جبری برطرفیوں، آزادی رائے پر قدغنوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں کے خلاف پی ایف یو جے کا یوم احتجاج

پاکستان فیڈرل یونین آف جنرنلسٹس (PFUJ) کی کال پر کل مورخہ 11 نومبر کو مختلف صحافیوں تنظیموں نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں اوور واجبات کی عدم ادائیگی، میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ اور پابندیوں کا خاتمہ، ریڈیو پاکستان کے جبری برطرف ملازمین کی بحالی، 24 چینل کی بندش، پی ٹی وی سے جبری ریٹائرمنٹ کا خاتمہ اور ویج ایوارڈ کے حق میں ملک گیر مظاہرے منعقد کئے گئے۔ اسلام آباد سمیت کراچی ، لاہور ،ملتان ، کوئٹہ اور ایبٹ آباد سمیت کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ان میں چند کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔

اسلام آباد: راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کے زیراہتمام نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک احتجاجی ریلی

ریلی میں آر آئی یو جے کی قیادت اور نامور صحافی راہنمائوں کے علاوہ آل پاکستان ایمپلائز، پینشنرز و لیبر تحریک، پیپلز لیبر بیورو (پی ایل بی)، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (پی ٹی یو ڈی سی)، اتحاد یونین آف او جی ڈی سی ایل ایمپلائز (سی بی اے)، سی ڈی اے لیبر یونین (سی بی اے)، میونسپل لیبر یونین میٹروپولیٹن کارپوریشن راولپنڈی، ایس این جی پی ایل ایمپلائز یونین (سی بی اے)، پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز (سی بی اے)، یونیورسل سٹاف آرگنائزیشن ریڈیو پاکستان (سی بی اے)، پی ٹی وی یونین، ایچ بی ایف سی ورکمین یونین (سی بی اے)، سول ایوی ایشن ایمپلائز یونٹی (سی بی اے)، پی ٹی ڈی سی ایمپلائز یونین، پوسٹ آفس یونین اور دیگر ٹریڈ یونینز کے عہدیداران، نمائندگان اور کرکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کے شرکا میڈیا ہاؤسز سے صحافیوں کی جبری بےدخلی، تنخواہوں میں تاخیر، 8 ویں ویج بورڈ ایوارڈ پر عدم عمل درآمد، غیراعلانیہ سنسرشپ، ریڈیو پاکستان سے 1000 کے قریب ملازمین کی بلاجواز برطرفی، پی ٹی وی سے جبری ریٹائرمنٹ، واجبات کی عدم ادائیگیوں، قومی اداروں کی نجکاری اور توڑ پھوڑ اور ملک میں تنخواہ دار و محنت کش طبقے کو درپیش دیگر مشکلات کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔

اس موقع پر پی ایف یو جے کے جنرل سیکرٹری ناصر زیدی، نیشنل پریس کلب کے سابق صدر افضل بٹ، نامور صحافی اور اینکر پرسن حامد میر، محترمہ فوزیہ شاہد، محترمہ منیزے جہانگیر، سجاد لاکھا اور دیگر صحافی راہنمائوں سمیت مزدُور راہنمائوں راجہ عبدالمجید، انصر ایوب وڑائچ، محمد اعجاز، احمد نواز نیازی، ڈاکٹر چنگیز ملک، راجہ اشتیاق احمد، ماجد یعقوب اعوان اور دیگر نے خطاب کیا۔ اپنی تقریروں میں صحافی اور مزدُور راہنمائوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادئ صحافت، آزادئ اظہار رائے، آزادی تنظیم سازی اور صحافیوں اور مزدُور و محنت کش طبقے کے حقوق کیلئے جہاں سے بھی آواز اٹھے گی اس پر لبیک کہا جائے گا اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ جدوجہد رکھی جائے گی۔

لاہور: پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا لاہور پریس کلب کے سامنے بھرپورمظاہرہ

پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے لاہور پریس کلب کے سامنے بھرپور مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب میں پی ایف یو جے کے فنانس سیکرٹری ذوالفقار علی مہتو نے احتجاجی مظاہرے کو ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز قرار دیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد اور پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافت آزاد نہ ہوئی تو پھر یہاں انارکی ہوگی۔ مظاہرین سے ہیومن رائٹس کمیشن کے راجہ اشرف، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے عمر شاہد، فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے پرویز الطاف، سینئر صحافی ظہیر انجم، ریڈیو پاکستان کی ر یحانہ سلہری اور پی یو جے کے جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے میں عطیہ زیدی، بدر ظہور چشتی، جمال احمد، خاور بیگ، جاوید ہاشمی، رانا نایاب، سینئر صحافی ندیم شیخ ، منصور ملک، اصغر خان، زاہد شفیق طیب، جواد حسن گل سول سوسائٹی کے افراد اور مختلف ٹریڈ یونین تنظیموں کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کراچی: کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت بھرپور احتجاج

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت بھرپور احتجاج کیا گیا، جس میں دیگر صحافی اور مزدور تنظیموں، ڈاکٹرز، وکلا اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ احتجاج کے شرکا کراچی پریس کلب سے ایک ریلی کی شکل میں گورنر ہاؤس پہنچے اور گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی، مزدور اور سول سوسائٹی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اسی وقت آگے بڑھ سکتی جب صحافت آزاد اور صحافی محفوظ ہوں ، میڈیا انڈسٹری میں مصنوعی بحران کے نام پر ورکرز کو جبری برطرف کیا جارہا ہے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر سے ادائیگی معمول بن گئی ہے صحافیوں کو ایف آئی اے اور پولیس کے ذریعے مقدمات قائم کرکے اور اغوا کرکے ہراساں کیا جارہا ہے 24 نیوز چینل کی بندش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ احتجاجی دھرنے سے کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی، پاکستان بار کونسل کے رکن یاسین آزاد، ڈاکٹر قیصر سجاد، نیشنل لیبر کونسل کے کرامت علی، پیپلز لیبر بیورو کے حبیب جنیدی، این ٹی ایف یو کے ناصر منصور، سٹیٹ بنک آف پاکستان پراگریسیو ورکرز یونین لیاقت ساہی، ہاؤس بیسڈ ورکرز فیڈریشن کی زہرہ خان، امتیاز خان فاران، عبیداللہ، شکیل یامین کانگا، دارا ظفر، رانا یوسف، رشاد محمود، راؤ عمران اشفاق ، عرفان ساگر، آصف جعفری، الطاف مجاہد، محمد کاشف، محمود انور خان، سیما رضا، سمیر قریشی، جاوید سلطان جدون ، سید ذوالفقار شاہ ، سید حمیداللہ ودیگر نے خطاب کیا۔ احتجاج میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے جنت حسین اور انقلابی طلبا محاذ RSF کے فراز اور حاتم لنڈ نے بھی شرکت کی اور مظاہرین سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔

احتجاجی دھرنے کے اختتام پر گورنر ہاؤس کے نمائندے کو کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی گئی۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔م ظاہرے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، پی ایف یو جے کے سینئر نائب صدر سلیم شاہد، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین اورجنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں، ورکرز کی جبری برطرفیوں کے خلاف جنوری کے وسط میں ملک بھر سے صحافی اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گےلانگ مارچ میں وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی شامل ہوں گی اور مسائل کے حل تک اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے کیمپ لگا کردھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت اور محکمہ اطلاعات کی طرف سے صحافیوں کے تحفظ کیلئے ایک بل لایا گیا جس میں پی ایف یو جے اور صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اس بل میں شامل کئی ایک شقوں پر ہمیں تحفظات ہیں اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میڈیا کو زیر کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ موجودہ حکومت سے ہم کوئی مطالبہ بھی نہیں کررہے کیونکہ اس حکومت کے دور میں میڈیا پر بہت زیادہ قد غن لگائی گئی‘ ہمیں مل کر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک میں حکومت نے تاریخ کی بدترین سنسر شپ لگائی ہے جبکہ دو سری طرف بہت سے ٹی وی چینلز نے کوئٹہ میں اپنے بیورو آفس بند کر دیئے جس سے ہمارے بہت سے ساتھی بیروزگار ہوچکے ہیں جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے طول وعرض میں صحافیوں سے بلا معاوضہ کام لیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*