بلوچستان کے محنت کشوں کی حالت زار

تحریر: نذر مینگل

بلوچستان بے پناہ معدنیات کرمائیٹ، سنگ مرمر، گندھک، کوئلہ، سونا، کاپر، تیل و گیس اور بے شمار قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ وسیع ساحلی پٹی اور گوادر ڈیپ پورٹ اور بڑے پیمانے پر فشنگ کی جاتی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی سب سے کم۔ لیکن اس کے باوجود بلوچستان کی آبادی کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تمام تر وسائل پر بلوچستان کے محنت کشوں کا کوئی اختیار نہیں۔ ان وسائل کو وفاقی حکومت نکال کر لے جاتی ہے اور باقی مقامی سطح پر بلوچستان کے حکمران سردار، نوا اور اشرافیہ کے حصے میں آتی ہے۔ جن علاقوں سے یہ وسائل نکالے جار ہے ہیں وہاں کی مقامی آبادی نہ صرف ان سے محروم ہے بلکہ بھوک اور افلاس کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہیں۔

قیمتی پتھروں کی کان کنی
قیمتی پتھر چاغی، دالبندین، مسلم باغ، خانوزئی، قلات، خضدار، نال، گریشہ، وڈھ، دوریجی اور سارونہ سے نکالی جاتی ہے۔ ان تمام مائنز میں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں جو زیادہ تر روزانہ کی دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ ان مزدوروں کی کوئی یونین یا تنظیم نہیں ہے۔ یہاں لیبر قوانین پر قطعاً عمل درآمد نہیں ہوتا اور نہ ہی حکومت مائینز مالکان کو ان قوانین کی پابند کرتی ہے کہ وہ مزدوروں کو تنخواہیں قانون کے مطابق ادا کرےں۔ مائنز مزدوروں کو نہ تو مستقلی اور نہ ہی کنٹریکٹ کے لیٹر دیئے جاتے ہیں۔ سوشل سیکیورٹی اور پینشن کارڈ نہیں بنائے جاتے۔ یہاں صرف اس ٹھیکیدار کی بات چلتی ہے جو مائنز مالکان کو مزدور سپلائی کرتا ہے۔ تمام مزدور اس کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ یہاں مزدوروں کو ماہانہ صرف آٹھ سے دس ہزار اجرت دی جاتی ہے جو حکومتی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار سے کم ہے۔ ان مائنز میں کام کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ حادثات معمول ہیں۔ اکثر اوقات مزدور پتھروں کے نیچے دب کر مرجاتے ہیں یا زخمی ہوتے ہیں۔ مالکان ان کی کوئی مالی معاونت نہیں کرتا۔
بلوچستان میں کوئلے کے ذخائر بھی بہت ہیں جو زیادہ تر مچھ، بولان، ڈیگاری، سورینج، ہرنائی، دکی اور دیگر علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ صرف دو مائنز سورینج اور ڈیگاری کو پی ایم ڈی سی سرکاری طور پر چلا رہا ہے جبکہ باقی مائنز نجی شعبے کے پاس ہیں۔
نجی مائنز میں کوئلے کے مزدوروں کا بد ترین استحصال کیا جاتا ہے لیکن پی ایم ڈی سی کے سرکاری مائنز میں بھی مزدوروں کا استحصال کم نہیں ہے۔ سوشل سیکیورٹی، پینشن اور سیفٹی کے حالات کافی مخدوش ہیں۔ ان میں مقامی مزدوروں کی تعداد بہت کم ہے۔ کوئلہ کے مائنز میں اکثر مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے۔ انہیں انتہائی قلیل اجرت دی جاتی ہے۔ اوقات کار بھی زیادہ ہیں۔ اوورٹائم بھی کم دیا جاتا ہے۔ مزدوروں کی حالت یہ ہے کہ وہ سوکھی روٹیاں قہوہ چائے کے ساتھ کھاتے ہیں۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ اتنی کم اجرت میںہم سالن بھی نہیں بنا سکتے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے کچھ رقم بچا کر گھر بھیج سکیں۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئلہ کی کان میں حادثے کی وجہ سے کوئی مزدور مر جاتا ہے تو باقی مزدور آپس میں چندہ کرکے اس کی میت کو ان کے آبائی علاقوں میں بھیجتے ہیں۔ مائنز مالک یا ٹھیکیدار ہمارے ساتھ کسی طرح کی معاونت نہیں کرتے۔

