بینک ملازمین کا احتجاج: تازہ ہوا کا جھونکا

تحریر: ظفراللہ

نئی حکومت کی طرف سے وفاقی اداروں میں ہفتے کی چھٹی کے خاتمے اور اوقات کار میں تبدیلی کے احکامات کے خلاف پورے ملک میں بینک ملازمین کی طرف سے شدید احتجاج کا آغاز ہو گیا ہے۔ 16 اپریل بروز ہفتہ کشمیر سے لے کر کراچی تک ہر شہر میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ بینک ملازمین کی طرف سے پاکستان کی تاریخ کے یہ بڑے مظاہرے ہیں جو آخری مرتبہ 27B جیسے کالے مزدور دشمن قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے 26 سال بعد ہو رہے ہیں۔ جن میں تمام بینکوں کے ملازمین کی بڑی تعداد نے ہر شہر میں شرکت کی اور اس سلسلے کو ہفتے کی چھٹی کی بحالی تک جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے جدوجہد کو جاری رکھنے کا اظہار کیا۔

تاریخی طور پر بینک کے محنت کشوں کو عام طور پر سماج میں ایک مراعات یافتہ پرت تصور کیا جاتا ہے، جو ٹھنڈے دفاتر میں بھاری تنخواؤں اور مراعات کے ساتھ ملازم پیشہ لوگوں کی ایک پرت ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بینک ملازمین کے انتظامیہ و مالکان کی طرف سے استحصال اور شدید ذہنی و نفسیاتی تکالیف کی کیفیت سماج میں عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل، پوشیدہ اور مخفی ہے جو بظاہر جسمانی محنت کرتے ہوئے نظر نہیں آتی اور ایک بہترین دفتری ماحول اور سوٹ بوٹ کی وجہ سے نہ صرف عام افراد کی نظروں سے یہ مصائب اور آلام اوجھل ہیں بلکہ ماضی قریب تک بینک کی نوکری کا حصول بھی ہرنوجوان کا خواب ہوتا تھا۔

بینکنگ انڈسٹری میں ٹیکنالوجی کی پیش رفت سے جو جدت آئی ہے اس نے جہاں بہت سی بینکاری کی آٹو میشن سے سرمایہ داروں اور سیٹھوں کے منافعوں میں بتدریج ہوشربا اضافہ کیا ہے بلکہ بینک کے محنت کشوں کے شدید استحصال اور ذہنی اذیتوں کا باعث بھی بنی ہے۔ کمپوٹر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن بینک کے چھوٹے ملازمین کے لئے آسانی اور اوقات کار میں کمی کا باعث کی بجائے الٹا ان کی زندگی کی اذیتوں میں اضافے کا موجب بنی گئیں۔ مارکس نے کہا تھا کہ”مشین اور ٹیکنالوجی سے محنت کشوں کا استحصال بڑھ جاتا ہے کیونکہ سرمایہ دار ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہی اپنے منافعوں میں بڑھوتری کے لئے ہے۔“

