کو ئٹہ: محکمہ ڈاک بلوچستان پوسٹل ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام قلم چھوڑ ہڑتال

رپورٹ: PTUDC  کوئٹہ

محکمہ ڈاک بلوچستان کے محنت کشوں کے جائز مطالبات کے لیے پوسٹل ایکشن کمیٹی بلوچستان کے زیر اہتمام مورخہ 5اکتوبر سے قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ ان مطالبات میں ہاؤس ریکوزیشن کے حصول میں انتظامیہ کی جانب سے بدنیتی پر مبنی رکاوٹیں ڈالنے کا خاتمہ، میڈیکل بلوں کی منظوری، سرکاری کوارٹروں کی میرٹ کی بنیاد پر الاٹمنٹ اور ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل بلوچستان کا تبادلہ شامل ہیں۔ اس ہڑتال کے پہلے دن محکمہ ڈاک کے تمام یونٹس سرکل آفس، کوئٹہ ڈی ایم او، کوئٹہ جی پی او، پی ایل آئی اور کوئٹہ سٹی کے تمام ڈاک خانوں میں محکمہ ڈاک کے محنت کشوں نے پوسٹل ایکشن کمیٹی کی کال پر لبیک کہتے ہوئے کام روک دیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پوسٹل ایکشن کمیٹی کی جانب سے مذکورہ بالا مطالبات کے لیے 13ستمبر 2018ء کو قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ ہڑتال کے چند دن بعد انتظامیہ کی جانب سے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر ہڑتال مؤخر کر دی گئی تھی۔

آج ہڑتال کے پہلے دن محکمہ ڈاک کے تمام یونٹس سے پوسٹل ملازمین کوئٹہ جی پی او کے سبزہ زار میں جمع ہوئے جو ایک جلسہ کی شکل اختیار کر گیا۔ جلسے سے پوسٹل ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نوپ کوئٹہ سٹی یونٹ کے جنرل سیکرٹری نذرمینگل، ڈی ایم او ایمپلائز یونین کے محمدعلی، پی ایل آئی ایمپلائز یونین کے امجد علی،کوئٹہ جی پی او سے شیخ شاکر حسین اور ایپکو ایمپلائز یونین کے معروف آزاد نے خطاب کیا۔ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ڈاک کی بیوروکریسی نے اپنی انا اور لوٹ مار کی خاطر ہاؤس ریکوزیشن کے حصول کو اب ملازمین کے لیے ایک ناممکن کام بنا دیا ہے۔ آئے روز نئے نئے حیلے بہانوں سے ملازمین کی ہاؤس ریکوزیشن کو روکا جا رہا ہے جبکہ افسران خود اپنی ہاؤس ریکوزیشن کے لیے تمام تر لوازمات سے مبرا ہیں۔ اسی طرح میڈیکل بلوں کی منظوری کے لیے بھی غریب ملازمین کو طویل مرحلوں اور عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور ہر مرحلے پر بیوروکریسی ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ سرکاری کوارٹروں کو بغیر کسی میرٹ کے من پسند لوگوں کو الاٹ کیا جا رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ کافی عرصے کے بعد محکمہ ڈاک کے تمام یونٹس ایک مشترکہ جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کو برقراررکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجائے اور بغیر کسی تاخیر کے ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کرے۔ اگر انتظامیہ نے اسی طرح اپنی ہٹ دھرمی اور دھونس دھمکیوں کا سلسلہ برقرار رکھا تو ہم بھی اس احتجاج اور ہڑتال کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے پورے بلوچستان میں پھیلائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*