لاہور: مزدوردشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلی

رپورٹ: مرکزی انفارمیشن بیورو

تبدیلی کے نام پراقتدارمیں قدم جمانے والی پارٹی نے محنت کشوں کا معاشی قتل عام شروع کردیا۔

نئی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی سامراجی اداروں کے ایما اور خسارے کا رونا روتے ہوئے مزدور دشمن پالیسیوں کو لاگو کرنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے عام محنت کشوں کے لیے زندگی گزارنا محال ہوگیا ہے۔ ایک طرف ہوشربا مہنگائی ہے تودوسری جانب ملازمتوں کے مواقع تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں۔ نام نہاد تبدیلی سرکارکی پالیسیوں خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے زیراہتمام ملک بھر سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں، طلبا، خواتین اور نوجوانوں کی جانب سے ایوان اقبال سے لے کرپریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں واپڈا، اوجی ڈی سی ایل، کراچی اسٹیل ملز، ریلوے، ٹیکسٹائل کے شعبے، یونی لیور،پاور لوم، کوکاکولا، مرک مارکر، پوسٹ آفس، نادرا، اتحاد کیمیکلز، نرسز، پیرامیڈیکس، اساتذہ، ایپکا، پی آئی اے سمیت مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں محنت کشوں نے ریلی میں شرکت کی۔ ریلی کے دوران شرکا نے عوام دشمن معاشی پالیسیوں اور سرمایہ داری کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

احتجاجی ریلی کی قیادت مرکزی چیئرمین PTUDC نذرمینگل اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے آزاد ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے کی۔ احتجاجی ریلی پریس کلب پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیار کر گئی۔ جس دوران مقررین نے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت نجکاری پالیسی کو فی الفورمنسوخ کرتے ہوئے عوامی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مزدوروں سے مشاورت کرے۔ یوٹیلٹی سٹوراورریڈیو پاکستان کے محنت کشوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا اوران کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا گیا۔ دیگر مقررین میں جبکہ مقررین میں چنگیز ملک، عمر شاہد، ماجد میمن، رؤف لنڈ، فوزیہ، اکبر میمن، ندیم پاشا، نوید اسحاق اور انور پنہور شامل تھے۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 2006ء کے فیصلے کے مطابق مستقل کام کی نوعیت کے مطابق تمام کنٹریکٹ لیبر کو مستقل کیا جائے۔ مزدوردشمن لیبرایکٹ ختم کئے جائیں اور مزدوروں کی مشاورت سے ملکی سطح کا نیا انڈسٹریل ریلیشن آرڈینس بنایا جائے۔ نادرا اور پی آئی اے لازمی سروس ایکٹ کا خاتمہ کرتے ہوئے ان اداروں کے محنت کشوں کو یونین سازی کے حقو ق دیے جائیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو این جی اووزاور نجی مالکان کے چنگل سے نکال کر ریاست یہ ذمہ داریاں خود نبھائے۔

آخرمیں شرکا سوشلسٹ انقلاب تک جدوجہد کے عزم کے ساتھ پرامن طور منتشر ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*