعہ جمع کیے گئے اضافی 14.67 کروڑ روپے خرچ کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کے ذریعہ جمع کیے جانے والے لگ بھگ 7 لاکھ کروڑ روپے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت جو بھی خرچ کر رہی ہے، ان سب سے عوام کی بنیادی ضروریات اور ان کے حقوق کو یقینی بناسکتی ہے۔ کھانے پینے، روزگار کا حق، مفت صحت عامہ کا حق، یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم عامہ کا حق اور عمر رسیدہ پنشن کا حق اور معذوری کے مناسب فوائددیے جا سکتے ہیں۔یہ واضح ہے کہ وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ سیاسی قوت ارادے کی کمی ہے، جس سے حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی کم سے کم ذمہ داری نبھانے سے روکتی ہے۔

بین الاقوامی مالیات اداروں کے ذریعہ نیو لبرل ازم پالیسیوں اور کارپوریٹ مفادات کے تحفظ کے لئے بنائی گئی حکومتوں سے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔  خاص طور پر ٹریڈ یونینوں کو مزدوروں اور عوام کے بنیادی حقوق پر حملوں، عوام کے جمہوری، آئینی حقوق اور نیو لبرل ازم کے مابین روابط کو بے نقاب کرنا ہوگا۔

26 نومبر کو مزدوروں کی عام ہڑتال اور 26 -27 نومبر کو کسانوں کی طرف سے ملک گیر احتجاج کے اعلانات میں، ان دو بڑی پیداواری قوتوں نے ایک دوسرے کی جدوجہد کے لئے جس حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا، وہ بڑے پیمانے پر نیو لبرل ازم اور سرمایہ داری کو شکست دینے کے لئے متحدہ جدوجہد کا آغازثابت ہو گا۔