کراچی: پیرامیڈیکل سٹاف سندھ کا احتجاجی دھرنا

رپورٹ: PTUDC کراچی

محکمہ صحت سندھ کے پیراامیڈیکل سٹاف نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے کراچی پریس کلب کے سامنے مورخہ 15جنوری سے احتجاجی دھرناکا آغاز کر دیا جس میں سندھ بھر کے پیرامیڈکس شامل ہو رہے ہیں۔ دھرنا کی وجہ سے کراچی سے سکھر تک کے اسپتال پیرامیڈیکل سٹاف کے بغیر انتظامی دشواریوں کا شکار ہوگئے۔ آل سندھ پیپلز پیرامیڈیکل اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے تین مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کا سروس اسٹریکچر فوری طور پر بحال کیا جائے اورریکوری لیٹر کو کو فوری طور پر منسوخ کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ پیرا میڈیکل کو فوری 30 فیصد ہیلتھ پروفیشنل الاونس دیا جائے اورگاوی ویکسینٹر کو مستقل کیا جائے۔

دوسری جانب وزیر صحت و پاپولیشن ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو نے احتجاج کو اپنی پریس کانفرنس میں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مظاہرین کے خلاف سخت ایکشن لینے کا عندیہ دیا۔ احتجاج کے دوران سیکریٹری صحت کی جانب سے احتجاجی رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مسترد کردی حکومت احتجاج کے حوالے سے تقسیم وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو جلد از جلد احتجاج ختم کروانے کا حکم دے دیا۔ تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج کو ختم نہیں کریں گے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDCاور انقلابی طلبہ محاذ RSFکی جانب سے ماجد میمن، اویس قرنی، جنت حسین اور دیگر نے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*