ملتان: کڈنی سنٹر کی ٹرسٹ کے نام پر نجکاری نامنظور

رپورٹ: PTUDC   ملتان

پاکستان میں جہاں 82 فیصد لوگوں کے پاس صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے وہاں جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ خطے میں عام لوگوں کی اکثریت صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا ہیں اورعلاج کے پیسے نہ ہونے کی بنا پر غیر سائنسی طریقہِ علاج کرانے پر مجبور ہیں۔   2008   میں پنجاب حکومت نے ملتان میں گردے کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ملتان انسٹیٹیوٹ فار کڈنی ڈیزیز (MIKD) تعمیر کرنے کا اعلان کیا جو 2000 بستروں پر مشتمل اور جدید ترین مشینری سے آراستہ ہونا تھا۔ 9 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ہسپتال کی عمارت زیرِ تعمیر ہے اور مشینری بھی پوری نہ ہے۔  اس کڈنی سنٹر میں ملازمین کی تعداد 400 ہے جنہوں نے انتھک محنت کر کے ادارے کو فعال رکھا ہوا ہے اور جنوبی پنجاب کی وسیع آبادی کو گردوں کے امراض سے نجات دلانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔  اس ادارے کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز کے اجرا میں بار بار خلل ڈال کر ادارے اور ملازمین کو نااہل دکھانا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کڈنی سنٹر کے محنت کشوں نے اپنا خون پسینا ایک کر کے ادارے کو کامیابی کی راہ دکھلائی ہے اور جب ملازمین نے اپنی محنت کے بل پہ ادارے کو فعال کر لیا ہے تو دائیں بازو کی سرمایہ دارانہ نواز پنجاب حکومت اس ادارے کو ٹرسٹ کے نام پہ اس کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔   جیسا کہ ماضی میں اُنہوں نے چوہدری پرویز الہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیلوجی کے اندر دوپہر کے بعد ڈاکٹروں کے پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت دی ہوئی ہے جس سے علاج عوام کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے اور اس پر تضاد یہ کہ فیس ڈاکٹر اپنی جیب رکھتا ہے جبکہ مشینری سرکاری استعمال کی جاتی ہے۔   کڈنی سنٹر کو ٹرسٹ کے حوالے کرنا بھی نجکاری کے طرف پہلا قدم ہے جو کہ ملازمین کا معاشی قتل ہے اور غریب عوام کو صحت کی سہولیات سے دور رکھنے کی گھناؤنی سازش ہے۔

کڈنی سنٹر ملازمین ادارے کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت ٹرسٹ کو 50فیصد اضافی بجٹ ادا کرنے کی بجائے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 اضافہ کا فوری اعلان کرے۔  تاریخ گواہ ہے کہ ایک ادارے کے محنت کش کبھی بھی اپنی لڑائی انفرادی طور سے لڑ کر نہیں جیت سکتے۔   اس کے لیے دوسرے ہسپتالوں اور محکمہ صحت و دیگر سرکاری اداروں کے محنت کشوں کو بھی اس لڑائی میں شامل ہونا چاہیے۔  ایک کا دُکھ سب کا دُکھ کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مزدوروں،  طلبہ اور عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس لڑائی میں کڈنی سنٹر کے ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس جدوجہد میں شریک ہوں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام میں مزدوروں کو جتنی نوکریاں اور تھوڑی بہت صحت کی سہولیات میسر ہیں سرمایہ دار طبقہ اس عالمی معاشی بحران کے عہد میں محنت کشوں سے وہ بھی چھین لینا چاہتا ہے۔  اس لیے یہ لڑائی صرف ایک ادارے کی نجکاری کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف ہے جو عوام کا معاشی و سماجی قتلِ عام کر رہا ہے اور اس کو بدلنے کے لیے مزدوروں،  کسانوں،  خواتین،  طلبہ اور سماج کے دیگر مظلوم طبقات کو متحد ہوکر اس نظام کو بدلنے کی لڑائی لڑنا ہوگی۔

مطالبات

٭  ملتان انسٹیٹیوٹ فار کڈنی ڈیزیز(MIKD) کی نجکاری نامنظور
٭   ملازمین کا معاشی قتل نامنظور
٭  عوام کو مفت علاج مہیا کرنے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے عوامی سرمائے کا ناجائز استعمال بند کرو
٭  ایڈہاک اور ڈیلی ویج ملازمین کو فوری مستقل کیا جائے
٭  آبادی کے تناسب سے مزید سرکاری ہسپتال بنائے جائیں