سیہون: وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج

رپورٹ: بدرالدین پنہور

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپئین، بیروزگار نوجوان تحریک اورانقلابی رکشہ یونین سیہون کی جانب سے 18 جون کو وفاقی حکومت کے طرف پیش کردہ بجٹ اورہفتہ وار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف دھمال چوک سے پریس کلب سیہون تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ محنت کشوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے اور وہ وفاقی بجٹ اور آئی ايم ايف کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف پیش کیا گیا مالیاتی بجٹ میں ملک کے محنت کشوں، کسانوں، بیروزگاروں اور طلبہ کے لیے کوئی بھی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔ اس لئے یہ سراسر عوام دشمن بجٹ ہے جسے یہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے بجٹ میں لگائے گئے نئے ٹیکس اور سرکار کی طرف ہفتہ وار پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے جینا مشکل بنا دیا ہے۔  عوام کے برائے نام جو سبسڈی تھی وہ بھی ختم کر دی گئی ہے۔ جب کہ حکمران طبقے کے لیے تین ہزار ارب روپے کی مراعات میں کوئی بھی کمی نہیں کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ محنت کشوں سے آخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں میں بڑھائی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واپسی لی جائیں اور سبسڈی کو بحال کیا جائے۔ مظاہرہ سے سکندر اوٹھو، اقبال میمن، بدرالدین پنھور، عاشق چانڈیو، حبیب اللہ بھٹی، نیاز ھالیپوٹو، صاحب خان بھمبھرو اور انور پنهور نے خطاب کیا۔