بولیویا: محنت کشوں کے انقلابی سوشلسٹ رہنما اورلینڈو گٹیرز قاتلانہ حملے میں شہید

رپورٹ: PTUDC انٹرنیشنل

بولیویا میں بائیں بازو کی جماعت موومنٹ ٹوورڈ سوشلزم (ایم اے ایس) کی بولیوین کے انتخابات میں بڑے پیمانے پرکامیابی نے خطہ میں جاری طبقاتی جدوجہد کو ایک نئی اٹھان دی ہے۔ ملک میں دائیں اور بائیں بازو کے مابین خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔ بائیں بازو کی فاتح پارٹی اب  2020ء سے 2025ء تک حکومت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جبکہ دائیں بازو کے فاشٹ گروپوں نے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے ملک میں انتشار پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ بولیویا سے موصول اطلاعات کے مطابق، یونین فیڈریشن آف مائننگ ورکرز آف بولیویا کے  سیکرٹری اور نوجوان سوشلسٹ رہنما اورلینڈو گٹیرز، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان پر18 اکتوبر کو دائیں بازو کے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دو روز قبل ان کی موت ہو گئی۔ وفات کے وقت ان کی عمر فقط 35 سال تھی،  پچھلے سال سابق صدرایو مورالس کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد وہ جمہوریت کی بحالی کے لئے مزاحمتی محاذوں پر تھے۔

انتخابات سے چند روز قبل گٹیرزواضح بیان دیا تھا کہ اگر امریکی حمایت یافتہ موجودہ حکومت نے انتخابی نتائج کا احترام نہ کیا تو بولیویا کے کان کنوں کی جانب سے پورے ملک میں امریکی سامراج کے خلاف ہڑتال کردی جائے گی۔ ان بیانات کی وجہ سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سوشل نیٹ ورک کے ذریعہ جان سے مارنے کی بہت سی دھمکیاں مل رہی تھیں۔

ان کے کامریڈز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’’ہم اپنے ہاتھوں میں بارود لئے اپنے ملک کا دفاع ہرحال میں کریں گے۔ طبقاتی جدوجہد اب کھل کر سامنے آچکی ہے۔ یہ سیاہ اور سفید ہے، آپ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ آپ کس طرف ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکمران طبقہ ہمیں قبول نہیں کرتا ہے۔ سامراجیوں کے خلاف بغاوت پر وہ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گے اور فراموش نہیں کریں گے۔ اس حملے نے ہمیں جھکانے کی بجائے، ہمیں مزید طاقت دی ہے۔ ہم  پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں اور ہم پورے ملک کے محنت کشوں کی تحریک کا ہراول دستہ ہیں‘‘۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*