پی ٹی سی ایل محنت کشوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں

رپورٹ: نذر مینگل

جب سے پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں نے اپنے حقوق اور انتظامیہ کے ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا ہے، اس وقت سے انتظامیہ غریب ملازمین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں PTCL کالونی میں ایک پرامن احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ جلسے سے ایچ آر سید مظہرالحسن نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر فوری طور پر انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حالانکہ ایچ آر ڈپارٹمنٹ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے لیکن یہاں یہ ملازمین کے خلاف انتقامی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ پی ٹی سی ایل ورکر ٹیلی کام ایمپلائز یونین کے مرکزی سیکرٹری جنرل سمیع اللہ خان کو نوکری سے برطرف کردیاگیا۔ عبدالحمید مروت کو بنوں سے جہلم، فرمان اللہ کو بنوں سے ڈیرہ اسماعیل خان اور عطاالرحمان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے ہنگو تبادلہ کیا گیا۔ دوسری طرف پیپلز یونٹی ٹیلی کام یونین نے انتظامیہ کی ایما اور اس کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے موجودہ تحریک کے خلاف عدالت میں کیس بھی دائر کردیا ہے۔

ان انتقامی کاروئیوں کے ذریعے پی ٹی سی ایل کی اتصالات انتظامیہ ملازمین کی آواز کو دبا کر ان کے استحصال اور ہونے والے ظلم و جبر کو چھپانا چاہتی ہے۔ 2005ء میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد ملازمین کے تمام حقوق ضبط کر لیے گئے ہیں اور ادارے میں بالکل جنگل کا قانون نافذ ہے۔ 2010ء میں تین سو ملازمین کو یونین سرگرمیوں کی وجہ سے نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ ملازمین سے 12گھنٹے ڈیوٹی لیا جاتا ہے۔ نجکاری کے تحت پی ٹی سی ایل کے صرف 26فیصد حصص اتصالات کو فروخت کیے گئے جبکہ باقی شیئرز حکومت کے پاس رہے لیکن اس کے باوجود ادارے کا مکمل انتظامی کنٹرول اتصالات کے پاس ہے۔اس وقت اتصالات کمپنی حکومت پاکستان سے 800ملین ڈالر کی مقروض ہے لیکن حکومت یہ رقم وصول کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کے خلاف انتقامی کاروائیاں فوراً بند کی جائیں اور حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ پی ٹی سی ایل کو فی الفور دوبارہ قومی تحویل میں لیا جائے تاکہ اتصالات کی لوٹ مار اور مزدور دشمن کاروائیوں کا خاتمہ ہو نیز روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*