نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے سابق صدر ’رضا خان سواتی‘ کی جبری برطرفی نامنظور!

رپورٹ: PTUDC سندھ

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے!

نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے سابقہ صدر رضا خان سواتی کو محنت کشوں اور نادرا ملازمین کے حقوق کی مسلسل جدوجہد کی پاداش میں ادارے سے ایک بار پھر جبری طور پر برطرف کردیا گیا ہے۔ یہ ٖفیصلہ ایک سال کی طویل انکوائری کے بعد اچانک 16 جولائی کو انتظامیہ کی جانب سے ایسے حالات میں جاری کیا گیا جب کورونا وبا کی وجہ سے ملک کے اکثریتی محنت کش طبقہ بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ حالیہ فیصلہ موجودہ حکومت کی نااہلی اور مزدور دشمن اقدامات کا واضح اظہار ہے۔ ملک بھر میں محنت کشوں پر تیز ہوتے ہوئے حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت اور نادرا انتظامیہ کو محنت کشوں کے روزگار کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اپنی ہٹ دھرمی اور فسطائی طرز حکمرانی کے ذریعے ہر اس آواز کو دبا دینا چاہتے ہیں جو ان کی مخالفت میں ہوں یا پھر اُن کی نااہلی اور بدعنوانیوں کو واضح کرتے ہوں۔

نادرا کے محنت کشوں کے حقوق کے لئے کی گئی جدوجہد میں رضاخان سواتی ایک ایسا باب ہیں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آمریت کے دنوں میں اس ادارے کے قیام سے لے کر آج تک وہ مسلسل محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہے اور اسی پاداش میں وہ مسلسل چوتھی بار ادارے سے بے دخل کردیئے گئے مگر انتظامیہ کے اس ظلم اور جبرکے باوجود بھی وہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھنے کاعزم رکھتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے رضاخان سواتی کے خلاف اتنظامیہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں حراساں کرتی رہی ہے۔ ہر بار کوئی نیا جواز فراہم کرکے ان کے خلاف ادارتی کاروائیوں کا سلسلہ گزشتہ پوری ڈھٹائی ہی جاری رہا ہے۔ مگر ہر بار اُن کے خلاف لگائے گئے الزامات اعلیٰ عدالتوں میں بے بنیاد ثابت ہوئے اور انہیں بحال کردیا گیا مگر ادارہ مسلسل ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی نجی زندگی کی سرگرمیوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنانے والے نادرا ملازمین کے خلاف ادارہ مسلسل کاروائیاں کرتا دیکھا گیا۔ مگر اس سب کے باوجود بھی رضاخان سواتی کے حوصلے پست نہیں ہوسکے اور وہ اپنی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ہر محاذ پر نادرا ملازمین کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔

حالیہ انکوائری کا آغاز بھی گزشتہ سال اس وقت کیا گیا جب انتظامیہ کی جانب سے ان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر جاری سرگرمیوں پر اعترازات اٹھائے گئے۔ کبھی فیس بک پر کسی رکن قومی اسمبلی کی رہائی کے مطالبے کی پوسٹ کو شیئر کرنے پر تو کبھی کسی نظم کے شیئر کرنے پر، ہر بار ادارہ ان کے خلاف ملک دشمنی اور ادارتی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے دکھائی دیا گیا۔ مگرہر بار اس قسم کے تمام تر دعوے عدالتوں میں ادارہ ثابت کرنے سے قاصر رہا۔

حالیہ معاملے پر رضاخان سواتی کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ ان کے خلاف ایک انتقامی کاروائی ہے کیونکہ وہ ادارے میں بڑھتی بدعنوانیوں، لازمی سروسز ایکٹ کے نفاذ اور نادرا حکام کے ملازمین کے خلاف بڑھتے استحصال کے خلاف ہمیشہ ہی سے آوا ز بلند کرتے رہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ آئندہ بھی اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نادرا کا قیام 2001ء میں ہوا اور اتھارٹی کے قیام سے لیکر آج تک ملازمین بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ نادرا اپنے قیام سے لیکر اب تک مقتدر قوتوں کے زیر تسلط رہا ہے جس کی وجہ سے سول اداراہ اور اور سول ملازمین آمرانہ احکامات اور قوانین کے زیر اثررہے ہیں۔ دوسرے نظام سروس کی وجہ سے ملازمین احساس کمتری اور محرومی کا شکار رہے ہیں۔ نادرا کے ملازمین کانٹریکٹ پر تھے اور مکمل جاب سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے معمولی قسم کی شکایات پر ملازمین کو برطرف کردیا جاتا تھا۔ یونین کی طویل جدوجہد کے بعد 2012ء میں نادرا ملازمین کو مستقل کیا گیا۔ مستقلی کے بعد بھی نادرا ملازمین کے تمام بنیادی حقوق ضبط رہے۔ نادرا ان اداروں میں شامل ہے جوکہ آج بھی سروس اسٹرکچر سے محروم ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی مرکزی قیادت نے بھی رضاخان سواتی کے خلاف ان اقدامات کی بھرپور مزمت کرتے ہوئے ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ PTUDC کے مرکزی صدر نذر مینگل، مرکزی آرگنائزر عمر شاہد، جنرل سیکرٹری قمر الزمان خان اور سندھ کے صدر انور پنہور کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تمام اداروں میں اس قسم کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے اور محنت کشوں کی آواز کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے، مگر محنت کش طبقے میں جبر کا خوف اب ٹوٹتا جارہا ہے اور وہ رضاخان سواتی کی بحالی کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اورمذمت و احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*