پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

سیہون

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین اور انقلابی رکشہ یونین سیہون کے جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف دھمال چوک سے پریس کلب سیہون تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے، جس پر مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف نعرے درج تھے۔

پریس کلب پر پہنچ کر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے ملکی تاریخ میں پیٹرولیم قیمتوں میں بلند ترین اضافہ یعنی 60 روپے فی لیٹر، اضافہ کر کے محنت کشوں سے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے اور ان سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے صرف ٹرانسپورٹ کی قیمتیں نہیں بڑھے گی بلکہ ہرایک شے کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے محنت کش پہلے ہی بیروزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس تیل کی قیمتوں میں اضافہ برداشت سے باہر کردے گا۔

مقررین نے وفاقی حکومت کے طرف سے پيش کردہ بیان کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ آئی ايم ايف اور عالمی بینک سے لیے ہوئے ایک ڈالر قرض کے بدلے چودہ ڈالر لے چکے ہیں اور پھر بھی 248 ارب ڈالر قرض باقی بتایا جا رہا ہے۔ اس لئے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ تمام عالمی قرضہ جات ضبط کرکے اپنے عوام پر خرچ کیے جائیں. انہوں نے وفاقی حکومت سے تیل کی بڑھائی ہوئی قیمتیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مقررین میں سکندر اوٹھو، اقبال میمن، عاشق چانڈیو ،مشتاق سيلرو اور انور پنھور نے شامل تھے۔

بھان سیدآباد

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین اور انقلابی طلبہ محاذ RSF کی جانب سے  60 روپے فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سول ہسپتال سے پریس کلب بھان سیدآباد تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس پر مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف نعرے درج تھے۔ وہ مہنگائی اور آئی ايم ايف کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

پریس کلب پر پہنچ کر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے ملکی تاریخ کا پیٹرولیم قیمتوں میں بڑے سے بڑا یعنی ایک ہفتے میں ساٹھ روپے فی لیٹر اضافہ کر کے محنت کشوں سے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے اور ان سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے. انہوں نے کہا کہ یہاں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے صرف ٹرانسپورٹ کی قیمتیں نہیں بڑھے گی بلکہ ھر ایک چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے محنت کش پہلے ہی بیروزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس تیل کی قیمتوں میں اضافہ برداشت سے باہر کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت محنت عوام سے سالانہ 7000 ارب روپے ٹیکس کی مد میں لینے کے باوجود عوام پر ایک روپے خرچ نہیں کرتی جو بڑے سے بڑی زیادتی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے تیل کی بڑھائی ہوئی ساٹھ روپے فی لیٹر اور آٹھ روپے بجلی فی یونٹ کی قیمتیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا. مظاہرین سے شاہ محمد پنھور، اقبال میمن، بدرالدین پنھور، سجاد شاھانی طارق پنھور، پریل چنہ اور انور پنھور نے خطاب کیا۔

کوٹ ادو

پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور موجودہ حکومت وسابقہ حکومت کی آئی ایم ایف پالیسیوں کے خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور انقلابی طلباء محاذ نے پریس کلب کوٹ ادو کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کامریڈ ندیم پاشا ،کامریڈ علی اکبر اور کامریڈ اویس بھٹہ نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ معاشی بحران دراصل پاکستان کے حکمران طبقات کی تاریخی نا اہلی کی غمازی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس عالمی مالیاتی اداروں کی گماشتگی کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ انہی حکمران طبقات کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کے محنت کشوں اور کسانوں کی پیداکردہ دولت صرف میٹھی بھر اشرافیہ کی تجوریوں میں بھر چکی ہے ۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے ایک بار پھر محنت کش عوام کی قربانی دیکر قرضے ادا کیئے جارہے ہیں، جبکہ ان قرضوں اور جاری معیشت سے پاکستان کی کل دولت کا اسی فیصد سے زائد صرف پانچ فیصد اشرافیہ کی ملکیت ہے۔جس حکمران طبقے کی پالیسیوں نے عوام کو غلام بنا رکھا ہے اس نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہی محنت کش طبقے کا فریضہ ہے جو جلد یا بدیر بالآخر محنت کش طبقے نے ادا کرنا ہے، ہماری جدوجہد کا مقصد محنت کش طبقے کی نجات کے لئے انکی اپنی انقلابی پارٹی کی تعمیر ہے اس کے علاؤہ سرمایہ دارانہ نظام کی زنجیروں کو نہیں توڑا جاسکتا ۔جیت محنت کش طبقے کی ھوگی ۔سرمایہ دارانہ نظام اب بھوک بیماری مفلسی اور آفات کے کچھ دینے کے قابل نہیں ہے۔

خیر پور ناتھن شاہ

خیر پور ناتھن شاہ میں بھی پی ٹی یو ڈی سی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