گزشتہ دو دہائیوں میں بے پناہ منافعوں کی ہوس سے بہت سے سرمایہ داروں نے بینکنگ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کر کے کئی گنا منافع کمائے مگر بینک ملازمین کی اجرتیں، الاؤنسز اور بونسز میں کمی کا رجحان نظر آیا۔ شدید بے روزگاری کی کیفیت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بہت ہی معمولی اجرتوں پر اس صنعت میں نوکری کرنے پر مجبور ہوئے اور بیروزگاری کا سب سے زیادہ فائدہ سرمایہ داروں نے اٹھایا اور محنت کشوں کا شدید استحصال کیا۔ اسٹیٹ بینک بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا کہ وہ مختلف حوالوں سے بینک مالکان کو پابند کرے۔ اس عرصے میں اسی افرادی قوت سے بینک مالکان نے بے شمار نئے پراڈکٹس متعارف کروا کر کام کے بوجھ میں بے پناہ اضافہ کیا جس کی وجہ سے بینک ملازمین کئی اقسام کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئے۔ طویل اوقات کار اور کام کی زیادتی سے ہر دوسرا بینکار بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے عارضوں میں مبتلا ہے جو آئے روز کئی محنت کشوں کی قبل از وقت اموات کا باعث بنتے ہیں۔ یہ عام کہاوت ہے کہ”بینک میں آنے کا وقت ہے جانے کا نہیں ہے۔“ جس سے ان محنت کشوں کی خاندانی و سماجی زندگی کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ تمام بینکوں میں سٹاف کی شدید کمی جیسے مسائل الگ ہیں جس سے کسٹمرز کے غم و غصے کا شکار بھی یہی محنت کش ہی بنتے ہیں اور صبح 9 سے رات 9 بجے تک کام کے طویل اوقات کار بینک ملازمین کی زندگیوں کی روٹین کا حصہ بن چکے ہیں۔ انتظامی دباؤ اور ٹارگٹس کی تکمیل کے لئے افسران بالا کی شدید نفسیاتی ہراسانی ایک معمول بن چکی ہے۔ ماضی میں بینک کی نوکری کی شکل و نوعیت کے بدلے ملازمین کو پر کشش تنخواہیں، الاؤنسز اور آسان شرائط پر سٹاف قرض مہیا کئے جاتے تھے جو کہ آہستہ آہستہ کم یا ختم ہونے کی طرف گئے ہیں۔ کسٹمر سروس کے اوقات1:30 بجے سے 6 بجے تک کر دئے گئے اور کوئی الاؤنس نہیں دیے جاتا۔ شدید بیروزگاری کے دباؤ، متبادل نوکریوں کے فقدان، چارج شیٹس کے خوف، بینک کے محنت کشوں پر لٹکتی تلوار جیسے مسائل تھے جس کے خلاف ہمیں ایک طویل مدت تک ان ملازمین کی طرف سے بظاہر کوئی جدوجہد نظر نہیں آئی اور اس میں یونین ایسوسی ایشن کا مفاد پرستانہ کردار بنیادی اور فیصلہ کن تھا۔ رہی سہی کسر نواز شریف کی طرف سے 27B کے خاتمے نے نکال دی جس نے بینک ملازمین سے یونین سازی اور کام کے دوران کسی قسم کی یونین سرگرمی پر پابندی عائد کر دی۔ بینظیر اور نواز شریف کی حکومتوں میں بینکوں کی نجکاری نے بھی اس میں مرکزی کردار ادا کیا جنہوں نے ریاستی کنٹرول میں چلنے والے تمام بینکوں ماسوائے نیشنل بینک کے سیٹھوں کے حوالے کر دیا جنہوں نے اپنے منافعوں کی بڑھوتری کے لئے بینک ملازمین کا شدید استحصال کیا اور 25-30 ہزار روپے ماہوار تنخواہ پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھرتی کیا۔ عارضی/ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور مستقل روزگار کا خاتمہ کیا اور مستقبل بارے بے یقینی کی کیفیت سے محنت کشوں کو دو چار کیا۔

ان سارے مسائل نے بینک ملازمین میں غصہ اور نفرت کے جذبات کو دو دہائیوں تک مجتمع کیا اور آخر کار وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ہفتے کی چھٹی کے خاتمے کے اعلان سے ایک ہی دن میں محنت کش پھٹ پڑے اور سٹرکوں پر احتجاجی سلسلوں کا آغاز ہوا۔ محنت کش طبقہ اپنی زندگیوں سے سیکھتا ہے۔ بینکنگ انڈسٹری میں محنت کشوں کی نمائندہ حقیقی تنظیموں کے فقدان نے ان کو خود رو انداز میں احتجاج پر مجبور کیا ہے۔ پورے پاکستان میں برپا ہونے والے یہ احتجاج ایک ہی رات میں بننے والے واٹس ایپ گرپوں کی بدولت ممکن اور منظم ہوئے۔ ان احتجاجوں میں لازمی طور پر کئی جرات مند اور بے باک نوجوانوں کا لازمی کردار ہو گا جو اس کو منظم کر رہے ہوں مگر ایک مرکزی اور مختلف شہری سطح پر ان کی تنظیم کا فقدان ہے جس کو فوری طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خود رو احتجاجوں کی سب سے بڑی وجہ محنت کشوں کی اپنی تنظیموں کی عدم موجودگی ہے جو ایک حوالے سے بہت مثبت ہے لیکن دوسری طرف نئی لڑاکا قیادتوں کے ابھرنے کے امکانات ہیں جو اس سارے عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جن چند بینکوں میں یہ روایتی تنظیمیں اپنی کمزور حیثیت میں موجود تھیں وہ وہاں کے محنت کشوں کی نظروں میں ہمیشہ اپنے موقع پرستانہ کردار کی بدولت بے نقاب ہو چکی تھیں جنہوں نے ایک طویل عرصے سے ان محنت کشوں کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے جدو جہد سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے لیے مراعات، رشتہ داروں کے لیے نوکریوں کے حصول اور انتظامیہ کے ٹاؤٹ کے طور پر کردار ادا کیا۔

