کوئٹہ: محکمہ ڈاک بلوچستان کے محنت کشوں کی کامیاب ہڑتال ختم

 رپورٹ: PTUDCکوئٹہ

مشترکہ پوسٹل ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام محکمہ ڈاک بلوچستان میں 05اکتوبر کو شروع ہونے والی قلم چھوڑ ہڑتال ایک ہفتہ جاری رہنے کے بعد مورخہ 11 اکتوبر بروز جمعرات کو انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ یہ ہڑتال کوئٹہ سے نکل کر پورے بلوچستان میں پھیل چکی تھی جس کے دوران پورے بلوچستان میں ڈاک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا تھا۔ محکمہ ڈاک آج بھی سامان، خطوط اور رقوم کی ترسیل کا سب سے سستا نظام ہے۔ اس وقت ڈرائیونگ لائسنس اور اسلحہ لائسنس کی تجدید، پینشنوں کی ادائیگی، پوسٹل آرڈرز کی فروخت، منی آرڈر، فیکس منی آرڈرکی بکنگ، پارسل بکنگ ، یوٹیلٹی بلوں کی کلیکشن، پی ٹی سی ایل بلوں کی تقسیم وغیرہ تمام شعبے محنت کشوں کے ہڑتال کی وجہ سے بند رہے۔ اس تحریک کا مرکز اس وقت کوئٹہ شہر تھا جہاں محکمہ ڈاک کے محنت کش روزانہ کی بنیاد پر صبح کوئٹہ جی پی او کے لان میں جمع ہوتے ہیں اور پھر جلسہ کا آغاز ہوتا،  جس سے پوسٹل ایکشن کمیٹی کے قائدین خطاب کرتے ہیں جبکہ محکمہ ڈاک کے مزدور مختلف انقلابی نظمیں بھی پیش کرتے ہیں۔

پوسٹل ایکشن کمیٹی کے قائدین کے مطابق ان کے مطالبات اتنے بھی بڑے نہیں ہیں جنہیں پورا نہ کیا جاسکے۔ ان مطالبات میں ملازمین کی ہاؤس ریکوزیشن کی ادائیگی سرفہرست ہے جسے انتظامیہ جان بوجھ کر مختلف حیلے بہانوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اس کی ادائیگی میں روڑے اٹکا رہی ہے اور پچھلے چھ مہینوں سے ملازمین ماہانہ ملنے والی ہاؤس ریکوزیشن سے محروم ہیں۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ دوسرے محکموں کی طرح ہاؤس ریکوزیشن کو تنخواہ میں ہی ضم کر دیا جائے۔ اسی طرح انتظامیہ غریب ملازمین کے میڈیکل بلوں کی منظوری میں بھی تاخیری حربے استعمال کرتی ہے اور اس کی منظوری کو ایک پیچیدہ عمل بنادیا ہے جس سے ملازمین اپنے میڈیکل بلوں کی ادائیگی کے لیے درکار لوازمات پوری کرنے کے لیے در در ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کو سادہ بنایا جائے۔ اسی طرح سرکاری کوارٹروں کی الاٹمنٹ کا مسئلہ ہے۔ محکمہ ڈاک کی انتظامیہ سرکاری کوارٹروں کو اپنے من پسند افراد کو نواز رہی ہے جبکہ محکمہ کے مستحق ملازمین رہائش کے لیے خوار و زار ہیں۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ سرکاری کوارٹروں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمین کو الاٹ کیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل کا تبادلہ بھی ان مطالبات میں شامل ہیں۔

جب سے اس تحریک کا آغاز ہوا، پوسٹل انتظامیہ دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے ملازمین کو ہڑتال میں شرکت کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملازمین کو تنخواہوں کی بندش، شوکاز نوٹس ، نوکریوں سے برطرفی اور پولیس کے ذریعے گرفتاری کی دھمکیوں کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے لیکن محکمہ ڈاک کے محنت کش ان تمام تر دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر پورے جوش و خروش سے اس ہڑتال میں شریک ہو رہے ہیں۔ پوسٹل ایکشن کمیٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ محکمہ ڈاک کی انتظامیہ ہمارے ان مسائل کو حل کر لیتی لیکن چونکہ اب یہ مسئلہ محکمہ ڈاک کی یونینز نے مشترکہ طور پر اٹھایا ہے اور اس کے لیے تحریک چلا رہی ہے اس لیے انتظامیہ یونینز کے دباؤ کے ذریعے ان مسائل کو حل کر نے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر اس بار یونینز کے دباؤ میں آکر ان مسئلوں کو حل کیا گیا تو اس سے محنت کشوں میں وہ اعتماد آئے گا جس سے آئندہ بھی وہ اپنے مسئلوں کے حل کے لیے تحریکوں میں اتریں گے۔ پوسٹل ایکشن کمیٹی کے قائدین نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے مطالبات سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ بلوچستان سے باہر دیگر صوبوں سے بھی محکمہ ڈاک کی یونینز نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ کو مراسلہ بھیجا کہ اگر بلوچستان کے محکمہ ڈاک کے ملازمین کے مسئلوں کو فی الفور حل نہیں کیا گیا تو وہ بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے۔ لیکن تمام تر رکاوٹوں کے باوجود محنت کش اپنے اتحاد کی وجہ سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*