فشنگ انڈسٹری
اسی طرح بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں فشنگ کی صنعت سے تعلق رکھنے والے مچھیروں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ گوادر، پسنی، اورماڑہ، گڈانی، جیونی اور ڈام سے کافی مقدار میں روزانہ ہزاروں ٹن مچھلی فشنگ کی جاتی ہے۔ ان ساحلی علاقوں میں ہزاروں محنت کش دن رات مچھلیوں کے شکار کی خاطر سمندر کی موجوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات کشتی ڈوب جاتی ہے۔ یہ مچھیرے ساحلی پٹیوں میں جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات ، صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ جب یہ شکار سے واپس آتے ہیں تو ان سے مچھلی انتہائی کم قیمت پر خریدی جاتی ہے کیونکہ وہ خود مارکیٹ میں جا کر فروخت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے یہ مچھیرے خود اپنے لیے کشتیاں اور جھال بناتے یا بنواتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پیسے اسی میںہی خرچ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے ان کی معاشی کیفیت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ اب تو یہ افوائیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سی پیک کی آڑ میں چین بلوچستان کی تمام ساحلی پٹیوں اور فشریز کی صنعت کو خریدنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اگر چین ساحلی علاقوں کو لیز پر خرید لیتا ہے تو ہزاروں مچھیرے بے روزگار ہوجائیں گے۔
مچھیروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے یونین سرگرمیاں بھی اتنی فعال اور مضبوط نہیں۔ یونین سازی بھی محدود ہے۔ جن شہروں میں مچھیروں کی یونین اگر موجود بھی ہے تو انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ یونین لیڈران بھی باقی ٹریڈ یونینز کی طرح اپنے ذاتی مفادات کے لیے انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کے ساتھ ساز باز کرتے ہیں لیکن مچھیروں کے اجتماعی مفادات کے لیے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے مقامی حکمران جن میں خصوصاً نواب، سردار، قوم پرست اور مذہب پرست سیاسی قوتیں اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ جو اپنے مفادات کے لیے ہمہ وقت برسرپیکار ہیں۔ اسی لیے بلوچستان اسمبلی میں اور نہ ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں نے بلوچستان میں محنت کشوں اور مزدوروں کے ساتھ ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کیا ہے۔ان کی نااہلی کا ثبوت یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد جن اداروں کا اختیار صوبوں کو سونپا گیا تھا آج تک ان اداروں کے لیے قانون سازی کرنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے مزدوروں جو کوئلے کے کانوں اور دوسرے قیمتی پتھروں اور دھاتوں کی کانوں میں کام کر رہے ہیں ان کے تمام حقوق غصب ہو رہے ہیں جن میں ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی، ورکر ویلفیئر بورڈ کا ادارہ مفلوج ہوچکا ہے۔ ان اداروں سے مزدوروں کو اس وقت کوئی مراعات یا فنڈ نہیں مل رہا۔ درج ذیل مسائل پر فوری قانون سازی کی ضرورت ہے:

1۔ 18ویں ترمیم کے بعد بلوچستان میں لیبر قانون لایا جائے۔

2۔ ای او بی آئی کے بارے میں واضح کیا جائے کہ یہ ادارہ مرکز کے پاس ہے یا صوبے کے پاس۔
    الف۔ یہ معلومات فراہم کی جائے کہ اس ادارے میں اس وقت کتنی رقم موجود ہے اور اس کے کتنے  حصص ہیں۔
    ب۔ ورکروں کو ای او بی آئی کا کارڈ جاری کیا جائے۔
3۔ بلوچستان میں سوشل سیکیورٹی کا ڈھانچہ موجود ہے لیکن کنٹریکٹ ورکروں کو سوشل سیکیورٹی کارڈ جاری نہیں کیا جارہا۔ سوشل سیکیورٹی کارڈ جاری کیا جائے۔
4۔ ورکر ویلفیئر بورڈ18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس آنا چاہیے تھا لیکن بلوچستان حکومت اس ضمن میں اب تک کوئی قانون سازی نہیں کرسکی جس کی فوری ضرورت ہے۔
5۔ ورکر ویلفیئر بورڈ کا ادارہ درج ذیل قانونی مراعات مزدوروں میں تقسیم نہیں کر رہا: جہیز گرانٹ، اسکالر شپ، ڈیتھ گرانٹ، سکول فنڈ، لیبر کالونی۔
6۔ این آئی آر سی 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کے اختیار میں آنا تھا لیکن ابھی تک یہ قانون سازی کے منتظر ہے۔
بلوچستان میں قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ورک کونسل 23B, 23Cنہیں بنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*