عوام دشمن بجٹ نامنظور!

رپورٹ:  مرکزی انفارمیشن بیورو

ہر سال کی طرح اِس سال بھی سالانہ وفاقی بجٹ کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے اِس میں محنت کش عوام کے لئے سوائے ذلت اور بربادی کے کچھ نہیں ہے۔  کم از کم اجرت میں ایک ہزار روپے اضافہ محنت کشوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔  یہی کیفیت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ہے جن میں صرف 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔  ساتھ ہی بنیادی ضروریات کی پانچ سو اشیا پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔  پاکستان کی سرمایہ دارانہ معیشت کی مسلسل زوال پذیری اور کُل معیشت میں 70 فیصد کالی معیشت کی آمیزش نے دور رس منصوبہ بندی کی صلاحیت ہی ریاست سے چھین لی ہے۔  سالانہ بجٹ محض ایک رسم بن کر رہ گیا ہے کیونکہ ہر سال کئی منی بجٹ پیش کئے جاتے ہیں اورحکومت عوام پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں میں من مرضی کا اضافہ کرتی رہتی ہے۔  پاکستان میں حکومتی آمدن کا 80 فیصد پہلے ہی غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکس لگا کر اکٹھا کیا جاتا ہے، جبکہ بالادست طبقہ عملی طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔  یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو ان بجٹوں سے کوئی امید اور ان میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔  

ہر سال کی طرح اگلے مالی سال میں بھی کُل حکومتی آمدن کا 45 فیصد قرضوں کی نذر ہو جائے گا۔  اِسی طرح دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔  یہ دونوں شعبے کُل بجٹ کا 60 سے 70 فیصد ہڑپ کر جاتے ہیں اور باقی ماندہ رقم سیاسی اشرافیہ اور ریاستی افسر شاہی کی لوٹ مار کی نذر ہو جاتی ہے۔  پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں پر حکومتی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں، اِن قلیل اخراجات میں بھی مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔  صحت پر ریاستی اخراجات جی ڈی پی کے 0.8 فیصد جبکہ تعلیم پر 2 فیصد کے برابر ہیں۔  ملک کی 80 فیصد آبادی سائنسی علاج کی سہولیات اور ڈھائی کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔  60 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ سے دوچار ہے اور تقریباً 50 فیصد بچوں کی نشونما نامکمل ہے۔ جوان ہونے کا پوری نسل کا اوسط قد پچھلی نسل کی نسبت چھوٹا ہو گا۔  90 فیصد آبادی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے جس سے مہلک بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔  ایسے میں اِن سرمایہ دارانہ حکمرانوں کی ترجیحات محنت کش طبقے کے سامنے بالکل واضح ہیں جن کا کلیدی مقصد سرمایہ دار و جاگیر دار طبقات اور سامراجی اجارہ داریوں کی منافع خوری میں اضافہ اور محنت کش طبقے کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا ہے۔  

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) بجٹ کے اِس ڈھونگ کو یکسر مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ محنت کشوں کی کم از کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کی جائے، ٹھیکے داری نظام اور کنٹریکٹ ملازمتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ہر فرد کو مستقل اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے یا کم از کم 15 ہزار روپے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے، صحت اور تعلیم کے موجودہ بجٹ میں کم از کم دس گنا اضافہ کیا جائے اور معیشت کے کلیدی حصوں کو نیشنلائز کیا جائے۔  ہم سمجھتے ہیں کہ غربت، بھوک، محرومی و استحصال سے حتمی نجات صرف اور صرف سرمایہ دارانہ نظام کے یکسر خاتمے میں مضمر ہے جس کے لئے محنت کش طبقے کو یکجا ہو کر طبقاتی بنیادوں پر جدوجہد کرنا ہو گی۔  محنت کش طبقے کو منظم اور متحرک کرنے کا یہی فریضہ PTUDC پورے ملک میں ادا کر رہی ہے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*