کراچی: سول ایوی ایشن کے ملازمین کا نجکاری پالیسی کے خلاف شدید احتجاج

رپورٹ: PTUDC کراچی

جوائنٹ ایکشن کمیٹی سول ایوی ایشن اتھارٹی سی اے اے  کے زیر اہتمام ادارے کی سیگریگیشن اور مجوزہ نجکاری کے خلاف کل مورخہ 24 نومبر کو سی اے اے ہیڈ کواٹر کراچی میں بھر پور احتجاج کیا گیا اور ملازمین نے ڈی جی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ احتجاج کے دوران مطالبات کے حق اور نجکاری پالیسی کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایمپلائز یونٹی آف سی اے اے کے چیئرمین و جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سینئر ممبر راؤ محمّد اسلم،  ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری زرین گل درانی اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا سول ایوی ایشن جیسے حساس اور منافع بخش ادارے کو پرائیویٹ مافیا کے حوالے کرنا، ملک اور قوم سے غداری ہے اور ملازمین حکومت کے اس فیصلے کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ احتجاج کا دائرہ کار دیگر ایئرپورٹس تک بھی پھیلا دیا جائے گا اور پاکستان بھر میں ایک ہی دن تمام ایئرپورٹس پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہم ادارے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی خاطر کسی بھی حد تک جائیں گے اور پورے ملک کا ایئر ٹریفک کا نظام بھی جام کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں قائدین نے اعلان کیا کہ مشیر سرمایہ کاری رزاق داؤد، معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈاکٹر عشرت حسین کا تمام ایرپورٹس پر گھیراؤ کا کیا جائے گا اور ڈی جی سی اے اے حسن ناصر جامی کو ہیڈ کوارٹر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا کہ کابینہ نے سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سول ایوی ایشن اتھارٹی آئندہ 2 سے 3 روز میں تعینات کر دیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اتھارٹی میں ایک حصہ ریگولیٹر اور دوسرا سروس فراہمی کا کام کرے گا۔