پی ٹی سی ایل کی مکمل نجکاری یا ستم شعاری

رپورٹ: محمد توقیر، ڈپٹی کنوینر ‘آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرزایکشن کمیٹی’

تبدیلی سرکار نے اپنے تمام تر دعووں کے برعکس عالمی سرمایہ داروں کی  شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکتےہوئے دیگر عوام کش اقدامات کے علاوہ بڑے پیمانے پر نجکاری کے عمل کی منظوری دی ہے۔ کم از کم 48 اداروں کی نجکاری کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ ہے۔ دیگر اداروں کے علاوہ پی ٹی سی ایل (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ) کے بقایا 62 فیصد حصص کی نجکاری کی خبریں زیر گردش ہیں۔ 2005 میں اس وقت کی حکومت نے تمام ورکرز تنظیمات کی تاریخی احتجاجی تحریک کے باوجود ایک غیرشفاف نجکاری کے ذریعے ادارے کے 26 فیصد حصص ایک غیر ملکی کمپنی کو فروخت کر دیئے تھے۔ 700-ارب کا پی ٹی سی ایل صرف 50 ارب میں بیچ دیا گیا۔ نجکاری کی تکمیل کھٹائی میں پڑتے دیکھ کر نجکاری معاہدے کو ازسرنو مرتب کیا گیا جس میں ادارے کی اربوں روپے کی ملکیتی جائیداد بھی خریدار کمپنی کو منتقل کردیا گیا۔ اس منتقلی کے لئے درکار محصولات ادا کرنے سے انکار پر حکومت نے یہ محصولات بھی خزانے سے اداکئے۔ 75،000 سے زائد ملازمین میں سے 60 ہزار کو مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا کر فارغ کردیا گیا۔ نصف سے زائد ملازمین کو بغیر پنشن کے چلتا کیا جبکہ پنشن یافتہ ملازمین پر نجکاری کے بعد معاشی دہشتگردی کے پہاڑ توڑ دئیے۔ ان کو اپنی جائز پس از پنشن مراعات سے محروم کر دیا گیا یا اس میں ظالمانہ کٹوتی کردی گئی۔

واضح عدالتی فیصلوں کے باوجود سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کے باعث کمپنی حاضر سروس ملازمین اور پنشنرز کو ان کے جائز حقوق دینے سے انکاری ہے۔ اس طاقتور گٹھ جوڑ کے سامنے سب بے بس ہیں۔ جس ادارے نے پاکستان میں ترقی کی بنیادی استوار کیں اس کے مزدوروں کو در بدر کر دیا گیا۔ ان کے لئے جسم و جاں کا کا رشتہ بحال رکھنا دشوار ہو گیا۔ ہزاروں پنشنرز اس پیرانہ سالہ میں چوکوں چوراہوں میں اپنے جائز حق کے حصول کے لیے لاٹھیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 26-فیصد حصص خریدنے والی کمپنی تمامتر انتظامی امور کی مالک ہے. بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حصص ملکیت کی بنیاد پر نمائندگی کی بجائے آٹھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز غیر ملکی کمپنی کے نامزد کردہ ہیں۔ حکومت اکثریتی حصص کی ملکیت کے باوجود اقلیت میں ہے اور اپنی کوئی بھی پالیسی منظور کروانے سے عاجز ہے۔ عدالتی فیصلوں/لیبر قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں. یہ ایک ادارے کی نجکاری کی داستان ہے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

نجکاری کے ناسور سے بچنے کے لئے تمام تنظیمات کو ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دینے کی اشد اور فوری ضرورت ہے تاکہ سرمایہ دارانہ قوتوں کے بڑھتے قدم روکے جا سکیں۔ اس حوالے سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، جنہوں نے ہر ادارے کی نجکاری کے اعلان پر فوری آواز اٹھائی ہے. امید ہے دیگر ترقی پسند قوتیں بھی اس ناسور کے خلاف موثر لائحہ عمل ترتیب دیں گی تاکہ پسے ہوئے طبقات کی آواز کو تقویت مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*