پاکستان پوسٹ کی نجکاری اور محنت کشوں کی حالت زار

تحریر : نذر مینگل

پاکستان میں ریاست کے پالیسی ساز ادارے اور ان کے زرخرید دانشور آئے دن یہ راگ الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ملک کے تمام سرکاری ادارے اور صنعت غیر فعال اور بحران میں ہے اور اس لیے جتنی جلدی ہوسکے ان اداروں کو کوڑیوں کے مول بیچ دیا جائے۔ ان اداروں کی ناکامی کی وجہ اس ادارے کے محنت کشوں پر ڈال دی جاتی ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ یہ در اصل اس سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے جو عالمی سطح پر بحران کا شکار ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سامراج کی کاسہ لیسی اور ان کی غلامی میں مکمل طور پر پھنسا ہوا ہے۔ ملک آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ قرضے سخت سے سخت شرائط پر دیئے جا تے ہیں۔ یہ شرائط ریاستی اخراجات میں کمی اور ریاستی اداروں کی نجکاری ہے۔ پاکستان پوسٹ ایک اہم مواصلاتی اور پیغام رسانی کا ایک پرانا فلاحی ادارہ ہے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور پیغام رسانی کے دوسرے ذرائع کی موجودگی میں پاکستان پوسٹ اپنی پیغام رسانی کی اہمیت کھو رہی ہے اور موجودہ عہد کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہا۔اس کے پیچھے رہ جانے کی وجہ بھی حکمرانوں کی پالیساں اور بیوروکریسی اور انتظامیہ کی لوٹ کھسوٹ اور بد عنوانی ہے جس کی وجہ سے وہ محکمہ کو جدید خطوط پر استوار نہیں کر سکے۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں پاکستان پوسٹ کو الگ منسٹری بنا دیا گیا ۔ منسٹری کی پانچ سالہ کارکردگی تو صفر تھی لیکن وزیر نے ان پانچ سالوں میں منسٹری سے خوب مال بنا یا ۔ اس دوران کمیشن خوری، کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کا بازار خوب گرم تھا۔ پہلے یہ ادارہ سالانہ چار ارب روپے کا منافع کما کر دے رہا تھا اور اب یہ 25ارب روپے کے خسارے میں چلا گیا ہے۔ سابقہ حکومت میں محکمہ ڈاک کے کھربوں روپے کے اثاثوں کو ہڑپ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے پاکستان کے تمام ڈاک خانوں ، سرکاری کوارٹروں کی قیمتوں کا تخمینہ لگا یا گیا۔ نجکاری کے تمام انتظامات مکمل تھے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کے دن پورے ہوگئے اور ادارہ عارضی طور پر بچ نکلا۔ اب نواز حکومت محکمے کو بیچنے کے درپے ہے ۔ محکمے کے اثاثوں کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی سرمایہ دار اسے خرید سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان پوسٹ میں کم و بیش 22ہزار ملازمین مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ لیکن ملازمین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ملازمین کی تنخواہ باقی ادارو ں سے کم اور بنیادی مراعات بھی حاصل نہیں۔ مثلاً علاج معالجہ، بچوں کے لیے تعلیمی گرانٹ، سالانہ بونس، اوور ٹائم، پروموشن، سن کوٹہ۔ ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی صرف پانچ سے سات لاکھ ملتی ہے۔ یوٹیلٹی بلوں پر انسینٹو نہیں ملتی جبکہ بینک ملازمین کو ملتی ہے۔اس کے علاوہ سرکاری کوارٹروں کی شدید کمی ہے اور جن کو کوارٹر ملے ہیں ان کوارٹروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ رنگ و روغن اور مرمت نہیں کیا جار ہا ۔ پانی ، بجلی ، گیس اور سیوریج کا فقدان ہے۔ جبکہ سرکاری مکانات میں رہنے والے ملازمین کی تنخواہ سے مرمت اور رنگ و روغن کی مد میں ہر مہینے  5فیصد کٹوتی ہوتی ہے۔ ہاؤس ریکوزیشن حاصل کرنے کے لیے ملازمین کو سخت اذیت اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت کم ملازمین کو ہاؤس ریکوزیشن کی سہولت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں ادارے کے تمام پوسٹ آفسز کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ تمام اداروں کی طرح پاکستان پوسٹ کی بیوروکریسی بھی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے۔ ادارے کی تباہی میں بھی انہی کا ہاتھ ہے۔ غیر ضروری پوسٹیں، ان کی تنخواہیں، مراعات اور لوٹ کھسوٹ نے ہی ادارے کو اس حال میں پہنچایا ہے۔ ادارے کی افسر شاہی محکمے کو اپنی ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں اور ملازمین کو اپنا ذاتی غلام۔ معمولی باتوں پر چارج شیٹ اور شو کاز نوٹس دیا جا تا ہے۔ افسر اپنی تمام تر کوتاہیوں کا بوجھ ملازمین پر ڈال دیتے ہیں جسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ ڈاکخانوں میں کوئی سیکیورٹی گارڈ نہیں دیا جا تا ہے۔ اگر کوئی ڈکیتی یا کیش لُٹ لیا جائے تو اس کی تمام تر ذمہ داری اور ریکوری Postملازمین پر ڈال دیا جا تا ہے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جاتی ہے۔

