دادو: پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

رپورٹ: PTUDC دادو

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے مورخہ 13 دسمبر2020 کو پریس کلب دادو کے سامنے پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری اور 4554 ملازموں کی جبری برطرفیوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کراچی کے قیام کا مقصد اس زرعی ملک کو ایک صنعتی ملک بنانا تھا اور اس سلسلے میں مزدوروں نے یہ ثابت بھی کرکے دکھایا۔ ان کی ہی زمین پر 4000 ایکڑز پرمشتمل ایک مکمل انفراسٹرکچر کے ساتھ نیشنل انڈسٹریل پارک بھی بنایا گیا۔ جہاں اسٹیل فیکٹریز کے ساتھ بڑا کار مینوفیکچرنگ پاک سوزوکی موٹرز اور یاماہا موٹرز کے ساتھ دیگر ادارے بھی قائم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسٹیل مل اپنی سالانہ پیداوار 11لاکھ ٹن سے بڑھ کر 33 لاکھ ٹن فولاد پیدا کرنے کی اہلیت کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک اس ملز کو ناکام ثابت کرنے کے لیے مختلف سازشیں شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملز میں ایک طرف 24000 ملازمین کی خاموشی کے ساتھ چھانٹی شروع کی گئی اور دوسری طرف اسٹیل ملز کی پیداوار کو بڑھانے کی بجائے اس کی پیداوار کو کم کرنے کی بھی سازشیں جاری رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملز میں کام کرنے والے مزدور دن رات کام کرتے ہوئے اس ملز پر مجموئی لاگت 25ارب روپے جو ملکی بینک سے قرض لیا گیا تھا نہ صرف وہ واپس کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو 114 ارب روپے ٹیکس کی مد میں بھی جمع کرائے۔ اتنی کثیر کمائی دینے والے اس اسٹیل ملز کی پیداوار کو بغیر کسی سبب کے 10جون 2015ء کو بند کیا گیا۔ اسٹیل ملز کو ملکی وسائل سے چلایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے سندھ کے علاقے تھر اور بلوچستان کے علائقوں کوہلو اور دالبدین سے ملنے والا کچا لوہا جو ہنگری اور آسٹریا سے ملنے والے کچے لوہے سے بھی بہتر معیار کا ہے کو بھی جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح سوویت یونین نے کئی ممالک جیسا کہ بھارت کو دو ملیں، ایران، ترکی اور مصر کو بھی ایک ایک ملز دی تھی جو آج تک کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں اور ان کی پیداوار کو 33لاکھ ٹن تک بڑھایا بھی گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین کو فی الفور بحال کرکے، اس اسٹیل ملز کو دوبارہ چلانے کے لیے موثر اقدام اٹھائے جائیں، بصورت دیگرPTUDC کی جانب سے پورے ملک میں نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے، جس میں اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا بھی شامل ہوگا۔

مظاہرے سے محمد موریل پنہور، ضمیر کوریجو، راجہ رفیق پنہور، اعجاز بگھیو، حنیف مصرانی، صدام حسین خاصخیلی، سعید خاصخیلی، انور پنہور اور دیگر نے خطاب کیا۔