اسلام آباد: سرکاری ملازمین کا دھرنا ناکام بنانے کے لئے حکومتی اوچھے ہتھکنڈوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں، پی ٹی یو ڈی سی

رپورٹ: مرکزی انفارمیشن بیورو

آئی ایم ایف کے ایما پر عوام کی زندگیوں پر سخت حملے کئے جا رہے ہیں۔ ہر ادارہ اس وقت نجکاری اور جبری برطرفیوں کے حملوں کی زد میں ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگار ی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس کیفیت میں حقیقی اجرتوں میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے اور حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین اور محنت کشوں کو ریلیف دینے کی بجائے معاشی بحران کا سارا بوجھ ان پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ سرمایہ داروں اور اعلیٰ بیوروکریسی کو مزید مراعات سے نوازا جا رہا ہے۔

ان مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف پاکستان بھر کے سرکاری ملازمین اور محنت کش سراپا احتجاج ہیں، سرکاری ملازمین کے اتحاد ’گرینڈ ایمپلائز الائنس‘ کی جانب سے سے تنخواہوں میں اضافے، سکیل اپرگریڈیشن اور دیگر مطالبات کے لئے آج مورخہ 10فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھر پور احتجاج کرنے کی کال دی گئی ہے۔ تاہم دھرنے کوروکنے کے لئے پہلے ’تنخواہوں میں اضافے‘ کا لالی پاپ دیا گیا اورپھر اتحاد کو کمزو ربنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ملازمین میں تقسیم ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ کچھ ریاست کی آشر واد پر پلنے والی چند سرکاری ملازمین کی تنظیموں کی قیادت نے پہلے ہی دھرنے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

اب تازہ اطلاعا ت کے مطابق دھرنے کو ناکام بنانے کے لئے گرینڈ ایمپلائز الائنس کے قائدین رحمان باجوہ، ملک سعید اعوان، طاہر اور دیگر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ دن ہی پہلے گرینڈ ایمپلائز الائنس اور حکومت کے مابین مذاکراتی اجلاس کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے ملازمین کے احتجاج کو بزور طاقت کچلنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، حکومت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کی پر زور مذمت کرتی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں تمام گرفتار قائدین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈے جدوجہد کو کچل نہیں سکتے اور جمہوری حقوق کی پامالی کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب گرینڈ ایمپلائز الائنس کی قیادت سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ یہ وقت علیحدہ اور جدا ہو کر جدوجہد کرنے کا نہیں بلکہ متحد ہو کر اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کا ہے۔