پی ٹی سی ایل ملازمین کی حالت زار اور احتجاجی تحریک

تحریر: نذرمینگل

پی ٹی سی ایل جیسے منافع بخش ادارے کو 2005ء میں اُس وقت کے فوجی آمر جنرل مشرف نے کوڑیوں کے عوض اماراتی کمپنی اتصالات کو بیچ دیا تھا۔ حکمرانوں کا دعویٰ تھا کہ نجکاری کے بعد ادارہ مزید ترقی کرے گا اور ملازمین کو مزید مراعات اور سہولیات میسر ہوں گی۔ حکومت کا یہ کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل کے صرف 26 فیصد حصص نجکاری میں دیئے گئے ہیں جبکہ نجکاری کے بعد ملازمین کی تنخواہوں اور تمام مراعات کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ ادارے میں یونین سازی کا عمل جاری رہے گا لیکن جیسے ہی اتصالات نے ادارے کا کنٹرول سنبھال لیا تو یہ تمام تر حکومتی وعدے ہوا ہوگئے۔ ملازمین اور ان کی مراعات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جانے گا۔ سب سے پہلے نام نہام VSSمتعارف کروایا گیاجس کے تحت ملازمین کو یکمشت رقم کے بدلے ملازمت سے علیحدگی کا پیکج دیا گیا۔ ساتھ میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ جو ملازمین اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کو بعد میں یہ پیکج نہیں ملے گا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ملازمین کو VSSلینے پر مجبور کیا گیا۔ اسی طرح وقتاً فوقتاً تین اور VSSلائے گئے اور ملازمین کو زبردستی نوکریوں سے فارغ کیا گیا۔ 65ہزار ملازمین گھٹ کر اب صرف 15ہزار رہ گئے ہیں۔ اسکے علاوہ کمپنی نے ادارے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔ مختلف کمپنیوں کو لائسنس دے کر پی ٹی سی ایل کی اپنی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور خوب مال بنا رہے ہیں۔ اتصالات سالانہ کروڑوں ڈالر کما رہی ہے لیکن حکومت پاکستان کے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے۔

اس وقت پی ٹی سی ایل کے باقی ماندہ پندرہ ہزار ملازمین کی زندگیاں انتہائی تلخ اور کرب کی کیفیت میں ہیں۔ پہلے پی ٹی سی ایل کے جی ایم آفسز میں ہرطرف ملازمین کی چہل پہل ہوتی تھی اور اپنی ڈیوٹیوں میں مصروف ہوتے تھے۔ آج ان دفاتر میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوتا ہے۔ جہاں پہلے دس پندرہ ملازمین کام کرتے تھے اب وہاں ایک بندہ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ملازمین کی تمام ترقیاں روک دی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے سے ملازمین کو یکسر محروم رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات بھی موجود ہیں لیکن آج بھی ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن سات سال پرانی سطح پر ہے۔ مثلاً اس وقت گریڈ 9 کا ایک ملازمین جس کی سروس 27سال ہوچکی ہے اس کی بنیادی تنخواہ صرف 8ہزار روپے ہے۔ اسی طرح باقی مراعات، اوورٹائم، میڈیکل الاؤنسز وغیرہ پر قدغن لگائی جارہی ہیں۔ اس تمام تر کیفیت میں ملازمین شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر ملازمین مختلف بیماریوں، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ملازمین نے اس ظلم و جبر کے خلاف ہر ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی اور مایوسی کی ایک لہر نے انہیں دبوچ لیا ہے۔ لیکن پی ٹی سی ایل کے مختلف رجسٹرڈ یونین کے نمائندوں نے ان ناانصافیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے کمپنی کی بدمعاشی اور اپنے حقوق کی بحالی اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔ اس سلسلے میں بروز اتواز 18نومبر 2018ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جلسہ کیا گیا۔ ملازمین اور یونینز کا کہنا ہے کہ ہمیں پتہ ہے کہ کمپنی ہماری آواز کچلنے کی کوشش کریں گے۔ سرگرم لیڈرشپ اور ممبران کے خلاف سخت انتقامی کاروائی کا خدشہ موجود ہے۔ اس لیے پی ٹی سی ایل کے ملازمین اور یونینز نے دیگر تمام ٹریڈ یونین فیڈریشنز کے قائدین سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاجی تحریک کی حمایت کرے اور عملی طور پر اس احتجاج میں شامل ہوجائے تاکہ ظالم کمپنی انتظامیہ کو موقع نہ ملے کہ وہ ملازمین کے خلاف کاروائی کرے۔

