پاکستان ٹورزم ڈیلویلپمنٹ کارپوریشن کی نجکاری اور محنت کشوں کی حالت زار

تحریر: ماجد یعقوب اعوان، صدرPTDC ایمپلائیز یونین

پاکستان ٹورزم ڈیلویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) 1970ء سے سیاحت کے حوالے سے گراں قدرخدمات سر انجام دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے سابقہ حکومتوں نے اٹھارویں ترمیم کی شکل میں اس ادارے کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس وقت ملک کے اندر جو بھی سیاحت کا ڈھانچہ موجود ہے اس میں PTDC کا بہت بڑا اوراہم کردار رہا ہے۔ آج جو بھی مشہور سیاحتی مقامات ان علاقوں میں PTDC نے کیمپنگ سائیٹ سے آغاز کیا تھا اور آج ان علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل بن گئے ہیں اور لاکھوں لوگ برسر روزگارہیں جو کہ PTDCکی مرہونِ مِنت ہے۔ موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں کیونکہ وزیرِاعظم عمران خان اپنی ہر تقریر میں سیاحت کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔مگر افسوس کہ حقیقت میں اس کے برعکس کام ہو رہا ہے۔PTDCکو وفاق کی سطح پر رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ایم ڈی PTDC کی اہم پوسٹ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ایکٹنگ چارج پر چل رہی ہے اور چیئرمین NTCBکی مرضی اور پسند کی وجہ سے مسلسل ایکسٹینشن دی جا رہی ہے۔ جن کوPTDC کے ملازمین کو فارغ کرنے اور جائیدادوں کو صوبوں کے حوالے کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔400ارب کی پراپرٹیز کو صوبو ں کے حوالے کرنے کے بعد مزید آگے 30سال کے لئے لیز آؤٹ کرنے کا پلان اور اپنے منظور نظر لوگوں کو نوازنے کے لئے میگا کرپشن سکینڈل کی تیاری کی جا رہی ہے۔ فلیش مینز ہوٹل کو سالانہ تقریباََ ڈھائی کروڑ کا نقصان ظاہر کیا جا رہا ہے تا کہ اس کو نقصان میں ظاہر کر کے اس کو لیز آؤٹ کر دیا جائے۔ اس کے ملازمین گزشتہ 5ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ چیئرمین NTCB زلفی بخاری بھی فلیش مینز کو لینے کے خواہش مند ہیں۔ فرازنک آڈٹ میں گزشتہ سال میں آنے والے تمام ایم۔ڈیز صاحبان کو ان تمام نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ تمام پراسس سراسر بد نیتی پر مبنی ہے بلکہ اس بورڈ میٹنگ کی آڑ میں ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو اس ادارے اور اس کے ملازمین کا معاشی قتل کرنے کے مترادف ہے۔ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا جب کسی ادارے کی تنظیم نو کی جاتی ہے اس کے ملازمین کو بے روزگار کر دیا جاتا ہے۔

PTDC میں جن ملازمین کی سروسز 25 تا 30 سال ہیں ان کو نظر انداز کر کے دوسرے اداروں سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے افسران کو جو کہ گریڈ 17اور18گریڈ کے آفیسر ہیں ان کو ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں جن کا متعلقہ شعبہ کا کوئی تجربہ نہیں۔ ان افسران کو ڈیپوٹیشن پر لانے کے لئے کوئی قانونی راستہ نہیں اپنایا گیا۔PTDCکے افسران جو کہ کافی عرصہ سے ان پوسٹوں پر کام کر رہے تھے ان کو ٹرانسفر کر دیا گیا۔ موجودہ حالات کی وجہ سے تمام ملازمین شدید ذہنی کوفت اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ملازمین کی سابق ایم ڈی شاہجہاں کھیتران دور کی کئی مہینوں کی تنخواہیں ابھی بھی بقایا ہیں۔ اسی بے یقینی کی صورت حال کی وجہ سے گزشتہ 10سالوں میں ہمارے کئی ساتھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ جب ان فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو باقی اداروں کی طرح ُPM Package کے تحت ملازمتیں دی گئی تو موجودہ ایم ڈی ان کوبے روزگار کرنے میں مصروف عمل ہے جو کہ نہایت غیر انسانی فعل ہے۔ ایم ڈی جو کہ خود ایڈیشنل چارج پر بیٹھے ہیں اپنے آپ کو مستقل کرنے کے لئے PTDC بورڈ سے اجازت لینے کے چکر میں ہیں۔ موجودہ ایم ڈی کی تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا ہوا ہے۔ لہذا حکام بالا اور PTDC بورڈ کے ممبران سے گزارش ہے کہ PTDC کو تباہی سے بچانے اور ملازمین کے روزگار کو تحفظ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ملازمین اور ان کے خاندانوں کا خیال رکھا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*