پشاور: اجرت کا مطالبہ کرنے پر بی آر ٹی منصوبے پر کام کرنے والے محنت کشوں پر پولیس کا لاٹھی چارج

رپورٹ: PTUDC پشاور

صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف حکومت نے 2017ء میں پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ بی آر ٹی منصوبہ کا آغاز کیا تھا جسے مکمل کرنے کی مدت ایک سال تھی لیکن تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ہے جبکہ لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت تحریک انصاف کے ماہرین کی فراست اور دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم اس صورتحال میں منصوبے پر کام کرنے والے محنت کشوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ بی آر ٹی پر کام کرنے والے 1000سے زائد محنت کشوں کوپچھلے چار ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی۔ زیادہ تر محنت کش تھک ہار کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں تاہم منصوبے پر چوکیدار کے طور پر کام کرنے والے افراد نے اپنے مطالبات کی خاطر پشاور کی مین سڑک پر زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر کنٹریکٹر یا حکومت کی جانب سے کوئی بھی فرد مذاکرات کے لئے نہ آیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی پولیس کے ذریعے ان کے احتجاج کو منتشر کروانے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا، کئی محنت کشوں کو گرفتار کر کے تھانوں میں بند کر دیا گیا۔

پولیس گردی کے باوجود محنت کشوں نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ووٹ بھی پی ٹی آئی کو دیے مگر بدلے میں انہیں صرف رسوائی ملی۔انہوں نے چار دن پہلے بھی احتجاج کیا تھا جوکہ دو ماہ کی تنخواہ فوراً ادا کرنے کے لولی پاپ پر ختم کروا دیا گیا۔ آج احتجاج پر پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریاں ظلم کی انتہا ہے۔ محنت کشو ں نے تنخواہیں ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تنخواہیں عید سے پہلے نہ ادا کیں گئی تو یہ پاک افغان ٹریڈ روٹ کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔


پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے، مطالبہ کرتی ہے کہ لاٹھی چارج کا حکم دینے والے افسران خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ یہ واقعہ تحریک انصاف کی عوامی ہمدردی کے ناٹک کی اصلیت کو بھی بیان کرتا ہے۔ ایک طرف حکومت احساس پروگرام کے نام پرغریبوں کی مدد کرنے کا دعوی کر رہی تو دوسری طرف محنت کشوں کو جائز حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*