لاہور: اتحاد اساتذہ کے پر امن دھرنے پر پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی

رپورٹ: PTUDC لاہور

پے پروٹیکشن کمیٹی، اتحاد اساتذہ پاکستان اور پی پی ایل اے کے اشتراک سے پے اینڈ پروٹیکشن کے مطالبہ پر گزشتہ 35 روز سے سول سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا جاری ہے۔ اساتذہ رہنماؤں نے نئی حکومت کی تشکیل اور بعد ازاں اس سے مذاکرت کے بعد مطالبات کی منظوری تک احتجاج اور دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ کالج اساتذہ نوٹیفکیشن کے حصول کے بغیر دھرنا ختم نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر تاحال قائم ہیں۔

تاہم آج صبح 4 بجے لاہور پولیس اور انتظامیہ نے کالج اساتذہ کے پے پروٹیکشن کے لیے سول سیکرٹریٹ کے سامنے گزشتہ چالیس دن سے جاری پر امن دھرنے پر دھاوا بول دیا۔ اساتذہ کو زدو کوب کیا گیا، موبائل فون چھین لیے گئے اور 4 پروفیسرز کے موبائل توڑ دیے گئے۔ اس کے علاوہ شامیانے، قالین، ساؤنڈ سسٹم اور تمام سامان اٹھا کر لے گئے۔ پے پروٹیکشن کمیٹی، اتحاد اساتذہ اور پی پی ایل اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی پرتشدد کاروائی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ پے پروٹیکشن کے ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج سے پنجاب بھر کے کالجز میں کاسسز کا بائیکاٹ کر کے مظاہروں کا عمل شروع کیا جائے گا۔ پے پروٹیکشن اساتذہ کا قانونی حق ہے۔ پے پروٹیکشن کمیٹی پنجاب اس بات کا عزم کرتی ہے کہ ہم اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب کو متنبہ کرتے کہ احتجاج کا سلسلہ پورے پنجاب میں پھیلا دیا گیا ہے۔ ہم ہر حال میں پے پروٹیکشن حاصل کریں گے۔

لکشمی چوک میں ہونے والے جوابی احتجاج میں طلبہ،اور اساتذہ نے شرکت کی پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے ذمہ داران نے شریک ہو کر ان کے ساتھ اظہار یکجھتی کا اظہار کیا اور ساتھ مل کر اس جدوجہد کو دوسری ٹریڈ یونینز کے ساتھ جڑے بنانے کا عزم کیا۔