ظلم مگر کب تک ؟

تحریر: رؤف لنڈ

انسانی سماج کو اگر ایک انسانی وجود کی طرح دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ اسکی نمو بھی ہوتی ہے، یہ آگے بھی بڑھتا ہے، پھلتا پھولتا ہے، مگر پھر یہ بیمار بھی ہوتا ہے، کبھی معمولی بخار میں مبتلا ہوتا ہے تو کبھی کسی مُوذی مرض شکار بنتا ہے۔ پاکستانی سماج نے تو بدقسمتی سے معمولی سی خوشی و آسائش چند ایام کے علاوہ سُکھ کے دن کبھی دیکھے ہی نہیں۔ ہم اگر پاکستان کے قیام، اس کی ٹوٹ پھوٹ کے بکھیڑوں اور اس کے وجود پر مشرق و مغرب کی سرحدوں سے پڑنے والے زخموں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے محض ماضیِ قریب پندرہ بیس سالوں کے ان حملوں اور کچوکوں پر نگاہ ڈالیں تو الامان و الحفیظ کہ کس طرح کبھی سب سے پہلے پاکستان، ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت، کارکنوں کی قید، کوڑوں، پھانسیوں اور قرض اتارو مُلک سنوارو کے نعروں کے زور پر پاکستانی عوام کی حسرتوں کا، ان کے آدرشوں کا اور ان کے خوابوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ پاکستان کے عوام حکمران طبقے اور حکمرانوں کے گھاؤ کھا کر نیم جان ہو چکے تھے مگر ابھی مرے نہیں تھے، پھر اگر مرے نہیں تھے تو اپنی نیم مردہ آنکھوں سے اپنے دشمن کا ایک ایک چہرہ دیکھ دیکھ کر کچھ سوچ بھی رہے تھے۔ عوام کی اس کیفیت نے سامراجی طاقتوں کو خوفزدہ کردیا کہ یہ مجروح لوگ اپنے زخموں کو سہلاتے ہوئے کہیں اٹھ کھڑے نہ ہوں تو اس (سامراج ) نے اپنا ایک نیا روبوٹ اپنی ریاست کے گماشتہ اداروں سے اس کی پالش کرا کے ایسی لش پش کے ساتھ میدان میں اتارا کہ (جلد دھوکا کھا جانے والے) عوام اسے اپنا مسیحا سمجھ بیٹھے، سو پاکستانی عوام جن پر اب مشرف، زرداری اور نواز شریف کے ذریعے سامراجی پالیسیوں کا تسلسل ممکن نہ تھا۔ عمرانی عہد میں آسان ہو گیا، چونکہ سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام میں حالات نہیں بدلتے صرف چہرے بدلتے ہیں اور بدلنے والے یہ چہرے شروع شروع کے کچھ عرصہ میں پچھلی پالیساں جاری رکھتے ہیں مگر پھر آہستہ آہستہ استحصال میں شدت لاتے ہیں۔

مگر یہ عمرانی حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ اس نے ہنی مون (ایک مہینہ یا دو چار، چھ ماہ ) گزرنے سے بھی پہلے پچھلی استحصالی حکومتوں سے دو قدم آگے بڑھ کر اپنا اصل اور بھیانک چہرہ دکھانا شروع کردیا، دو سو سے زائد قومی اداروں کے بیچنے کا فیصلہ کر کے، آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے کا فیصلہ کر کے، بجلی ،گیس کی قیمتوں میں نا روا اضافہ کرکے، ٹول پلازوں کے ٹیکس میں اضافہ کرکے، شناختی کارڈ فیس میں اضافہ کرکے، بینکوں میں پیسہ رکھنے اور نکلوانے کے ٹیکس میں اضافہ کرکے، ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنیکی بجائے نکالنے کا فیصلہ کر کے، عوامی سہولت کے معمولی سے ادارے یوٹیلٹی سٹورز کے خاتمے کا فیصلہ کرکے، جنگلات اور انہار کے ریسٹ ہاؤسز سمیت قومی اداروں کی اراضی کے فروخت کا فیصلہ کرکے، ریلوے کے ادارے کو ایک بھونڈے، بیہودہ اور بے غیرت وزیر شیخ رشید کی دھونس اور دھمکیوں کیساتھ فروخت کرنے کا فیصلہ کر کے اور پھر سب اقدام کا بے حیائی اور ڈھٹائی کیساتھ دفاع کرکے۔

جناب وزیر اعظم؛ آپ کی مجبوریاں اپنی جگہ، مگر مزدوروں، کسانوں، غریبوں ، بے کسوں، محنت کشوں اور مظلوموں کے زندہ رہنے کی حسرت اپنی جگہ ……. مگر ان غریبوں ، ان محنت کشوں، ان مظلوموں اور بے بس لوگوں میں ایک بڑی خرابی بھی ہے کہ یہ کچھ عرصہ کیلئے ہر ظلم پر صبر تو کر سکتے ہیں، ہر جبر سہہ بھی جاتے ہیں مگر کسی ظلم اور کسی جبر کو مکمل فراموش نہیں کر سکتے. اور یہ اتنے بھی پاگل نہیں کہ محض اس لولی پاپ پہ گزارا کریں کہ، یار اس حکومت کو ابھی وقت تو دیں۔

اگر آپ کی حکومت کے پہلے پچیس دنوں کا یہ حال ہے تو آپ کی پوری چال سمجھنے میں کسی ادارے سے کوئی ڈگری یا سرٹیفکیٹ لینےکی ضرورت نہیں کہ عوام کے پاس پرکھ کا ایسا پیمانہ بھی ہے جسے وہ اپنی ہر محفل اور مجلس میں استعمال کرتے رہتے ہیں کہ ایک چاول چکھنے سے ساری دیگ کا پتہ چل جاتا ہے۔

سو سرِ دست ، تُو تیر آزما، یہ جگر آزمائیں گے

اور ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*