پوسٹ آفس میں یونین کا کردار

پاکستان پوسٹ میں اس وقت پانچ  CBAs ہیں۔ جن میں ڈی جی آفس یونین، سرکل آفس یونین، ڈسٹرکٹ میل یونین، پی ایل آئی یونین اور نوپ یونین۔ ان میں سب سے بڑا یونین نیشنل آرگنائزیشن آف پوسٹل ایمپلائز(نوپ) ہے جو پورے پاکستان کے پوسٹ آفسز کے ملازمین کی یونین ہے۔ نوپ چاہے تو پورے پاکستان کے ڈاک خانوں کو جام کر سکتا ہے اور اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔ نوپ یونین کی قیادت پچھلے بیس سالوں سے گروپ بندی اور انتشار اور افسر شاہی کی غلامی کا شکا ر ہے۔ نوپ کو ایک ایسی قیادت نے یر غمال کیا ہوا ہے جسے عام ورکروں نے جمہوری طریقے سے ووٹ دے کر منتخب نہیں کیا ہے۔ نوپ کے تمام گروپوں کی لیڈرشپ چور دروازے سے غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے قابض ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کسی طرح کی سیاسی شعور اور محنت کشوں کی تحریک اور کاز سے مکمل نابلد ہیں اور صرف افسر شاہی اپنا ذاتی کام اور مفادات پور ا کرتے ہیں۔ نوپ کی یہ قیادت دوسرے گروپ کو زیر کرنے اور اپنے آپ کو بطور لیڈر منوانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات این آئی آر سی ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی ایک گروپ عدالت سے آرڈر لے کر آتا ہے کہ ہمار ا گروپ دو سال کے لیے منتخب ہوگیا ہے اور اب یونین کی بھاگ ڈور میرے ہاتھ میں ہے اور پھر دوسرے گروپ عدالت سے حکم امتناع لے آتا ہے۔ یہ نوراکشتی پچھلے بیس سالوں سے جاری ہے اور اس دوران کارکنوں کا چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں ہوسکا۔ عدالتوں کی حالت یہ ہے کہ ایک عدالت الیکشن کرانے کا فیصلہ دیتا ہے تو دوسری عدالت اس فیصلے پر حکم امتنا ع جاری کرتا ہے۔این آئی آر سی نے ٹریڈ یونین کاز کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ جو گروپ این آئی آر سی میں زیادہ رقم دیتا ہے اسی گروپ کو چور دروازے سے اقتدار دیا جا تاہے۔ اکثر اوقات جب کسی ادارے میں این آئی آر سی اپنی نگرانی میں ریفرنڈم کراتا ہے اور جیتنے والے نوٹیفیکشن جاری کرتا ہے تو ہارنے والا گروپ اسی این آئی آر سی میں کیس دائر کرتا ہے کہ ریفرنڈم میں دھاندلی ہوئی ہے۔ این آئی آرسی گروپ سے پیسے لے کر اپنے ہی نوٹیفیکیشن کے خلاف حکم امتناع جاری کرتا ہے۔اس صورت حال میں اب ناگزیر ہوگیا ہے کہ پوسٹ آفس میں ایک نیا یونین رجسٹر کرایا جائے کیونکہ نوپ سے تمام کارکن دل برداشتہ ہوچکے ہیں۔ وہ نوپ کو خیر باد کہہ کر نئی یونین میں جوق در جوق شامل ہوں گے۔ پھر نئی یونین کو ریفرنڈم کے لیے این آئی آر سی میں جانا ہوگا۔ یہی ایک راستہ ہے۔ نوپ میں نہ کوئی الیکشن کے لیے تیار ہے نہ کسی کو آگے آنے دیتے ہیں اور نہ ہی نوپ کے تمام گروپس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ محنت کشوں کی طاقت سے کارکنوں کے مسائل کو حل کر سکے ، جدوجہد کرے اور نجکاری کا مقابلہ کر سکے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو حکمران طبقہ ادارے کو آسانی سے نجکاری میں دے گااور کوئی مزاحمت بھی نہیں ہوگا۔نجکاری کے بعد بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹیاں ہوں گی۔ کسی کو کوئی خاطر خواہ پیکج بھی نہیں ملے گا۔ ہمارے سامنے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی صورت حال واضح ہے۔ نجکاری کے بعد ملازمین کو VSSکے تحت بڑا پیکج دیا گیا ۔ اس کے باوجود نکالے گئے ملازمین آج در بدر ہیں اور معاشی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان پوسٹ کے محنت کشوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے خصوصاً کراچی ، حید رآباد، لاہور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں کے کارکن بلاخوف جھجک آگے بڑھ کر یونین کی بھاگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے نوپ کے کاسہ لیس مفاد پرست بدعنوان موجودہ قیادت کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد، اتفاق ،جرات پیدا کرکے اپنے حقوق کے لیے جد وجہد کو تیز کریں۔

مطالبات:

  *محکمہ ڈاک اور دیگر اداروں کی نجکاری نامنظور، نجکاری پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔ ماضی میں جن اداروں کو نجکاری میں دیا گیا تھا، انہیں دوبارہ قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔

* پاکستان پوسٹ کے غریب ملازمین کے گونا گوں فوری حل طلب مسائل کو فی الفور حل کیے جائیں۔

  *محکمہ ڈاک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ڈاک کی ترسیل کو بروقت اور تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

* پرائیویٹ کوریئر سروسز کی لائسنسوں منسوخ کیا جائے۔

* ملازمین کی گریجویٹی اور پینشن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ سن کوٹہ کو بحال کیا جائے