لاہور: پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری نامنظور !

رپورٹ: مرکزی بیورو

پنجاب بھر میں گورنرپنجاب کی رسمی منظوری کے بعد صوبہ بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ بدنام زمانہ ’میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس آرڈیننس (MTI) کو پورے پنجاب میں نافذ کردیا گیا جس کے بعد تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کو نجی شعبے پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جائے گا، حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہسپتالوں کے تمام انتظامی اور مالی امور کو نجی شعبے کی طرز پر کاروباری اداروں کی شکل میں چلایا جائے گا۔ ان ہسپتالوں میں پرنسپل اور میڈیکل سپریٹینڈٹ کے عہدے ختم کر دیے گئے جبکہ ڈین، ہسپتال ڈائریکٹر، میڈیکل ڈائریکٹر اور نرسنگ ڈائریکٹر کے نئے عہدے متعارف کروائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی پنجاب بھر کے تحصیل و ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں تعینات 900 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دیا حالانکہ ان ملازمین کو قابل توسیع کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا۔ فارغ کئے جانے والے ملازمین میں ٹیکنالوجسٹس، فارماسسٹس، فزیوٹھراپسٹ، اسپیچ تھراپسٹ، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجسٹس شامل ہیں جبکہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنالوجسٹس، میڈیکل ایمیجن ٹیکنالوجسٹس اور منیجمنٹ آفیسرز و دیگر الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ 

حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کا عکس

دوسری جانب دیکھا جائے تو حکومتی اعدادوشما ر کے مطابق محکمہ صحت میں افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس کی مجموعی طور پر 150678 منظور شدہ پوسٹیں ہیں جن میں سے 31625 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پرائمری ہیلتھ میں سب سے زیادہ ایمرجنسی میڈیکل افسر کی 1140 میں سے932 سیٹیں خالی ہیں۔ جنرل کیڈرڈاکٹرز کی 5781 اور کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کی 2094 سیٹیں خالی ہیں۔درحقیقت ’انقلابی اصلاحات‘ اور’ہسپتالوں کی استعدادکار‘ بڑھانے جیسی اصلاحات استعمال کر کے عام انسانوں کی زندگیو ں پر وحشی حملے کو سنہری اوراق میں لپیٹنے کی کوشش کی گئی تاہم سچائی عیاں ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کو نجی شعبے کی طرز پر چلائے جانے سے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی عام آدمی سے دور ہو جائے گی۔ یہ عمل صرف سرمایہ داروں کو نوازنے کے سوا کچھ نہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے مرکزی چیئرمین نذرمینگل، مرکزی سیکرٹری جنرل قمرزمان خان، انور پنہور، ماجد اصغر، چنگیز ملک، غفران احدسمیت تمام مزدور رہنما ؤں نے پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس عوام دشمن آرڈیننس کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت پورے پنجاب میں میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کی گئی ہے۔ یہ آرڈیننس موجودہ تبدیلی سرکار کی جانب سے محکمہ صحت پر ایک قانونی ڈاکہ زنی ہے جس کے بعد پورے محکمہ صحت کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ اس سے غریب عوام پہلے سے ناکافی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہوجائے گی۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس عوام دشمن آرڈیننس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ PTUDC محکمہ صحت کے ملازمین کی نجکاری مخالف جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر فورم پر اس عوام دشمن قدم کے خلاف آوا ز اٹھائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*