پاکستان ٹیلی ویژن میں اصلاحات کے نام پر نجکاری اور جبری برطرفیوں کے حکومتی منصوبوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پی ٹی یو ڈی سی

رپورٹ: PTUDC پی ٹی وی

آئی ایم ایف کی ادارہ جاتی ریفارمز پالیسی کے تحت اب حکومت پاکستان،  پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) میں بھی اصلاحات کے نام ادارے کو ٹکڑوں کی شکل میں اس کو نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہ رہی ہے۔ ادارہ جاتی ریفارمز پالیسی میں اداروں کے خسارے کو ختم کرنے کے لئے جامع اصلاحات کیں جا رہی ہیں۔ چونکہ ادارے کے حجم اور وسعت کے باعث فوری طور پر اس کے اثاثوں اور طاقتور افسرشاہی میں بڑی تبدیلیاں کرنا ممکن نہیں ہیں تو سارا ملبہ عام ملازم پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ملازمین کی جبری برطرفیاں  کیں جائیں گی تاکہ ادارے کے آپریٹنگ اخراجات کو کنٹرول کیا جا سکے، حکمران کی ترجیحات میں عوامی اداروں کو کی بحالی کبھی بھی نہیں رہی۔ ان اداروں کی آمدن بڑھانے کی بجائے، سارا ملبہ ملازمین پر ڈال کر حکمران بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ پی ٹی وی کے اہم ذرائع آمدن، پروگرام پراڈکشن، ایڈورٹائزمنٹ اور ڈسٹری بیوشن کو تو کافی عرصے سے نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی نجی شعبے سے بھاری تنخواہوں پر ڈائریکٹر بھرتی کئے گئے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کارپوریشن نے نجی شعبے سے 3 مارکیٹنگ منیجرز کو مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے کی ماہانہ تنخواہوں پر بھرتی کیا ہے جو کہ یہ اصلاحی پروگرام نافذ کر رہے ہیں۔ ان ماہرین کا یہ حال رہا ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارہ تقریباً 6 دہائیوں میں اپنا مارکیٹنگ پلان بنانے کے قابل نہیں ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ سال قبل آنے والے کئی نجی نشریاتی ادارے منافع کمارہے ہیں، علاوہ ازیں حکومت نے بھی پی ٹی وی کو فنڈنگ روک دی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت نجکاری نے قومی ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی نجکاری کی منصوبہ بندی شروع کردی، کابینہ کمیٹی اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز نے نجکاری کی منظوری دیدی۔ نجکاری کمیشن نے پی ٹی وی انتظامیہ کو معلومات کی فراہمی کیلئے خط لکھ دیا، پی ٹی وی انتظامیہ سے مطلوبہ معلومات 7 روز میں طلب کی گئی ہیں۔ کمیشن نے پاکستان ٹیلی ویژن کی مالی سال 20-2019ء کی آڈٹ رپورٹ جبکہ 5 سال کی بیلنس شیٹ، اخراجات اور واجبات کی تفصیل بھی طلب کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی ویژن کی نجکاری پلاننگ کمیشن آرڈیننس 2000ء کے تحت کی جائے گی، پی ٹی وی کی نجکاری کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہےتاہم اسکی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دیگی۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پاکستان ٹیلی ویژن کی نجکاری سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کی نجکاری سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، ادارے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

پی ٹی وی میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ انتظامیہ کی بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ادارہ مالی بحران کا شکار ہے، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی مراعات پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ہم حکومت کے مزدور دشمن اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ پی ٹی وی کے ملازمین شبلی فراز اور عمران خان پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم ملازمین ایک عرصے سے ادارے کی ترقی کے لئے گامزن رہے ہیں۔ ہم اگر ادارے چلا سکتے ہیں تو ان کو بند بھی کر سکتے ہیں،  اگر ادارے  اور ملازمین کے حقوق پر شب خون مارنا بند نہ کیا گیا توپی ٹی وی کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دیگر اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر پورے ملک کا نظام مفلوج کر دیا جائے گا۔ 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*