کوئٹہ: بلوچستان کی 62 یونینز پر غیر قانونی پابندی کے خلاف احتجاج کا اعلان

رپورٹ: مرکزی ترجمان، بلوچستان لیبر فیڈریشن

بلوچستان لیبر فیڈریشن کی جانب سے بلوچستان میں لیبرقوانین پرعمل نہ ہونے، صوبے کی 62 یونینز پرغیر قانونی پابندی، ڈی جی لیبر بلوچستان، رجسٹرار ٹریڈ یونین بلوچستان کے مزدور حقوق کے مخالف اقدامات و رویے اور مزدوروں کے حوالے سے قوانین کی غلط تشریح کرنے کے خلاف احتجاج کےحوالے سے ڈی جی لیبر بلوچستان کی وضاحت کو لغو اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی لیبرموصوف بلوچستان ہائی کورٹ کی جس پٹیشن کا حوالہ دے رہے ہیں۔ اس میں عدالت نے یہ حکم دیا تھا کہ جن ملازمین پر ای اینڈ ڈی رولز لاگو ہوتے ہیں، وہ یونین سازی نہیں کر سکتے۔ ان یونینز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے جس کے تحت بلوچستان انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ ( بی آئی آر اے) 2015 کے تحت رجسٹرار ٹریڈ یونین کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی بھی رجسٹرڈ یونین کو ڈی رجسٹرڈ کریں، کسی بھی یونین پر پابندی لگانے اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لئےمو صوف ڈی جی لیبر اور رجسٹرار ٹریڈ یونین کو قانون کے مطابق لیبر کورٹ سے رجوع کرکے فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی یہی قانون ہے لیکن اس موصوف ڈی جی نے بلوچستان میں غیر قانونی طور پر 63 یونیز پر اپنے ڈمی رجسٹرار کے ذریعےبلوچستان میں یونین کی رجسٹریشن کی منسوخی کے آرڈرز جاری کرائے۔ اس حد تک حکومت بلوچستان کی چاپلوسی میں چلے گئے کہ ایسی یونینز جن پر ای اینڈ ڈی رول لاگو نہیں ہوتا تھا، ان کی رجسٹریشن بھی منسوخ کر کے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا ثبوت دیا۔ جس کے صلہ میں اس نااہل آفیسر کو تین تین پوسٹوں پر تعینات کر کے نوازا جا رہا ہے۔

کیا یہ ڈی جی لیبر اور محکمہ لیبر بلوچستان کے حکام کی نا اہلی نہیں کہ جب اٹھارویں ترمیم آئی تو سارے صوبوں نےلیبر قوانین بنا لیے محکمہ لیبر بلوچستان نے آئی آر اے پنجاب کو کاپی کیا اور اس ڈرافٹ میں صرف پنجا ب کو کاٹ (فلوڈ) کر کے بلوچستان انڈسٹریل ایکٹ لکھا اور قانون کے اندر اکثر جگہ پنجاب لکھا ہوا رہ گیا اور این آئی ر سی کا چیپٹر بھی مرکزی قانون کا ہی چھپ گیا۔ 2010 سے لیکر 2015 تک یہی قانون رہا اور یہ ایک ایسا مذاق بنا جس سے وفاق سمیت دیگر صوبوں میں بلوچستان کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ لیکن مجال ہے کہ محکمہ لیبر بلوچستان کے ڈی جی سمیت ان نا اہلوں کوکچھ محسوس ہوا ہو۔ اس غلط قانون کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کے قانون دان اور بڑے وکلا کہتے تھے کہ سنا ہے بلوچستان حکومت نے 11 روپے کا نوٹ چھاپا ہے، جس پر ہمارے وکلا وضاحت کرتے کہ نہیں ایسا نہیں ہے، تو وہ اس لیبر قانون کا حوالہ دیتے تھے اور خوب قہقہے لگاتے تھے۔ جب بلوچستان حکومت کو یہ غلظ قوانین درست کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اسلام سے ماہرین قانون دان وزرا، سیکرٹریز کو کراچی میں عالی شان پیکجز دیکر اکھٹا کرنا پڑا۔ ان تمام افراد نے بلوچستان کے محنت کش طبقہ اور ملازمین کیلئے قانون سازی کے حوالے بلوچستان آنے کی زحمت تک نہیں کی۔

بلوچستان میں یونینز کی رجسٹریشن کی منسوخی کوفرسٹ لیبر کورٹ بلوچستان اور لیبر اپیلٹ کورٹ بلوچستان نے معطل کرتے ہوئے بی آئی آر اے 2015 کے تحت قانونی کارروائی کے لئے لیبر کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب جب تک لیبر کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک تمام یونینز بحال ہیں لیکن اسکے باوجود یہ مزدور دشمن و نا اہل ڈی جی لیبر اور رجسٹرار ٹریڈ یونینز مختلف صوبائی اداروں کے سربراہان کو فون کر کر کے کہتا ہے کہ تمام سرکاری اداروں کی یونینز ختم ہیں اور اس کی آڑ میں لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے۔ اس حوالے سے اب بلوچستان لیبر فیڈریشن اس احتجاجی تحریک پر مجبور ہوئی ہے اور اس کے خلاف فیڈریشن جلد وائٹ پیپر جاری کرے گی، اس کی ٹرانسفر اوراس کے خلاف تحقیقات شروع ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔  اس احتجاج کو پورے بلوچستان تک وسعت دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*