کوئٹہ، کراچی اور سیہون میں آئی ایم ایف کے بجٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

رپورٹ: PTUDC

کوئٹہ: پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے زیر اہتمام بجٹ کے خلاف مظاہرے

پاکستان ورکرزکنفیڈریشن بلوچستان اور اتحادی تنظیموں کے زیر اہتمام بجٹ 2020-21ء کے خلاف مورخہ 16 جون کو کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سے ایک ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراﺅں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ جس میں محنت کشوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے کارکنان نے بھی اپنے پلے کارڈز اور نعروں کے ساتھ شرکت کی۔ جلسے کی صدارت پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے صوبائی صدر سلام بلوچ نے کی۔ اس کے علاوہ جلسے سے آل بلوچستان کلرکس اینڈ ٹیکنیکل ایمپلائز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر صدر خان رئیسانی، متحدہ لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر علی بخش جمالی، ریلوے ورکرز یونین کے لال جان بلوچ، PTUDC کے غلام رسول ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے صدر منظور بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ اس بجٹ کا آغاز ہی غریب ملازمین اور محنت کشوں پر حملے سے کیا گیا۔ ہم اس مزدور کش بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ حکمرانوں کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے مزید کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ ملک کو عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تمام اداروں کو اونے پونے بیچ کر نجکاری کی جارہی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افراط زر کو مد نظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں 100فیصد اضافہ کیا جائے۔ بصورت دیگر پورے پاکستان میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔

کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر شہروں مستونگ، خضدار، اوتھل، حب، تربت، پنجگور، نوشکی، خاران، سبی، نصیر آباد، جعفر آباد، لورالائی، ژوب، پشین اور دیگر اضلاع میں بھی پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے زیر اہتمام بجٹ کے خلاف پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

کراچی: عوامی ورکرز پارٹی اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

مورخہ 16 جون کو عوامی ورکرز پارٹی اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن نے نجکاری، محنت کشوں کی برطرفیوں اور ان کے حقوق پر بجٹ کے ذریعے سرمایہ دار طبقہ کے حملوں کے خلاف کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ شرکا نے  پی ٹی آئی سرکار اور سامراج کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔ ظلم کے خلاف دیگر نعروں کے علاوہ “مزدور مزدور، بھائی بھائی” کے نعرہ کے زریعہ مزدور یکجہتی اور اتحاد کا پیغام دیا گیا۔

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کراچی کی روح رواں کامریڈ کنیز فاطمہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ محنت کش ان سرمایہ دار پارٹیوں کو ووٹ دینا بند کریں اور آپس میں اتحاد قائم کریں تاکہ اس نظام کو بدلا جا سکے۔ انہی کی تنظیم کے چئیرمن سید قاسم شاہ نے پی ٹی آئی سرکار کو نجکاری اور برطرفیوں کے معاملہ پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کی نااہلی پر بھی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم سارا دن کورونا وائرس پر الٹی سیدھی باتیں بولتا رہتا ہے، کیا یہ ڈاکٹر ہے؟ جو ایک کام اسے آتا تھا، یعنی کرکٹ، وہ بھی اپنی ٹیم کو نہ سکھا سکا۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے ساتھی اور پاکستان اسٹیل ملز کے ملازم کامریڈ ذکااللہ نے کہا کہ ایک طرف دنیا کے دیگر ممالک میں کورونا وبا کے سبب صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے مگر پاکستان کی حکمران جماعت یعنی پی ٹی آئی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ انسانیت دشمن سرکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح کورونا وبا کے شروع ہوتے ہی مزدور طبقہ پر بڑے حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں اسٹیل ملز کی نجکاری سے لے کر دیگر اداروں کے ملازمین بشمول ہیلتھ ورکرز کی برطرفیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدور طبقہ کی مشترکہ جدوجہد ہی ہمارے دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کی کامریڈ طاہرہ طفیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کو شوق نہیں ہے کہ سڑکوں پر بیٹھے رہیں۔ یاد رہے کہ احتجاج کے دوران سڑک کے دوسرے پار گرانڈ ہیلتھ الائنس کے ہیلتھ ورکرز نے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا تھا۔ کامریڈ طاہرہ نے تمام ہیلتھ ورکرز کے لئے وبا کے دوران ہیلتھ رسک الاؤنس کا مطالبہ کیا اور نرسز کے اسٹائپینڈ کا بھی مطالبہ اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سندھ حکومت کے پاس جو اتنا پیسہ آیا وہ کہاں گیا؟ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ہیلتھ ورکرز اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے کووڈ 19 میں پازٹو ہوتے جا رہے ہیں مگر ان کی جانوں کو خطرہ ہونے کے باوجود انہیں حفاظتی آلات بھی فراہم نہیں کئے جا رہے۔ ہمیں سپاہی تو کہا جا رہا ہے مگر ان سپاہیوں کو کوئی مراعات نہیں دی جا رہیں۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ ہم لوگ تب تک یہیں بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔

عوامی ورکرز پارٹی کی منروا طاہر جنہوں نے مظاہرہ کی ماڈریشن کی ذمہ داری نبھائی، انہوں نے کہا کہ نجکاری، برطرفیاں اور عوام دشمن بجٹ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں اور وہ منصوبہ ہے جو کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسی سامراجی قوتوں کو خوش کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس وقت نظام کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور اس بحران کے نتیجہ میں دنیا بھر میں تحریکیں ابھر رہی ہیں اور پھر وہ سیاہ فام افراد کی تحریک ہو یا پھر شاہین باغ کی تحریک، ہمیں ان تمام تحریکوں سے ہمت ملتی ہے۔

پاکستان ریلوے ورکرز یونین کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری صاحبزادہ امجد علی خان نے کہا کہ تمام اداروں کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن پر چلایا جا رہا ہے اور ریلوے کو بھی تباہی کے دہانے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منافق حکومت عوام بالخصوص محنت کش طبقے کی قاتل ہے اور اپنے بیرونی و اندرونی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ایپکا کراچی ڈویژن کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ

آل پاکستان کرکس ایسوسی ایشن ایپکا کراچی ڈویژن کے زیراہتمام کراچی پریس کلب پر بھرپوراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کا ملازمین دشمن وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے حکمران اور اداکین اسمبلی جب چاہے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کر لیتی ہے لیکن جب ملازمین کی تنخواہوں کا ذکر ہو ان کے خزانے خالی ہو جاتے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی سندھ کے ملازمین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں (100) فیصد اضافہ کیا جائے۔ میڈیکل الاؤنس کے بجائے میڈیکل کی سہولت مہیاکی جائے کرایہ الاؤنس میں اضافہ کیا جائے اور تمام ایڈ ہاک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے اور اسکیل اپ گریڈ کئےجائیں۔ یوٹیلیٹی الاؤنس تمام ملازمین کو دیے جائیں۔

آخر میں جناب شریف زادہ نے مطالبہ کیا وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومت نے اگر تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا تو وفا قی پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے۔

سیہون میں پی ٹی یو ڈی سی اور بی این ٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ہ بجٹ کے خلاف مورخہ 17 جون کو سیہون میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC اور بیروزگار نوجوان تحریک BNT کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے BNT رھنما سکندر اوٹھو اور کامريڈ عارب ملاح نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے جو بجٹ پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف سرمایہ داروں کا ہی فائدہ ہے، جب کہ اس ملک کے کسانوں، محنت کشوں، بیروزگاروں اور کچلے ہوئے طبقات کے مفاد میں کوئی ایک بھی فائدہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس ملک کے محنت کشوں خاص کر دہاڑی دار مزدور فاقہ کشی کے شکار ہو گئے ہیں اور ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم تنخواہ دگنی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ  اور بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے یا 20 ہزار روپے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔  ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم محنت کشوں کو متحد ہو کر سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا پڑے گا۔

 

مزید پڑھیں:

وفاقی بجٹ کے خلاف محنت کشوں کے احتجاجات کا آغاز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*