پمز (PIMS) نرسنگ ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر امام دین رند کا انٹرویو

اہتمام: PTUDC راولپنڈی

آپ کا نام اور بنیادی تعلیم کیا ہے؟
میرا نام امام دین رند ہے اور میں نے بی ایس سی نرسنگ کی تعلیم حاصل کی ہے، بعد ازاں پوسٹ آر این کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

آپ نے نرسنگ کے شعبے کا انتخاب کیوں کیا؟
میری فیملی کے کچھ افراد اس شعبے سے منسلک ہیں۔ انہی سے متاثر ہوکر میں نے اس شعبے کا انتخاب کیا۔

آپ کی مدت ملازمت کتنی ہو چکی ہے اور نرسنگ ایسوسی ایشن سے کب سے منسلک ہیں؟
میں گزشتہ تیرہ سال سے اس شعبے سے وابستہ ہوں اور نرسنگ ایسوسی ایشن میں پانچ سال ہو چکے ہیں۔

پروموشن شیڈول کیا ہے؟
اس حوالے سے کوئی پروموشن سڑکچر ہمیں تو نظر نہیں آتا کیونکہ بیس سال پہلے اپوائنٹ ہونے والے نرسنگ سٹاف کی اب جا کر پروموشن ہوئی ہے۔ باقی ماندہ اب تک پنڈنگ ہے۔

نرسنگ سٹاف کے لیے رہائش کی کیا سہولیات موجود ہیں؟
نرسنگ سٹاف کے لیے فیڈرل گورنمنٹ میں تو کوئی خاطر خواہ سہولیات موجود نہیں، ہوسٹل موجود تو ہے جس کی گنجائش چارسو ہے، لیکن نرسنگ سٹاف کے لیے صرف چالیس کمرے مہیا کیے گئے ہیں جو کہ ناکافی ہیں۔ باقی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت رہائش پذیر ہیں۔ قانون کے مطابق بھی پچاس فیصد کوٹا ہے مگر تاحال عمل درامد نہیں ہو رہا۔

نرسنگ کے شعبے کے مسائل کیا ہیں؟
ہمارے معاشرے میں اس شعبے کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ کسی بھی ہسپتال میں نرسنگ سٹاف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نرسنگ سٹاف تما م تر نامسائد حالات کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اگر پمز (PIMS) کی بات کروں تو 80 مریضوں کے لیے صرف دو مرد یادو خواتین نرس سٹاف موجود ہے۔ انٹر نیشنل معیار یہ ہے کہ ایک جنرل وارڈ میں تین مریضوں کے لیے ایک نرسنگ سٹاف کا ہونا اور اسی طرح آئی سی یو میں ایک مریض کے لیے ایک نرس کا ہونا ضروری ہے۔ پمز ہسپتال میں 2012ء سے اب تک کوئی نئی بھرتی نہیں ہوئی جبکہ سٹاف کی اشد ضرورت ہے۔ چار مرتبہ ایڈ ورٹائیز منٹ کے باوجود نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ اپ گریڈیشن کے بعد نرسنگ کے شعبے میں کوئی سدھا ر نہیں آیا۔ فیڈرل حکومت میں ڈپلومہ ہولڈز کو صرف 6700 روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں، کے پی کے حکومت 20000 روپے ماہانہ اور پنجاب حکومت 18000 روپے ماہانہ دے رہی ہے۔ فیڈرل حکومت سے اگر مطالبہ کیا جائے کہ صوبائی حکومتیں اسی کیٹگری میں زیادہ تنخواہ ادا کر رہی ہیں اور آپ کیو ں نہیں دے رہے تو عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں یہ اخراجات برداشت کرسکتی ہیں لیکن وفاقی حکومت نہیں کرسکتی۔ ڈیوٹی کی بات کی جائے تو سرکاری ٹائم آٹھ گھنٹے ہے لیکن نرسنگ سٹاف سے دس سے گیارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور ایمر جنسی کی صورت میں یہ دورانیہ لامحدود ہو جاتا ہے۔ روزانہ ایمر جنسی میں تین ہزار سے زائد مریض اورOPD میں نوہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، لیکن اتنے تھوڑے سٹاف سے کام چلایا جاتاہے۔ نئے یونٹس شروع کیے جارہے ہیں جن میں کام کا اضافی بوجھ بھی اسی سٹاف کے فرائض میں شامل ہے۔

