ظلم کی اوقات ہی کیا ہے !

تحریر: رؤف لنڈ

انصاف کا کوئی معیار، مگر طبقاتی سماج بھی بالادست طبقے کی گماشتگی کے علاوہ انصاف کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن پھر انسانوں کی تقدیر بدلنے والے محنت کش بھلا ہمیشہ کب چپ رہے اور کیوں رہیں؟ بس ذرا میدان سجنے کا وقت تو آئے۔ کروڑوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کرنے والی سرکار نے پاکستان سٹیل ملز کراچی سے سینکڑوں مزدور ملازمین کی جبری برطرفی کا فرمان جاری کیا ہے۔ ان برطرفیوں کا سرکاری جواز حسبِ معمول کرپشن و بحران بتایا اور بنایا جا رہا ہے۔

اگرچہ طبقاتی نظام میں رہتے ہوئے بالادست طبقے کو تحفظ دینے والی ریاست کے کسی بھی ادارے پر اعتبار واعتماد کرنا بیوقوفی ہوتا ہے، مگر جب تک محنت کش طبقہ اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لینے اور اسے اپنے حق میں تبدیل کرنے کی تگ و دو نہیں کرتا تب تک پاکستان کا محنت کش طبقہ  ’مرتا کیا نہ کرتا‘ کے مصداق اور اس شعر کی حقانیت کے ساتھ کہ؛  ’‘ 

ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں
آپ کہتے ہیں تو پھر زنجیر ہلا دیتے ہیں

پاکستان کا محنت کش طبقہ مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ججوں اور سٹیل مل کے محنت کشوں پر مشتمل کی کم از کم پانچ رکنی کمیٹی کا تقرر کرے جو اس بات کا تعین کرے کہ آیا پاکستان سٹیل میں اب تک کرپشن اور بحران کی ذمہ دار پاکستان پر اب تک حکمرانی کرنے والا طبقہ ہے؟ ان کے گماشتے ہیں ؟ فوج سے ریٹائرڈ ہو کر سٹیل ملز کراچی کے انتظامات سنبھالنے والے جنرل اور کرنل ہیں یا مردم بیزار، سخت و کرخت اور بیہودہ شاہانہ رویوں کی مالک بیوروکریسی ہے؟ یا ان سب کے گماشتہ ٹریڈ یونین کے وہ عہدیدار ہیں جو اپنے مفادات و مراعات کے بھوک کے اسیر ہوکر اپنے مزدور بھائیوں کی زندگیوں کا سودا کرتے ہیں اور یا وہ محنت کش جو رات دن اپنے بدن کی شریانوں کا لہو سٹیل مل کے کل پرزوں میں شامل کر کے اس کو چلاتے رہتے ہیں ؟ یہ اعلیٰ عدالتی کمیشن جن کو ذمہ دار قرار دے تو پھر بے شک ان ذمہ داران کو برطرف کردیا جائے۔

اگر حکومت و حکمرانوں کا یہ خیال ہے کہ جن کو نکالا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کام نہیں کرتے۔ تو پھر ایک بات تو طے ہے اور اس کیلئے نہ کسی ثبوت کی ضرورت ہے اور نہ دلیل کی کہ اپنے قیام سے لیکر اب تک وطنِ عزیر مملکتِ خدا داد اپنی عمر کے تہتر سالوں میں ترقی کی شرح زوال و پسماندگی کی طرف ہی گئی ہے۔ تو پھر آئیں کریں بسم اللہ ! ملک کے ہر شعبے کے سربراہان اور ان کی ٹیم کے نا لائق، نا اہل ارکان کو بیک جنبشِ قلم ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فارغ کیا جائے۔ اور ان سب سے اب تک لوٹی ہوئی دولت اور وسائل چھین کر ان تہی دامن لوگوں پر صرف کئے جائیں کہ جنہیں ہر دور میں بلا جوازعتاب کا شکار بنایا گیا ہے۔

مگر بات پھر وہی کہ رہزن کو رہنما، ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا کیا کہنا اور کیوں کہنا؟ گھوڑے سے اس بھلائی کی توقع کیوں رکھنا اور یہ احسان کیوں اٹھانا کہ وہ گھاس کھانا چھوڑ دے ؟ ضرورت عظیم انقلابی استاد اور انقلاب روس کے دوران نا قابلِ شکست ریڈ آرمی تخلیق و تعمیر کرنے والے کامریڈ لیون ٹراٹسکی کے اس قول کو سمجھنے اور عمل کرنے کی ہے کہ ’آج تک کبھی کسی بلا نے اپنے خونی پنجے خود کاٹ کر نہیں دئیے، بلکہ اس بلا کے شکار ہونے والوں نے آگے بڑھ کر کاٹنے ہوتے ہیں۔‘

جب یہ احساس و ادراک جاگ اٹھا تو پھر نہ کسی محنت کا استحصال ہوگا اور نہ محنت کشوں کا استحصال کرنے والا کوئی بھی باقی رہے گا۔
بس ایک ذرا دیر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں ۔۔۔۔۔ اور دیکھ لینا جب سب محکوم اور مظلوم یہ جان جائیں گے تو سرفرازی و سرخروئی سے گنگنائیں گے کہ ظلم کی بات ہی کیا ؟ ظلم کی اوقات ہی کیا ہے !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*