پاکستان میں نجکاری کا یہ عمل اَسی کی دہائی سے شروع ہوا۔ اس کے بعد آنے والی تمام تر جمہوری اور آمرانہ حکومتوں نے اس پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ جو ادارے نجکاری میں دیئے گئے ان کے ملازمین پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان اداروں کے ملازمین کی زندگیاں ایک عذاب مسلسل میں مبتلا ہوچکی ہیں۔ دوسری طرف مالکان اربوں ڈالر لوٹ کر ملک سے باہر لے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکمران طبقہ باقی ماندہ اداروں کو بھی فروخت کرنے کے درپے ہے۔ نام نہاد ’’نئے پاکستان‘‘ کے دعوے دار حکومت نے پچھلے تین مہینوں میں صرف بنیادی ضروریات زندگی، تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیا ہے۔ موجودہ حکومت مرحلہ وار پالیسی کے تحت پانچ سالوں میں باقی ماندہ اداروں کو نجکاری میں دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 22اداروں کو نجکاری میں دیا جائے گا۔ لیکن یہ عمل اتنا آسان نہیں ہے ۔ محنت کش اس کی سخت مزاحمت کریں گے۔ ماضی میں پی آئی اے اور سٹیل مل کے محنت کشوں نے اسی نجکاری کے خلاف سخت مزاحمت کی تھی۔ لیکن جب تک نجکاری بطور پالیسی موجود رہے گی اس وقت تک نجکاری کی تلوار تمام تر اداروں پر لٹکتی رہے گی۔

اس لیے محنت کشوں کا یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ ماضی میں جتنے بھی اداروں کو نجکاری میں دیا گیا تھا ان سب کو دوبارہ قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔ وزارت نجکاری اور نجکاری کمیشن کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام ٹریڈ یونینز ایک نکتے کے گرد ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے کہ نجکاری پالیسی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ طبقاتی سرمایہ دارانہ نظام کی موجودہ تباہ کن صورت حال کو دیکھتے ہوئے محنت کشوں اور ان کی تنظیموں کو فعال ہوکر اس نظام کے خلاف لڑنا ہوگا کیونکہ محنت کشوں کے تمام تر مصائب ، بھوک، بیروزگاری، لاعلاجی اور مہنگائی اس نظام کی وجہ سے ہے اور ایک انقلابی تبدیلی ہی ان مصائب سے نجات دلا سکتی ہے۔

مطالبات
٭ 2005ء سے 2008ء تک کے تمام بقایاجات ادا کیے جائیں۔
٭ 2008ء کے بعد حکومت پاکستان نے سالانہ بنیادو ں پر ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا کمپنی نے پی ٹی سی ایل ملازمین کو اس سے محروم رکھا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی تنخواہیں اور مراعات 2008ء کی سطح پر ہے۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اسی حساب سے اضافہ کیا جائے۔
٭ ملازمین کو پروموشن دیا جائے جو 2008ء سے بند ہے۔
٭ کنٹریکٹ ملازمت کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ ملازمین کو میڈیکل سہولیات بلا امتیاز فراہم کیا جائے۔
٭ یونین پرعائد غیراعلانیہ پابندی کو ختم کیا جائے۔
٭ ملازمین کے اوورٹائم کو بحال کیا جائے اور جبری ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ حکومت پاکستان اپنے گارنٹر ہونے کے کردار کو ادا کرے اور ملازمین کو کمپنی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔
٭ کمپنی میں مزید افراد بھرتی کیے جائیں اور ایک شخص سے دس بندوں کا کام لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین پی ٹی سی ایل کے شروع کردہ احتجاج اور مطالبات کی بھر پور حمایت کرتی ہے۔ ہم ملک گیر سطح پر اس تحریک میں ہمہ وقت شامل رہیں گے۔ ہم باقی تمام ٹریڈ یونینز سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کی اس تحریک کا حصہ بنیں۔

2 Comments

  1. Abdul Qayyum Qureshi says:

    where is PTCL pensioners in the demands raised through the collective struggle against atrocities of ETISELAT over employees and particularly PTCL pensioners retired under VSS?

  2. Muhammad junaid says:

    Yes absolutely right. Including ptcl officer of grade 17 are very much damaged by this act of ptcl.
    In other govt department grade 17 officer are taking salary 130000/plus and the ptcl officer is taking 60000/. Even ptcl grade 17 is federal govt employee but we are looking grade 9 employee.this is injustice

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*