اسلام آباد: پمز ہسپتال کو بورڈ آف گورنر کے ماتحت کرنے پر ملازمین کا احتجاج

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

حکومت عملی اقدامات کے بجائے کاغذی کارروائی کررہی ہے؛ ڈاکٹر اسفندیار

حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے؛ پمز ملازمین

وفاقی کابینہ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کو بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنے کی منظوری دے دی جس کے خلاف ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف کی تمام ایسوسی ایشنز نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ روز پمز کی تمام ایسوسی ایشنز نے تحریک بحالی پمز کی بحالی کیلئے جنرل باڈی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں پروفیسرز، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور نان میڈیکل سٹاف کے نمائندوں اور ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس سے پروفیسر رضوان تاج، پروفیسر ظہور اور پروفیسر ہاشم رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ پالیسی کے پی کے میں بری طرح ناکام ہوئی اور وہاں ہر روز اس کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے لیکن معلوم نہیں عمران خان کے یہ کون سے مشیر ہیں جن ان سے بار بار غلط فیصلے کرا رہے ہیں اس وقت پمز ایک اچھے ہسپتال کا کردار ادا کررہا ہے لیکن حکومت اس کے پیچھے پڑ گئی جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ہم تمام پروفیسرز، ڈاکٹرز آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے اور پمز پر کسی کو بھی قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

ڈاکٹر اسفند یار خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پمز اسپتال کی یومیہ او پی ڈی دس ہزار مریضوں کی ہے جبکہ ہسپتال کو ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس سمیت  ادویات، بیڈز، طبی آلات کی کمی کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے مریضوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے نمائندوں نے تحریک بحالی پمز میں بھرپور کردار ادا کیا تھا وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے جس سے پمز ملازمین دوبارہ سراپا احتجاج بنیں، لیکن انہوں نے بھی آکر پہلا بڑا حملہ پمز ملازمین پر ہی کیا جو کہ کسی بھی طرح سے جائز نہیں۔ ہم اس کو نہیں مانیں گے ہم  دو گھنٹے کا علامتی احتجاج شروع کررہے ہیں اور اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو ہم اس سلسلے کو آگے بڑھاتے جائیں گے اوریہ سلسلہ تب رکے گا جب حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی۔

اس موقع پر شریف خٹک چیئرمین نرسز ایسوسی ایشن نے کہا کہ جو کوئی بھی آتا ہے ان کی نظریں پمز پر کیوں ٹھہرتی ہیں تبدیلی کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ نہیں کہ فلاحی ادارے کی نجکاری کی جائے اور غریبوں سے علاج کی سستی سہولتیں واپس لی جائیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اس فیصلے کوواپس لیا جائے نہیں تو ہمارا کردار ادارے کی بحالی کیلئے لوگوں کو یاد ہے اور اسے نئے جنون کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اس کیلئے ہم ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔

چوہدری محمد ریاض گوجر نے کہا کہ ابھی چند ہی مہینے ہوئے ہیں کہ ہماری تحریک ختم ہوئی لیکن اس بے حس حکومت نے دوبارہ ہمیں مریضوں کی خدمت کرنے کی بجائے احتجاج پر لگا دیا ہے، جو کسی بھی طرح سے دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ اس لئے اس سے پہلے کی یہ احتجاج ملک بھر میں پھیل جائے حکومت ہوش کے ناخن لے اور یہ فیصلہ واپس لیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد فاروق شاہ صدر ایف ڈی اے محمد نواز لالی جنر سیکرتری، سید ضمیر حسین ن قوی صدر ، سید منظر عباسی نقوی آفیسر ایسوسی ایشن ، سعید اللہ جان مروت، ظہیر احمد پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن، شیر محمد ہزارہ نرسنگ ایسوسی ایشن، نوید احمد آزاد اور ملک طاہر محمود نان گزیٹڈ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور حکومت کوخبردار کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*