اسلا م آباد: پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کی ادارے کے تحفظ اور جبری برطرفیوں کے خلاف تحریک

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

حکومت کی جانب سے پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشنPTDC کے شمالی علاقہ جات میں تمام موٹلز بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی400 سے زائد ملازمین کو بھی بر طرف کر دیا گیا ہے۔ان ملازمین کو واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ PTDC ادارے کا بنیادی مقصد پاکستان میں سیاحت کے شعبے کوفروغ دینے کے ساتھ سیاحوں کو سستی اور معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔اس وقت ادارے کے موٹلز پور ے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اورملک کے اندر جو بھی سیاحت کا ڈھانچہ موجود ہے اس میں PTDC کا بہت بڑا اوراہم کردار رہا ہے۔ آج جو بھی مشہور سیاحتی مقامات ان علاقوں میں PTDC نے کیمپنگ سائیٹ سے آغاز کیا تھا اور آج ان علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل بن گئے ہیں اور لاکھوں لوگ برسر روزگارہیں جو کہ PTDCکی مرہونِ مِنت ہے۔ لیکن حکمران طبقہ اپنی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے عوامی اداروں کو بہتر بنانے کی بجائے ان کے انفراسٹرکچر کو سرمایہ داروں کے منافعوں کے لئے استعمال کرنے کے لئے گوشاں ہے۔اس وجہ سے برسوں سے ان اداروں کے منظور شدہ فنڈز روک کر انہیں دانستہ برباد کیا جا تا رہا۔ پھر یہ واویلا کیا جا رہا ہے کہ ادارے کی بربادی کے اصل ذمہ دار ملازمین ہیں جبکہ حقیقت اس سے الٹ ہے۔ یہی حکومت سیاحت کو فروغ دینے کی دعوے دار تھی لیکن سیاحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ادارے کو سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

PTDC کے ملازمین نے حکومتی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے جدوجہد کی راہ اختیار کی ہے، کل مورخہ 3جولائی کو راولپنڈ ی میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اورPTDCایمپلائز یونین کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا اور آنے والے دنوں میں مزید مظاہرے متوقع ہیں۔

اس سلسلے میں ملازمین نے تمام محنت کشوں اور ٹریڈ یونینز سے اظہار یکجہتی کی اپیل کے لئے ادارے کے وائٹ پیپر شائع کیا ہے، جس کے مندرجات ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔

پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی نجکاری کے خلاف وائٹ پیپر

٭ہم عمران خان اور زلفی بخاری کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان سے U Turn لئے بغیر ثابت کریں کہ ابھی جو ملازمین برطرف کئے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی ایک کو واجبات ادا کئے گئے ہوں تو ہم مجرم ہونگے، یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔

٭کرونا وبا ایک قدرتی آفت ہے۔ اس کے ذمہ دار پی ٹی ڈی سی ملازمین نہیں ہیں۔

٭پی ٹی ڈی سی کا کام ملک میں سیاحت کا فروغ ہے۔

٭9/11کے واقعہ کے بعد 2002ئتک ہم سالانہ اور Accumulated Profit کما کر دے رہے تھے۔اس کے بعد اکتوبر 2005کا زلزلہ،2008 تا 2012 دہشت گردی کے خلاف جنگ اور 2010کا سیلاب اس کے بعد میر شاہجہان کے دو سال اور قدرتی آفات کے عوامل ہیں جس کی وجہ سے PTDCکے منافعوں میں بتدریج کمی واقع ہوتی رہی۔اس کے ذمہ دار ملازمین نہیں ہیں۔2019، PTDCکے منافع کا سال تھا۔

٭اگر حکومت صوبائی حکومتوں کو موٹلز ٹرانسفر کرتی ہے۔تو مالم جبہ موٹل کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے لیز آؤٹ کیا گیا، تو نیب کا کیس بن گیا۔

٭اربوں روپے کی پراپرٹی کو کوڑیوں کے بھاؤاپنے من پسند لوگوں کو دینے کا فیصلہ بحوالہ نومبر 2019کی بورڈ آف ڈائیریکٹر کی میٹنگ کے منٹس موجود ہیں۔

٭زلفی بخاری خود دہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کی تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ کیوں کہ وہ ایکٹنگ چئیرمین ہیں۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق ایکٹنگ چئیرمین فیصلہ سازی نہیں کر سکتا۔

ہم تمام تمام ٹریڈ یونینز کے عہدیداران سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے 450 خاندانوں کے معاشی قتل عام کے خلاف آواز بلند کریں۔

منجانب: PTDC ایمپلائز یونین، PTDC فلیش مین ہوٹل ایمپلائز یونین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*