طبل جنگ بج گیا: بڑے پیمانے پر نجکاری کا اعلان

تحریر: مزدورنامہ

نام نہاد ’تبدیلی ‘ کے نام پر اقتدار کے ایوانوں میں قدم جمانے والی پارٹی کے معیشت دان اور ملک کے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانشل ٹائمز کے ساتھ اپنے معاشی پروگرام پر بات کرتے ہوئے برملا اعلان کیا کہ 200 کمپنیوں کو حکومتی تحویل سے نکالتے ہوئے بڑے پیمانے پر نجکاری کی جائے گی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ پہلے 100 دن میں کمپنیز کو نجی شعبے کے زیر انتظام ویلتھ فنڈ کے حوالے کیا جائے گا۔ جلد بازی کا مظاہرے کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ نئی حکومت کو یہ حکمت عملی اقتدار میں آتے ہی بنانی ہوگی۔ فنانشنل ٹائمز کی جانب سے معاشی پالیسی پر کئے گئے ایک سوال میں اس نے جواب دیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی ’بانڈز‘ جاری کر کے قرضے لینے پر غور کر رہے ہیں۔ 

متوقع وزیر خزانہ کے بیان سے حکمران پالیسی سازوں کا دیوالیہ پن عیاں ہے، موجودہ گہرے ہوتے ہوئے معاشی و سماجی بحران سے باہر نکلنے کے لئے کوئی پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر سامراجی آقاؤں کے تجویز کردہ نسخوں کو نئے رنگ میں ڈھالتے ہوئے لاگو کرنے کی جانب جایا جا رہا ہے۔ قومی اداروں کے ’خسارے‘ کا حل ان کے پاس صرف نجکاری کے سوا کچھ نہیں ہے، حکمران طبقہ اپنی تاریخی متروکیت اور نااہلی پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اس خسارے کا ذمہ دار پھر محنت کشوں کو ٹھہراتا ہے۔ حقیقت میں ان اداروں کے محنت کشوں نے اپنے خون سے ان اداروں کو عروج بخشا لیکن حکمران طبقہ اپنی لوٹ مار کا جواز پیدا کرنے کے لئے ان اداروں کو خسارے میں دھکیلتے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ پی آئی اے سے لے کر سٹیل ملز جیسے منافع بخش اداروں کو خستہ حال ادارے میں تبدیل کر تے ہوئے ان کو سرمایہ داروں کے ہاتھ اونے پونے داموں فروخت کرنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مشرف کی آمریت سے لے کر ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کرنے والے جمہورپسندوں سب اس پالیسی پر متفق ہیں۔ سرمایہ دار کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان اداروں کے دستیاب ذرائع کو بروکار لا کر بلند منافع کما سکے۔ ماضی کی نجکاری پالیسی کی اصلیت اور اس کے ملک پر پڑنے والے اثرات سے یہ ظاہر ہے کہ اس پالیسی نے محض محنت کشوں کی زندگیوں کو مزید اجیرن کیا ہے۔ بنکنگ سیکٹر، پی ٹی سی ایل اور کراچی الیکٹرک کارپوریشن کی مثالوں سے واضح ہے کہ نجکاری کے بعد ان کے سروس کے معیار میں بتدریج کمی اور خدمات کی قیمتوں میں بلند اضافہ ہو ا ہے۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر نجکاری کرتے ہوئے ہزاروں محنت کشوں کو بیروزگار کیا گیا ہے۔ مستقل بھرتیوں کی جگہ عارضی اور کنٹریکٹ بھرتیاں کر کے نوجوان نسل کو نا ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ سرمایہ داروں کے لئے پرکشش بنانے کے لئے اداروں کے ٹکڑے کر کے فروخت کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔

اسی کیفیت میں دیکھا جائے تو نئی آنے والی حکومت سے وابستہ امیدیں بھی دم توڑتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔ اقتدارمیں آنے سے پہلے ہی حکمرانوں کے لب و لہجہ اور بیانات ایک نئے حملے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ عیاں ہے کہ ماضی کی نام نہاد ترقی کی بنیاد قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی تھی۔ CPEC کے منصوبوں پرواجب ادا قرض کی ادائیگی کے لئے ایک نئے قرض کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی معاشی بحران میں جہاں برازیل سے لے کریونان اور ترکی سے انڈونیشیا تک ہر جگہ پر معاشی تنزلی اور سماجی خلفشار کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب راغب کرنے والے ممالک کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ، اس صورتحال میں قرضہ دینے والے شرائط مزید سخت کر رہے ہیں۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب کہ بیروزگاری، غربت اور لاچاری میں مسلسل اضافہ ہے۔ آج اصلاحا ت کے معنی محض محنت کش طبقے کی زندگیوں پر مزید حملے ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیو ں کامعاشی پروگرام اور نصب و العین ایک ہے جو کہ صرف اقلیتی امیر طبقے کے مفادات کی حفاظت کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 

اس کیفیت میں دیکھا جائے تو نئے حملو ں کی صورت میں مزدور تحریک پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پچھلے ایک لمبے عرصے سے حکمران طبقہ چہرے بدل بدل کر محنت کشوں پر نئے وارکررہا ہے ۔ جس کے خلاف محنت کشوں کو متحد ہو نا پڑے گا، ٹریڈ یونینز اس وقت اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ کچھ دن قبل ہی حکمران طبقے ایک اہم مہرے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے ریمارکس، ’اگر آئین میں نہ ہوتا تو میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دیتا‘ سے حکمران طبقہ کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ اپنے زوال میں یہ بوسیدہ طبقہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہتا ہے۔ محنت کش طبقہ اپنے حالات کو بدلنے کے لئے سرگرم عمل ہے، پچھلے عرصہ میں مختلف اداروں میں اٹھنے والی تحریکوں نے حکمرانوں کے ہرحملے کا جواب بخوبی دینے کی کوشش کی ہے۔ فی الحال بظاہر مزدور تحریک ایک ٹھہراؤ کو شکار نظر آتی ہے لیکن سطح کے نیچے تضادات پنپ رہے ہیں جو کہ کسی ایک خاص نقطہ پر جا کر پھٹ سکتے ہیں اور تمام منظرنامہ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ٹریڈ یونین کو منظم ہوتے ہوئے نجکاری مخالف ایک مضبوط تحریک چلانے کی ضرورت ہے جو کہ ان حکمرانوں کے عزائم کو خاک میں ملا دے۔ حکمران طبقے کے کسی وعدے اور مستقبل میں بہتری کی گنجائش نہیں ہے اس لئے محنت کشوں کو صرف اپنی طاقت پر ہی انحصار کرتے ہوئے متحد ہو کر اس نظام زر کے خاتمے کی جدوجہد تیز کرنا ہو گی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*