لاہور: سوئی گیس کمپنیوں کی مجوزہ تقسیم اور نجکاری کے خلاف احتجاج

رپورٹ: PTUDC لاہور

کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) نے  دو سرکاری گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو مختلف اداروں میں تقسیم کرنے اور ان کی نجکاری کی باقاعدہ منظوری دے دی۔  پٹرولیم ڈویژن کے نئے وضع کردہ گیس اصلاحات کے ایجنڈے میں مسابقتی عمل کے ذریعے ’لین دین کے مشیر‘ کی تقرری شامل ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک آزاد نیشنل گیس ٹرانسمیشن کمپنی (این جی ٹی سی)  کی تشکیل دینا ہے جو موجودہ / نو تشکیل شدہ گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کے لئے مشترکہ کیریئر کے طور پر کام کرے گی اور ساتھ ہی اوگرا کے ذریعہ جاری کردہ تھرڈ پارٹی تک رسائی کے قواعد / ضابطوں کے تحت کام کرے گی، ذرائع کے مطابق کمپنی گیس کی خرید و فروخت کی بجائے صرف گیس کی نقل و حمل کا پابند ہوگی۔ جبکہ ان کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔

ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل دونوں کو چھوٹے کاروباری یونٹوں / تقسیم کار کمپنیوں کے آپریشن کے لئے متعدد گیس کی تقسیم کار کمپنیاں متفقہ اصولوں کے ساتھ بنیں گی۔ آبادی، نیٹ ورک، کثافت، گیس کی طلب، کام کا بوجھ اور انتظامیہ / نگرانی اور نو تشکیل شدہ گیس کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی پائیداری کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کمپنیاں تکنیکی اور معاشی بنیادوں پر قائم کی جائیں گی۔ گیس اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے راستے کے مطابق ، گیس کی فروخت کی قیمتوں کے لئے وزن میں اوسط قیمت کی مساوات یا کوئی اور مناسب طریقہ کار تیار کیا جائے گا اور اسی کے ساتھ بیک وقت عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت دونوں اداروں کے بڑے حصص دار ہے۔

دوسری جانب  سوئی گیس کی ایمپلائز یونین نے واضح کیا ہے کہ  نجکاری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ یونین کی احتجاجی کال پر کمپنی کے ہیڈ آفس، ریجنل دفاتر، سب آفسز میں ملک گیر گزشتہ تین روز سے احتجاجی ریلیوں کا انقعاد کیا جا رہا ہے۔ جن میں سوئی تا سوات محکمہ کے ملازمین نے تمام تفرقات کو بالائے طاق رکھ کر بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کا مقصد پیٹرولیم ڈویژن اور وزارت کی طرف سے محکمہ کی مجوزہ ان بنڈلنگ اور ذیلی چھوٹی تقسیم کار کمپنیاں بنانے کی اطلاعات پر CBA کی طرف سے حکومت کو بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانا تھا۔ 26 اکتوبر بروز پیر سے تمام دفاتر میں صبح 8 بجے سے 10 بجے تک 2 گھنٹے کے لئے دفاتر کی علامتی تالا بندی کی جا رہی ہے اور اس دوران دفتری امور معطل رہے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی منافع بخش ادارہ کا بٹوارہ اور نجکاری ایک انتہائی نامعقول اور غیر منصفانہ منصوبہ ہے، یہ کہ حکومت و پیٹرولیم ڈویژن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، سوئی گیس کے ملازمین کے ساتھ  کھڑی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ایما پر ملک کے تمام منافع بخش اداروں کوسرمایہ داروں کی لوٹ مار کے لئے نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہ رہی ہے جو کہ ان کی اصل واردات کو ظاہر کرتا ہے۔ ان فیصلوں سے جہاں محکمے کا ملازم متاثر ہو گا وہی پر عوام کی اکثریت بھی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے گیس جیسی ضرورت سے بھی محروم ہو جائے گی۔ اس سے پہلے سول ایوی ایشن، ریلوے سمیت دیگر وفاقی اداروں کی تقسیم کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ او جی ڈی سی ایل جو کہ ملک میں آئل اور گیس کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی رکھتا ہے اور مسلسل منافع بخش ادارہ ہے اس کے شیئرز بھی نیلامی کے لئے پیش کئے جا چکے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام محنت کش اور ملازمین متحد ہو کر حکومت کی مکروہ پالیسی کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کریں۔ اس جدوجہد کے نقطہ آغاز کے طور پر آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ حکومت معاشی حملے کم نہیں کرے گی بلکہ ان میں مزید تیزی آئے گی، ہم محنت کشوں کو بھی متحد ہو کر ان کا بھرپور جواب دینا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*