لاہور: ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا ظالمانہ حکومتی فیصلہ نامنظور !

رپورٹ: PTUDC لاہور

کورنا وبا اور ملکی معاشی بحران کی وجہ سے عوام کی اکثریت دو وقت روٹی سے بھی محروم ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کی جانب سے معاشی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔  عوام معاشی سرگرمیاں سست پڑنے اور افراط زر میں اضافہ کی وجہ سے دوہرے استحصال کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف کے ایماء پرمحنت کشوں اور ملازمین پر حملے جاری ہیں جہاں پر لاکھوں افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا جارہا ہے وہی پر سرکاری اورغیرسرکاری ملازمین کی اجرتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ لمبی جدوجہد کے بعد حاصل کی گئیں مراعات کو بھی چھینا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کے بعد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ادویہ ساز کمپنیوں کو کنزیومر پرائس انڈیکس (سی ہی آئی) کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دی۔ ادویہ ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو بنیادی ادویات کی قیمتوں میں7 فیصد جبکہ دیگر ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کی اجازت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی نوٹی فکیشن کے مطابق ڈریپ نے وفاقی حکومت و ڈریپ کی پالیسی بورڈ کی منظوری و سفارش پر ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018ء میں ترمیم کی ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ افراط زر کے مطابق ہر سال وزارت قومی صحت کرے گی۔ 2019ء میں بھی ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کیا گیا اور اپریل میں 450 سے زائد ادویات کی قیمتوں میں دگنا تک اضافہ کیا گیا۔ خود کیمسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 40 سال ادویات کی قیمتوں میں یکدم اتنا زیادہ اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ادویات خاص طور پر بلڈ پریشر، شوگر اور اس جیسے دیگر امراض میں مبتلا لوگ جنہیں ہر ماہ ادویات باقاعدگی سے لینا پڑتی ہیں قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے ان پر بہت برا اثر پڑے گا۔

پاکستان میں صحت کا شعبہ آگے ہی زبوں حالی کا شکار ہے اورعوام علاج کے لئے نجی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، اس کیفیت میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ آبادی کی اکثریت کے لئے موت کا پیغام ہے یہی وجہ سے ہے غیر سائنسی علاج کروانے والوں کی شرح 80 فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ یہ فیصلہ سے صاف نظر آرہا ہے کہ پاکستان سرمایہ دار اپنے منافعوں کی ہوس میں بے لگام ہو چکے ہیں اورریاست بھی ان پر کنٹرول کرنے سے قاصر ہے۔ ان سرمایہ داروں کا اصل چہرہ کورونا وبا نے ظاہر کیا جب  بیماری کے خلاف مزاحمت کے لئے معمولی قیمت پر ملنے والی ادویات، سینیٹائز، آکسیجن سلنڈرز اور دیگر اشیاء مارکیٹ سے غائب کر دیں گئی اور عوام کو کئی گنا زیادہ داموں پر خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ دوا ساز کمپنیاں کافی عرصے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہیں تھی، اس حوالے سے کمپنیاں کے مالکان نے سپریم کورٹ کا رخ بھی کیا تھا۔ ان کی جانب سے ادویات کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی، جس کی مدنظر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔

یہ فیصلہ کمپنیوں کی لوٹ مار کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی واردات ہے، جس کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں ہیں۔ لہٰذا کی اہم ضرورت ہے کہ تمام محنت کش اور عوام متحد ہو کر ان جابر حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ سماج کے لئے جدوجہد کریں۔ اس سماج میں تمام ادویات ساز کمپنیوں اور نجی ہسپتالوں کو حکومتی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے گا اور پیداوار کا مقصد عوام کی ضروریات کو پورا کرنا ہو گا نہ کہ چند سرمایہ داروں کے ذاتی منافعوں کے انبار لگانا۔ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

جینا ہے تو لڑنا ہوگا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*