ہمارا بہت پہلے سے بینک کے محنت کشوں کا جدو جہد کے میدان میں داخل ہونے کا تناظر موجود تھا جب ہر طرف بظاہر پر امن ماحول تھا۔ زندگی کے حالات اور واقعات بہت طاقتور محرک ہوتے ہیں جو سماج کی ان پرتوں کو بھی جدو جہد میں آنے پر مجبور کرتے ہیں جو بظاہر مراعات یافتہ تصور ہوتی ہیں۔ پاکستانی سرمایہ داری کا ایک طویل عرصے سے پنپتا ہوا بحران اپنی معیاری شکل میں اظہار کر رہا ہے اور مزید پرتوں کو جدوجہد کے میدان میں دھکیلے گا۔ سابق امریکی سفارتکار اور صدر نے کہا تھا کہ ”بینکوں کی اسٹیبلشمنٹ باقاعدہ ریاستی افواج سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے“۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تحریک کے سامنے فوری نوعیت کے فرائض اور اقدامات ہیں جو اس تحریک کو آگے بڑھانے اور بینک ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ فوری طورپرشہری، ضلعی، صوبائی اور مرکزی سطح پر انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی جائے جس کے ذریعے ایک مرکزی ایکشن کمیٹی بنائی جائے جو اس تحریک کے فوری اور طویل المدتی مطالبات کے حصول کے لیے لائحہ عمل تیار کرے اور روزمرہ کے فیصلوں کو ممکن بنائے۔
2۔ ہفتے کی چھٹی کی بحالی کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے بینک ملازمین کو درپیش دیگر مسائل کے ساتھ جوڑا جائے اور ان کے حل کے لیے جدو جہد کو آگے بڑھایا جائے۔
3۔ تحریک کے مرکزی مطالبے ”ہفتے کی چھٹی کی بحالی“ کے حصول تک روزانہ کی بنیاد پر مختصر وقت کے احتجاجی سلسلوں کو جاری رکھا جائے۔
4۔ حکمرانوں /انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کے لئے دیرینہ مطالبات کو تحریک کا حصہ بنایا جائے۔
5۔ دوسرے اداروں کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل کی جائے۔

مطالبات

1۔ ہفتے کی چھٹی فوری بحال کی جائے۔
2۔ بینک کے اوقات کار ہفتہ وار 35 گھنٹے کئے جائیں۔
3۔ بزنس کے اوقات کار کو 1۔30 بجے تک محدود کیا جائے۔
4۔ تنخواہوں میں فوری طور پر 50 فیصد کااضافہ کیا جائے۔
5۔ بینک ملازمین کی کم از کم تنخواہ ایک لاکھ روپے مقرر کی جائے۔
6۔ تمام کنٹریکٹ/ڈیلی ویجز پے رول کا خاتمہ کرتے ہوئے مستقل روزگار مہیا کیا جائے۔
7۔ غیر انسانی سیلز ٹارگٹس کا خاتمہ کیا جائے۔
8۔ تمام بینک ملازمین کو یونین سازی کا حق دیا جائے۔
9۔ تمام بینک ملازمین کی ’EOBI‘ اور سوشل سکیورٹی میں رجسٹریشن کروائی جائے۔
10۔ مالکان اور سیٹھوں کے ہوشربا منافعوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پرافٹ بونسز کا منافع کی مناسبت سے اصافہ کیا جائے۔
11۔ تمام بینک ملازمین کو رسک الاؤنس دیا جائے۔

ہم ہوں گے کامیاب ایک دن