محکمہ ڈاک پر نجکاری کا نیا وار

تحریر: نذر مینگل

محکمہ ڈاک عوامی خدمت کا فلاحی ادارہ ہے۔ پیغام رسانی کا ایک اہم ادارہ ہونے کے سبب اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ اس ادارے کا انفراسٹرکچرہرگاؤں اور شہر میں پھیلا ہوا ہے، اس لیے ماضی میں عوام کو ان کی دہلیز پران کے سامان، پیسے اور خطوط پہنچ جایا کرتا تھا۔ جس سے محکمہ ڈاک کے ملازمین کوعوام کی نظروں میں احترام اورعزت حاصل تھا۔ جوں جوں دنیا میں نئی تیز تر ٹیکنالوجی اورجدید مواصلاتی آلات متعارف ہوئے تو حکومتوں نے محکمہ ڈاک کو جدید دور کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں کیا، جس کی وجہ سے عوام کی نظروں میں اس ادارے کی اہمیت کم ہونا شروع ہوئی۔ ڈاک خانے کی جگہ پرائیویٹ کوریئر سروسز اور فرنچائز پوسٹ آفسز نے لینا شروع کیا۔

آج تحریک انصاف کی حکومت اپنی حکومت کو بچانے اور طوالت دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے سربسجود ہوگئی ہے اور آئی ایم ایف سے قرضوں کے بدلے ملک کے بچے کچے اہم قومی اداروں کو نجکاری میں دینے جارہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو نجکاری میں دینے سے پہلے ان اداروں کو ہر سطح پر مفلوج کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ ادارے چلنے سے قاصر ہیں، ادارے میں ملازمین کی بھرمار ہے۔ لہٰذا ان اداروں کو ختم کیا جائے، ملازمین کی چھانٹیاں کی جائیں، مستقل کی بجائے عارضی ملازمین بھرتی کیے جائیں۔ محکمہ ڈاک کو حکمرانوں نے کس طرح تباہ و برباد کیا اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے؛

• پوسٹل لائف انشورنس جو مالی طورپر محکمے کا سب سے مضبوط شعبہ تھا اسے ایک نجی کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔

• سیونگ بینک جو عوام کی لاکھوں پالیسیاں چلا رہا تھا اسے ادارے سے لے کر نیشنل سیونگ بینک کو دے دیا گیا۔

• مختلف اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین جیسے ایف سی، پی ٹی سی ایل، پوسٹ آفس وغیرہ کے پینشن کی ادائیگی محکمہ ڈاک کر رہی تھی اوراس سے محکمہ کو آمدنی مل رہی تھی۔ اب یہ سلسلہ ختم کرکے تمام تر پینشن کی ادائیگی نجی بینکوں کو منتقل کیا گیا ہے۔

• پچھلے پانچ سالوں سے ادارے میں نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جو ملازمین ریٹائر ہو رہے ہیں ان کی جگہ بھرتیاں نہیں کی جارہی ہے۔ 2646خالی اسامیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ بیس سال سے زائد سروس کرنے والے ملازمین کے کوائف تیار کرکے انہیں جبری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ 

• ملازمین کے تمام حقوق چھینے جارہے ہیں۔ ہفتے کی چھٹی نہیں دی جارہی ہے اور اوقات کار کو بڑھا دیا گیاہے۔

• ادارے کی تمام تر عمارتیں رنگ و روغن اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔

محکمہ ڈاک کے ساتھ ساتھ دیگر ادارے بھی اسی صورت حال کا شکار ہیں۔ تمام ترعوامی نمائندے اور سیاسی پارٹیاں چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں دراصل اس نظام کے غلام ہیں کیونکہ ان کے مفادات اس سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ محکمہ ڈاک پر ہونے والے تمام تر حملوں کے بارے میں سی بی اے یونین کا اس دوران کیا کردار رہا ہے؟ اس وقت ادارے میں دو یونین رجسٹرڈ ہیں؛ نیشنل آرگنائزیشن آف پوسٹل ایمپلائز اور پیپلز ایمپلائز یونٹی۔ نیشنل آرگنائزیشن آف پوسٹل ایمپلائز 1985ء سے اب تک محکمہ ڈاک کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم ہے اور ملازمین کی نمائندگی اورحقوق کی جدوجہد میں شاندار ماضی کا حامل رہا ہے۔ جنرل مشرف کے دور حکومت میں یونین سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ 2009ء میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یونین سرگرمیاں بحال کر دی گئی۔ اس دوران چند مفاد پرست عناصرانتظامیہ کے کاسہ لیس نام نہاد یونین عہدیداروں نے بغیر الیکشن کے یونین کو یرغمال کردیا۔ یہی مفادپرست ٹولہ آج تک یونین کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ہر دو سال بعد آپس میں بیٹھ کرمرکزی کابینہ تشکیل دیتے ہیں اور این آر سی کے ساتھ مک مکا کرکے جعلی کابینہ کی منظوری لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر 13 فروری 2022ء کو مذکورہ ٹولے نے جعلی کابینہ کی تشکیل کی ہے جسے محکمہ ڈاک کے ملازمین نے مسترد کیا ہے۔ 2009ء سے لے کر آج تک مذکورہ بالا ٹولہ اپنے ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے۔ اب جبکہ حکومت نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور نجکاری کی طرف لے جارہی ہے تو مذکورہ ٹولہ اس حوالے سے نہ کوئی لائحہ عمل رکھتا ہے اور نہ ہی اپنی چھوٹی سوچ سے اس بارے میں سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ادارہ نہیں رہے گا تو یونین والے بھی نہیں رہیں گے۔

اس تمام تر صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ مخلص ٹریڈ یونین دوستوں نے ہائی کورٹ میں گراس روٹ پر الیکشن کرانے کے لیے پٹیشن دائر کردی ہے۔ 9 مارچ کو ممکن ہے کہ رجسٹرار این آر سی گراس روٹ پر الیکشن کرانے کا آرڈر جاری کرے۔ گراس روٹ پر الیکشن سے کارکنوں کو جمہوری حق استعمال کرنے اور اپنی منشا کی قیادت کو منتخب کرنے کا موقع ملے گا۔