سیالکوٹ: پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور پنشنرز کی جدوجہد

تحریر: محمد توقیر،  ڈپٹی کنوینر ’آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرزایکشن کمیٹی‘

نجکاری کی اگر کوئی بدترین مثال پاکستان میں دیکھنا ہو تو پی ٹی سی ایل کی نجکاری کا مشاہدہ کیجئے۔ دیکھئے کہ پی ٹی سی ایل کے ملازمین اور پنشنرز کس حال میں جی رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنی جوانی کے بہترین سال ادارے کی ترقی کے لئے وقف کیے رکھے ان کو کیا صلہ دیا گیا۔

قیام پاکستان کے وقت پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف ڈیپارٹمنٹ جو کہ بعد ازاں پاکستان ٹیلی گراف آفس اینڈ ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ بن گیا ، جو کہ ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات فراہم کرنے والا واحد ادارہ تھا۔ یہ ادارہ ملک کا منافع بخش ترین ادارہ تھا، اس کے ماہرین دنیا بھر میں اعلی ترین شمار کئے جاتے تھے۔ ٹیلی کام ٹریننگ کالج ہری پور ہزارہ ٹیلی کمیونیکیشن کے حوالے سے دنیا میں ممتاز مقام کا حامل تھا۔ ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان میں تیار کردہ آلات دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں برآمد کئے جاتے تھے جن سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا تھا۔

1996ء میں T&T یعنی پاکستان ٹیلی گرافس اینڈ ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ کوپانچ اداروں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی کام ایمپلائز ٹرسٹ میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ سارا عمل ایک پارلیمنٹ کے ایکٹ، پاک ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996ء کے ذریعےانجام پایا جس میں تمام ملازمین کو سرکاری ملازم کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ پی ٹی سی ایل اپنے ملازمین کی ان تھک کوششوں سے ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔

2005ء میں اس ادارے کو ایک غیر شفاف نجکاری عمل کے تحت ایک غیرملکی کمپنی اتصالات کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ جس کے تحت محض 26 فیصد حصص فروختگی کے نتیجے میں تمام تر انتظامی اختیارات غیرملکی کمپنی کو سونپ دئے گئے۔ ترمیمی معاہدے میں پی ٹی سی ایل کی تمام جائیدادوں کی غیرملکی کمپنی کے نام منتقلی بھی شامل کردی گئی۔ کمپنی مذکوربارہ برس سے حکومت پاکستان کی 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے۔ حیران کن اور ستم کی بات یہ ہے کہ کل 3200 جائیدادوں کی منتقلی کے لئے درکار صوبائی محصولات وفاقی حکومت نے نجکاری کمیشن کی وساطت سے صوبائی حکومتوں کو بطور قرض فراہم کئے۔

پی ٹی سی ایل کے ملازمین کمپنی کے جبر کا شکار ہیں، پسند ناپسند کی بنیاد پر ترقی/تنخواہ اضافہ جات طے ہوتے ہیں۔ نام نہاد یونین نے ورکرز کا سودا کیا اور جن ملازمین/یونین نمائندوں نے مزاحمت کی ان کو من گھڑت مقدمات میں ملوث کردیا گیا اور متعدد کو ملازمتوں سے برخاست کر کے خوف و ہراس کی فضا قائم کردی گئی۔ نام نہاد وی-ایس-ایس (رضاکارانہ علیحدگی سکیم) کے نام پر ملازمین میں خوف و ہراس کی فضا قائم کی گئی۔ ملازمین کو دوردراز مقامات پر تبدیل کردیا گیاجس کی وجہ سے وہ ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ چھ سال کے عرصے کے دوران قریب پینتالیس ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے سبکدوش کردیاگیا۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کو پنشن سے بھی محروم کردیا گیا جو اس وقت فاقوںمیں مر رہے ہیں۔

پنشنرزکو2010ء تک قانون کے مطابق پنشن ادائیگیاں کی جاتی رہیں لیکن بعد ازاں قانون سے انحراف کرتے ہوئے ان کو قلیل اضافے پر ٹرخا دیا گیا۔ اس تمام عمل میںحکومت کی بدنیتی عیاں ہے۔ حکومت جو کہ معاہدہ خرید حصص کے تحت ملازمین پنشنرز کے حقوق کی ضامن تھی،انہی کے خلاف عدالت میں جا پہنچی۔ چالیس ہزار پنشنرزاس پیرانہ سالی میں سڑکوں اور عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں لیکن کمپنی اور حکومت ان پر کوئی ترس نہیں کھا رہی بلکہ معاشی دہشتگردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔  ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے باوجود یہ پنشنرز بشمول بارہ ہزار بیوگان اپنے جائز اور قانونی حق کے حصول کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔

آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ایکشن کمیٹی کے کنوینر جناب اکرام اللہ نے تین،چار اور پانچ مئی 2017ء کو اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کیاہے۔  تمام مزدور/محنت کشوں کی تنظیموں سے گذارش ہے کہ وہ آئیں اور ہمارا ساتھ دیں۔