پی ٹی وی مالی بحران کا ذمہ دار کرپٹ اور ناہل حکمران طبقہ ہے !

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

ہر ادارے کی طرح پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں بھی حکمران طبقے نے اپنی کرپشن اور نااہلی کا بوجھ ملازمین اور غریب عوام پر ڈال دیا ہے۔ کاروباری ترقی کی حکمت عملی کے نام پر اپنی لوٹ مار کا ملبہ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب پی ٹی وی فنانشل پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا، اس سلسلے میں پی ٹی وی لائسنس فیس کو بڑھا کر 100روپے کر دیا گیا اور یہ رقم ہر ماہ بجلی کے بلوں سے صارفین سے وصول کی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی وی میں جبری برطرفیوں کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی وی کے کل 6000 ملازمین میں سے 2400 کو جبری برطرف کیا جائے گا اور ساتھ ہی ملازمین کی مدمت ملازمت کو 2 سال کم کرکے 58 سال کی عمر میں ریٹائر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس پلان سے پہلے بھی پی ٹی وی کے ملازمین بد ترین حالات میں کام کرنے پر مجبور تھے، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی مراعات پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔  عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی بجائے ان کو تنخواہیں کی ادائیگی بھی کئی ماہ بعد کی جاتی ہے اور ریٹائر ملازمین کی پنشن پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ان تمام تر ناانصافیوں اور بدانتظامیوں کے خلاف جب ملازمین احتجاج کرتے ہیں تو انہیں انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس وقت بھی متعدد یونین رہنما سمیت کئی محنت کشوں کو معطل کیا جا چکا ہے۔ 

پی ٹی وی کی سٹریٹجک اہمیت، سرکاری نشریاتی ادارے کے طور پر پی ٹی وی کے کردار کو صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا بلکہ حکومتوں کی جانب سے اسے صرف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن 9 سیٹلائیٹ اور ٹیریسٹیل چینلز کے ذریعے ملک اور بیرون ملک نشریات فراہم کررہا ہے۔ قومی براڈ کاسٹر ہونے کے ناطے ملکی اتحاد ، قومی ثقافت اور ورثے کا فروغ،معاشرتی اقدار، مثبت رویوں اور پرامن معاشرے کو اجاگر کرنا پاکستان ٹیلی ویژن کی ذمہ داری ہے۔ ان تمام اقدامات کے ذریعے پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا پی ٹی وی کا مشن ہے۔  مگر افسوس ادارے کی ترقی کی بجائے اسے لوٹ مار کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پی ٹی وی کی تباہی کی ذمہ داری پھرحکمران طبقے کی جانب سے برسوں سے جاری نجکاری پالیسی ہے، پی ٹی وی کے اہم ذرائع آمدن، پروگرام پراڈکشن، ایڈورٹائزمنٹ اور ڈسٹری بیوشن کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی نجی شعبے سے بھاری تنخواہوں پر ڈائریکٹر بھرتی کئے گئے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کارپوریشن نے نجی شعبے سے 3 مارکیٹنگ منیجرز کو مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے کی ماہانہ تنخواہوں پر بھرتی کیا ہے جو کہ یہ نیا پلان لے کر آئے ہیں۔ ان ماہرین کا یہ حال رہا ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارہ تقریباً 6 دہائیوں میں اپنا مارکیٹنگ پلان بنانے کے قابل نہیں ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ سال قبل آنے والے کئی نجی نشریاتی ادارے منافع کمارہے ہیں، علاوہ ازیں حکومت نے بھی پی ٹی وی کو فنڈنگ روک دی ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ، لائسنس فیس کے نام پر لوٹ مار بند کی جائے اور فوری طور پر پی ٹی وی کے تمام شعبوں کو دوبارہ حکومتی تحویل میں لیتے ہوئے انہیں ملازمین کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے، افسوس کہ پی ٹی وی کے انفراسٹرکچر پرآج نجی سرمایہ دار منافع کما رہے ہیں جبکہ ملازمین اور عوام دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جب تک پرائیویٹ سیکٹر سے پروڈکشن خریدنا چھوڑ کر پی ٹی وی دوبارہ سے اپنی خود کی پروڈکشن شروع نہیں کرے گا آمدنی میں واضح اضافہ اور ادارے کی صلاحیتوں میں واضح نکھار ممکن نہیں۔ پی ٹی وی کی اپنی پروڈکشن کے بغیر باقی جمع تفریق کے فارمولے سود مند ثابت نہیں ہو سکتے۔ بہتر اور معیاری پروگرام تیار کر کے عوام کو بہتر اور سستی تفریح فراہم کی جا سکتی ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*