کوئٹہ : پی پی ایچ آئی بلوچستان کے محنت کش سراپا احتجاج

رپورٹ: عبداللہ شاہوانی

پی پی ایچ آئی ایمپلائز یونین کے زیراہتمام پیپلزپرائمری ہیلتھ کیئرانیشیٹو(PPHI) ملازمین کے مطالبات کے حق میں بلوچستان ہائیکورٹ سے کوئٹہ پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس نے پریس کلب پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کر لی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پی پی ایچ آئی ایمپلائز یونین بلوچستان کے صوبائی صدر انور عادل خان، نائب صدر قادر داد، جنرل سیکرٹری اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے عبداللہ شاہوانی اور دیگر مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت ایک طرف سے ایک کروڑ نئی نوکریاں فراہم کرنے کا دعوی کر رہی ہے، دوسری طرف سے 12سال سے کنٹریکٹ پر محکمہ صحت کے ساتھ منسلک ملازمین کو مستقل کرنے کی بجائے انہیں بیروزگار کیا جا رہا ہے۔ یہ ملازمین اب روزگار کے لیے اپنی عمر کی بالائی حد کو عبور کر چکے ہیں اگر انہیں بیروزگار کیا گیا تو وہ نان شبینہ کے محتاج ہو جائیں گے۔ اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو ہم صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے اور کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ پی پی ایچ آئی کے ملازمین گزشتہ گیارہ سالوں سے بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں عوام کو صحت کی سہولیات پہنچا رہے ہیں۔ پی پی ایچ آئی بلوچستان چار سال پہلے رجسٹرڈ ہوئی لیکن ابھی تک ملازمین کو کمپنی کی طرف سے مراعات دستیاب نہیں ہیں۔ قلیل تنخواہ پرملازمین گزارہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں این سی ایچ ڈی، ایم این سی ایچ اور پیکج اساتذہ کو چند سال کے اندر مستقل کیا گیا۔ پی پی ایچ آئی خیبر پختونخواہ کے ملازمین کو حال ہی میں مستقلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں لیکن بلوچستان میں پی پی ایچ آئی ملازمین جن کی تعداد 1800کے لگ بھگ ہے تاحال مستقلی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی پی ایچ آئی ملازمین کو مستقل کرنے کے احکامات جاری کرکے ان میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*