ہسپتال میں انٹرنل ایمرجنسی کی صورت میں نرسنگ سٹاف کو کیا حفاظتی اقدامات مہیا کئے جاتے ہیں؟
اس حوالے سے کوئی اقدامات موجود نہیں۔ اگر کوئی ایڈز، ڈینگی یا کسی وائرل انفیکشن کا مریض
آجائے تو پرکنگ کی صورت میں کوئی سہولت میسر نہیں۔ حالانکہ شفا انٹرنیشنل، سی ایم ایچ اور دیگر پرائیویٹ اداروں میں اس طرح کے مریض کو اٹینڈ کرنے سے پہلے اور بعد میں نرسنگ سٹاف کی ضروری ویکسینیشن کی جاتی ہے۔

صحت کے بجٹ کے حوالے سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟
اس بجٹ سے کون مطمئن ہے؟ جی ڈی پی کا صرف دوفیصد بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ برائے صحت کم از کم تیس فیصد ہو تو کسی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ عوام کو صحت کی سہولیات قدرے بہتر طور پر مہیا کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس نظام کے ہوتے ہوئے یہ خواب خرگوش ہی ہو سکتا ہے۔ جہاں حکمران اپنا علاج باہر سے کراتے ہوں وہاں وہ اس بے بس عوام کے بار ے کیوں سوچیں گے۔ یہاں تعلیم، روزگار اور صحت جیسی سہولیات صرف وہ لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اس دگرگوں صورتحال میں کہ جہاں پاکستا ن کی اسی فیصد آباد ی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، عام آدمی اس طرح تعلیم، روزگار اور علاج جیسی سہولیات کہا ں سے حاصل کر سکتا ہے۔

پمز یونیورسٹی بننے کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟
سابقہ حکومت کے اس اقدام کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایک عوامی ہسپتال کو یونیورسٹی بنا دیا گیا ہو۔ ہمیشہ میڈیکل کالجز کی اپ گریڈیشن کر کے یونیورسٹی بنایا جاتاہے۔ پمز بطور یونیورسٹی جب خود مختار ادارے کے طور پر کام کرے گا تو اس ادارے کے تمام تر اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مفت علاج کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔ پہلے سے مفلوق الحال عوا م جو آ ج محض پانچ روپے کی پرچی پر اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھا سکتے ہیں، وہ اس سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔

اس اقدام کے خلاف کوئی جدوجہد کی گئی؟
اس حکومتی فیصلے کے خلاف تمام کیڈرز نے مشترکہ جدوجہد کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وزیراعظم نے پمز کو یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کا کہہ دیا ہے۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اور پمز انتظامیہ کے کچھ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اس عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور معاملے کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا دیا گیا ہے۔

اس ساری جدوجہد میں پمز کا سٹاف خود کو کہا ں پاتا ہے؟
اکیلے طور پر تو ہم اس بات پر کلیئر ہیں کہ صرف پمز کے سٹاف نرسز کچھ نہیں کر سکتے جب تک ہم اس ساری جدوجہد کی بالخصوص پورے فیڈرل اور پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور سندھ کے سٹاف نرسز سے جڑت نہیں بناتے۔ کیونکہ یہ صرف فیڈرل ہسپتالوں کامسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک میں یہی صورتحال ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں باقی اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ بھی ایک طبقاتی جڑت بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر تمام اداروں کے محنت کش ایک جڑت سے جدوجہد کریں گے تو ہم اس ریاستی استحصال کے خلاف ایک دیوار آہن ثابت ہونگے۔ اس حوالے سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہر ادارے کی جدوجہد میں محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*