کسان احتجاج: یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے !

تحریر: رؤف خان لنڈ

ظلم کی کوئی ذات اور کوئی قبیلہ نہیں ہوتا۔ ظلم طبقاتی سماج میں نا جائز لوٹ مار، بے ایمانی اور بد دیانتی سے بنائے گئے وسائل پر جبری قبضہ قائم رکھنے کے عمل کا ناگزیر نتیجہ ہوتا ہے۔ لاہور کے احتجاجی کسانوں پر تشدد کے وقت ایک بلوچ سردار عثمان بزدار وزارتِ اعلی کی کرسی پر اپنے طبقے کے مفادات کے پہریدار کے طور پر بیٹھا ہے۔ جس نے ان احتجاجی کسانوں کی لاہور آمد کو امن و امان کا خطرہ سمجھ کر روکنے کا حکم دیا۔ اسی حکمران طبقے کا ایک بیہودہ گماشتہ حفیظ الرحمان بگتی ایس پی صدر لاہور تعینات ہے ۔ جس نے بالادست طبقے کی دلالی میں دو قدم آگے جاکر حکمرانوں کے سکون کو اپنے مطالبات پر مبنی نعروں سے تباہ کرنے کی گستاخی کا سبق دیتے ہوئے مظاہرین پر کیمیکل ملے پانی سے چھڑکاؤ کیا۔ جس کے نتیجہ میں متعدد کسان جھلس کر زخمی ہو گئے۔ جن میں ایک کسان رہنما اشفاق لنگڑیال زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ زخمی کسانوں میں کئی کسان اپنی آنکھوں میں کیمیکل ملے پانی جانے سے معذور بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کسانوں کیلئے انصاف طلب کرنے کے مطالبے کئے گئے تو ریاستی اداروں نے اپنی بیہودہ روایت برقرار رکھتے ہوئے الٹا سینکڑوں احتجاجی مظاہرین پر امن و امن خراب کرنے، سڑک بلاک کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، چوری کرنے، سرکاری ملازمین پر حملہ کرنے وغیرہ جیسے الزمات لگا کر مقدمہ درج کردیا۔ طبقاتی مسئلے کو سمجھنے کیلئے اس سے بہتر واقعہ کیا ہو سکتا ہے۔ احتجاج کرنے والے محنت کش کسان کسی محدود علاقے، موضعے یا صوبے کے کسانوں کے مسائل کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اس لئے سراپا احتجاج تھے کہ ملک کے غریب کسان جن کا تعلق خواہ کسی بھی خطے، علاقے، صوبے، قوم، ذات اور مذہب و مسلک سے تعلق رکھتے ہیں وہ برباد ہو کے رہ گئے ہیں۔ ان کی کپاس کو سرمایہ بنانے والا کیڑا کھا گیا ہے، تو ان کی گندم بڑے بڑے سرکاری اور غیر سرکاری سمگلر اور تاجر سستے داموں لے کر راتوں رات اپنی دولت میں اضافہ کر بیٹھے ہیں اور دوسری طرف گندم کاشت کرنے والے خود اور ان کے بھائی بند مہنگا آٹا خریدنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ اسی طرح نہ وہ اپنی کاشت شدہ سبزیاں کھا سکتے ہیں اور نہ اپنے خون پسینے سے اگائے گئے گنے کی فصل معقول اجرت پر بیچ سکتے ہیں اور نہ ہی اسی گنے سے بننے والے گڑ اور چینی کو گھر کیلئے خرید کر لا سکتے ہیں۔

معصوم اور نہتے کسانوں کے احتجاج کے سادہ سے مطالبات تھے۔ کہ کسانوں کی تمام فصلوں بالخصوص کپاس، گندم اور گنے کی قیمت کسانوں کی لاگت اور اس پر صرف محنت کے مطابق مقرر کی جائے۔ مگر یہ باتیں حکمرانوں اور بالادست طبقے کو کب پسند آتی ہیں۔ اگر وہ کسانوں اور محنت کشوں کے معمولی مطالبات پر بھی ہمدردی کریں تو ان کے زرق برق لباس، ان کی فراٹے بھرتی گاڑیاں، ان کی سردی گرمی جیسے موسمی حالات سے محفوظ کوٹھیاں کیسے بنیں ؟ ان کے بگڑے، آوارہ اور بدقماش بیٹے یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کے چیئر مین کیسے بن پائیں؟ ان کو اپنے بڑے بڑے کرتوتوں کے تحفظ کیلئے اسمبلیوں اور سینیٹ اور صوبائی و وفاقی وزارتوں کے دفاتر میں بے غیرتی ، ڈھٹائی اور کمینگی کے ساتھ بیٹھنے اور گپ شپ کرنے کا موقع کیسے ملیں ؟

دوسری طرف ہمیں طبقاتی سماج کی تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ محنت کش طبقہ، حکمرانوں اور حکمران طبقے کی پھیلائی گئی دانش کے ہاتھوں اپنے قاتلوں کو مسیحا اور اپنے دشمنوں کو نجات دہندہ سمجھتے رہتے ہیں۔ لیکن بقول ساحر لدھیانوی، وقت کا مزاج جب بدلتا ہے تو پھر محنت کشوں پر صدیوں اور سالوں ہوتے ہوئے مظالم کرنے والوں کے مکروہ چہرے منکشف ہوتے ہیں۔ تب ان کی نفرت ایک لاوے کی طرح پھوٹ پڑتی ہے۔ وہ اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم کا حساب لینے میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب طبقاتی سماج اپنے سب گماشتوں سمیت مٹی کا ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔

بس ایک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں اور ظلم کی بات ھی کیا؟ ظلم کی اوقات ہی کیا؟
آئیے اس وقت ہم یک آواز ہو کر نعرہ بلند کریں،

نہ مذہبی جنگ، نہ ذاتی جنگ، طبقاتی جنگ طبقاتی جنگ
نہ قومی جنگ، نہ ذاتی جنگ، طبقاتی جنگ طبقاتی جنگ
انقلاب انقلاب۔۔۔۔سوشلسٹ انقلاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*