کراچی شپ یارڈ میں یونین سازی کے آئینی حق کو تسلیم کیا جائے، ورکرز کا احتجاجی ریلی میں مطالبہ

رپورٹ: NTUF کراچی

ملک میں جمہوریت بحال ہونے کے باوجود شپ یارڈ کے مزدور آئین اور قانون میں دئے گئے یونین سازی کے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہیں ۔ شپ یارڈ میں مزدوروں کو مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اور دہشت زدہ ماحول میں کام کرنے پر مجبور کیا جارہاہے ۔ وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور نیول چیف آف اسٹاف صورتحال کا فوراً نوٹس لیں۔ ان خیالات کا اظہار مزدور رہنماؤں نے شپ یارڈ کے مزدوروں کی احتجاجی ریلی سے خطاب کے دوران کیا ۔ ریلی کی قیادت NTUF کے چیئرپرسن اور کراچی شپ یارڈ لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری، غنی زمان اعوان کررہے تھے ۔

مزدور رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شپ یارڈ میں عرصہ دراز سے ملکی اور بین الاقوامی لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ لیبر قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں سے روگردانی کرتے ہوئے مزدوروں پر غیر قانونی ٹھیکیداری نظام مسلط کیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ من پسند اداروں کو مزدور سپلائی کرنے کا ٹھیکہ دیدیا گیا ہے ۔ جو کہ مزدوروں کو زر خرید غلام تصور کرتے ہیں ۔ ٹھیکیدار، انتظامیہ کی ملی بھگت سے مزدوروں کا بدترین استحصال کیا جارہاہے اور طاقت کے زور پر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جارہاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شپ یارڈ جیسے قومی اہمیت کے اداروں میں کام کرنے والے ہنر مند مزدوروں کو جسمانی سزائیں دینا عام معمول ہے جس کے باعث وہ مسلسل ذہنی اذیت سے دوچار ہتے ہیں اس کے علاوہ بلاوجہ ملازمت سے بھی برخواست کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ حا ل ہی میں 22 ستمبر صبح دس بجے جہانزیب (جنرل مینیجر، شپ بلڈنگ ڈویژن) نے ایک نوجوان مزدور شہاب الدین (اسٹیل فیبری کیٹر) کو بلاوجہ سرعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ناقابلِ بیان گالیاں بھی دیں اور اسی کے ساتھ دھمکی بھی دی کہ ’’اگر میرے پاس گن ہوتی تو میں تمہیں شوٹ کردیتا ‘‘۔ اس نا اہل اور مغرور آفیسر کا وطیرہ رہاہے کہ وہ مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور اُن سے بدزبانی کرتاہے۔ جس کے خلاف پورے شپ یارڈ کے مزدوروں میں اشتعال پھیلا ہواہے۔ اس مغرور آفیسر (جہانزیب) کی انہی بیہودہ حرکات کی وجہ سے شپ یارڈ کا صنعتی امن خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہ جنرل مینیجر اپنی نا اہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے ادارے میں بدنام ہوچکا ہے۔ اُس نے اپ گریڈیشن کرنے کے نام پر ٹھیکیداروں سے بھاری مالی مراعات حاصل کی ہیں۔ اس کی اسی نا اہلی ہی کی وجہ سے میری ٹائم سیکیورٹی کیلئے تیار کئے جانے والا پندرہ سو ٹن کا جہاز ، جو کہ مارچ دو ہزار بیس میں میری ٹائم کے حوالے کرنا تھا ، ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔ یہی صورتحال دیگر پروجیکٹس کیلئے بھی ہے کہ وہ بھی مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں ۔ یہ افسر ادارے میں اپنے من پسند نا اہل افراد کو اعلی عہدوں پر تقرری کرکے قومی ادارے کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہاہے۔

مزدور رہنماؤں نے مزید کہا کہ کراچی شپ یارڈ میں تیرہ سو سے زائد مزدور، لیبر قوانین کے برخلاف ڈیلی ویجز پر دس یا بارہ سال سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین سازی اور اجتماعی سودا کاری کے حق سے اِ ن مزدوروں کو پچھلے چودہ سال سے محروم رکھا گیا ہے۔ جس کے خلاف اعلی عدالتوں سے رجوع کیا گیا ہے لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ یونین سازی اور اجتماعی سوداکاری پر پابندی کے خلاف، مزدوروں کی بین الاقوامی تنظیم، انٹر نیشنل لیبر آرگنائیزیشن (آئی ایل او) نے بھی شکایت درج کرائی ہے لیکن اس پر بھی ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں سے چارٹر آف ڈیمانڈ کا بھی حق چھین لیا گیا ہے۔ پانچ فیصد بونس بھی نہیں دیا جارہا ہے ، ورکرز کے مختلف گیٹ پاسز بند کردئے گئے ہیں، چھٹی کے دنوں میں کام کے معاوضے اور متبادل چھٹی کا نظام بھی ختم کردیا گیاہے، کینٹن میں کھانے پینے کی چیزوں میں ڈھائی سو فیصد اضافہ کردیاگیاہے۔ ایڈوانس تنخواہوں اور قرضوں کے اجراء کے علاوہ دیگر مراعات بھی ختم کردی گئیں ہیں۔

اس افسوس ناک صورتحال کے خلاف شپ یارڈ کے مزدور سراپائے احتجاج ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جنرل مینیجر شپ بلڈنگ ، جہانزیب کو شپ یارڈ سے برطرف کرتے ہوئے انکوائری کا آغاز کیا جائے تاکہ ادارے کو مکمل تباہی سے بچایاجاسکے۔ شپ یارڈ میں کام کرنے والے تیسرہ سو سے زائد ڈیلی ویجز پرکام کرنے والے مزدوروں کو مستقل کیاجائے۔ ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیاجائے ۔ آئی ایل اوکے کنونشن اور ملکی لیبر قوانین کے تحت یونین سازی اور اجتماعی سوداکاری کے حق کو بحال کیاجائے ۔ کھانے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ اور مزدوروں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت کا آغاز کیا جائے۔ آخر میں مزدور رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو فوراً تسلیم نہ کیا گیا تو وہ بہت جلد راست اقدام کرنے پر مجبور ہونگے اور اپنے احتجاج مظاہروں کا سلسلہ پورے ملک میں پھیلادیں گے۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرنے والوں میں ناصر منصور جنرل سیکریٹری NTUF، حبیب الدین جنیدی پیپلزلیبر بیورو، کرامت علی کنوینئر نیشنل لیبر کونسل، اسد اقبال بٹ وائس چیئر مین پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، زہرا اکبر خان جنرل سیکریٹری ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن، سعید بلوچ ، متحدہ لیبر فیڈریشن ، سربلند خان آرگنائیزر انصاف جفاکش فیڈریشن، جنت حسین پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC اورمحبوب الرحمان کراچی شپ یارڈ ورکرز ایکشن کمیٹی شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*