کراچی: سٹیل ملز کے محنت کشوں کا روزگار کے تحفظ اور ادارے کی نجکاری کے خلاف تحریک کاآغاز

رپورٹ: PTUDC کراچی

تبدیلی سرکار نے اپنے ماضی کے وعدوں اور دعوں کے برعکس سٹیل ملز کی نجکاری کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا اس سلسلے میں فوری طور پر سٹیل ملز کے تمام 9300 ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دے کربرطرف کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہ حکومتی فیصلہ درحقیقت محنت کشوں کا اجتماعی سماجی قتل عام ہے جس کے خلاف ادارہ کے محنت کشوں کے بھرپور جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ سٹیل ملزجوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل تنظیموں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC، انصاف ورکرز یونین اور دیگر کی جانب سے مورخہ 4 جون کو اللہ والی چورنگی تا نیشنل ہائی وے تک ریلی اور دھرنے کی کال دی گئی تھی تاہم احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی فاشسٹ آمریت کا کردارادا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے بڑی تعداد میں رینجرزاورسندھ پولیس کو علاقہ میں تعینات کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قانون کی دھجیا اڑاتے ہوئے محنت کشوں پر لاٹھی چارج کیا اورانہیں علاقہ میں محصور کرنے کی کوششیں کیں۔ اس دوران سی بی اے صدر یامین جمرو، پراگریسیو یونین انفارمیشن سیکرٹری افتخارعباسی سمیت 11 دیگریونین رہنماؤں کو گرفتارکرلیا گیا۔ تاہم محنت کشوں کے دباؤ کی وجہ سے شام کو ان اسیران کو رہا کر دیا گیا۔

ریاستی تشدد اور تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے سٹیل ملز کے ہزاروں محنت کشو ں نے زبردست احتجاج کیا۔ محنت کشوں نے احتجاج کے دوران ، ’بیروزگاری نامنظور‘، ’ہمیں کیا چاہئے، روزگار!‘، ’مزدور، بے قصور!، ’شرم کرو، ڈوب مرو!‘، ’ظلم کے یہ ضابطے، ہم نہیں مانتے!‘اور دیگر نعرے لگائے۔ محنت کشوں کے فوری مطالبات میں ان کو فوری طور پر ملازمتوں پر بحال کیا جائے، سٹیل ملز ادارہ کو چلایا جائے اور نجکاری پالیسی منسوخ کی جائے شامل ہیں۔احتجاج کے شرکا نے پاکستان تحریک انصاف کی سرکار کے خلاف نعرے لگائے۔ ایک شخص کا کہنا تھا،’مجھے آج شرم آتی ہے کہ میں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔ اس پارٹی نے ایک کروڑ نئی نوکریاں دینے کاوعدہ کیا تھا۔ نئی نوکریاں دینا تو دور اس نے ہم سے ہی ہمارا روزگار چھین لیا۔“ ایک منیجر کا کہنا تھا کہ میری عمر 58 سال ہے اور رٹیائرمنٹ میں دو سال باقی ہیں اور اس وقت مجھے نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایک اور بزرگ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سپورٹر تھے مگر آج مزدور اپنے حق کے لئے نکلے ہیں اور آج ان کی کوئی پارٹی نہیں ہے۔ PTUDC کے مرکزی عہدے داراور سٹیل ملز محنت کشوں کے رہنما کامریڈ ماجد اصغر کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست پہلے سے زیادہ کمزور، مقروض اور نااہل ہو چکی ہے اور آئی ایم ایف و ورلڈ بنک کی جڑیں پاکستان میں مضبوط ہوگئی ہیں۔ ایک اور ساتھی کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام مزدوروں کا دشمن ہے۔

محنت کش تمام تر ریاستی جبر کے باوجود اپنے حقوق کی خاطر پر عز م ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ہمارے مطالبات پورے نہیں کرتی ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ PTUDC کی جانب سے پورے پاکستان میں سٹیل ملز کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی بھر پور مہم چلائی جا رہی ہے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ’NoToPSMRetrenchment‘ ٹرینڈ گردش کر رہا ہے جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لے رہے ہیں اور حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ملک گیر احتجاجات کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ ہم تمام ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیموں سے کو اس لڑائی میں حصہ بننے کی پر زور اپیل کرتے ہیں۔ ایک جانب کورونا وبا کی آڑ سے محنت کشوں پر سرمایہ داروں کی جانب سے حملے جاری ہیں دوسری جانب محنت کش بھی اس پر حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان سٹیل ملز کی یہ لڑائی صرف ایک ادارے کی لڑائی نہیں بلکہ پورے محنت کش طبقے کی لڑائی ہے جس میں تمام ساتھیوں کا شامل ہونا ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*