حسن ابدال: یوم مئی کے موقع پر عظیم و الشان مزدور جلسے کا انعقاد

رپورٹ:  PTUDC شمالی پنجاب

مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے یکم مئی کو حسن ابدال فوجی مل کی مارکیٹ میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور پیپلز لیبر بیورو ضلع اٹک کے اشتراک سے ایک بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ جلسہ کی صدارت پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری کامریڈ لال خان نے کی، جبکہ جلسہ کے مہمان خصوصی پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری ندیم افضل چن تھے۔   جلسہ میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پی ٹی یو ڈی سی کے کامریڈ چنگیز نے ادا کیے۔  جلسہ کا آ غاز کامریڈ اسحاق میر کی انقلابی نظم سے کیا گیا۔ اسحاق میر کی انقلابی نظم کے بعد RSF  شمالی پنجاب کے آرگنائزر کامریڈ آصف رشید نے اپنی تقریر میں نوجوانوں اورمزدوروں کے مسائل کے حوالے سے بات رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آج محنت کش طبقہ جن مسائل سے دو چار ہے، اس کی وجہ سرمایہ دارانہ سماج ہے ان مسائل کے خاتمے کا واحد حل سوشلسٹ نظام میں ہے۔  کامریڈ آصف کی پرجوش تقریر کے بعد پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر امتیاز عباسی خطاب کے لئے آئے انہوں نے اپنے خطاب میں اساتذہ کے مسائل اور پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کی ہونے والی نجکاری اور اس مہنگی ہوتی تعلیم اوراس کے گرتے ہوئے معیار پر تفصیل سے بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے اور اپنی ساخت کو بچانے کے لئے پیپلز پارٹی کو اپنے اصل سوشلسٹ منشور کی طرف لوٹنا پڑے گا۔

ڈاکٹر امتیاز عباسی کی تقریر کے بعد PIA پیپلز یونٹی راولپنڈی کے صدر رمضان لغاری نے اپنی تقریر میں PIA کی نجکاری کے خلاف پیپلز یونٹی کی جدوجہد اور انتظامیہ کی بدعنوانی اور بد نیتی پربات رکھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ موجودہ مزدور دشمن حکومت پی آئی اے کے مختلف بیرون ملک ہوٹلوں جن کی مالیت اربوں روپے میں ہے اور جو کروڑوں روپے کا منافع کما کر دے رہے ہیں موجودہ حکومت PIA انتظامیہ کی ملی بھگت سے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم نجکاری کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔  پیپلز یونٹی نے پہلے بھی نجکاری کے خلاف جدوجہد میں جان کی قربانیاں دیں تھیں موجودہ حکومت نے ان کے احتجاج کو روکنے کے لئے گولیاں برسائیں تھیں۔ PIA کے محنت کشوں نے گولیاں اپنے سینوں پر کھاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا بلکہ بہت سے مزدور زخمی بھی ہوئے۔  ہم  نے کسی بھی قسم کی قربانیوں سے نہ تو پہلے کبھی دریغ کیا ہے اور نہ اب کریں گے اور ہر حال میں PIA کی نجکاری سمیت دیگر ادروں کی نجکاری کے خلاف جدوجہد میں شامل رہیں گے۔  آخر میں انہوں نے پاکستان ٹریڈ یونیں ڈیفنس کمپئین کے کامریڈز کے جدوجہد کو سراہا اور شکریہ بھی ادا کیا کہ وہ مزدوروں مسائل کے حل کے لئے ان کی جدوجہد میں نہ صرف PIA بلکہ تمام اداروں کے مزدوروں کے شانہ بشا نہ کھڑے ہو تے ہیں۔   جناب رمضان لغاری کے بعد ریلوے مزدور اتحاد کے چیف آرگنائزر کامریڈ راجہ عمران خطاب کے لئے آئے انہوں نے اپنے خطاب میں ریلوے کے مزدوروں کے بے شمار مسائل کے حوالے سے بات کی۔ انہوں  نے کہا کہ ان تمام مسائل کے حوالے سے جدوجہد جاری ہے، ہم نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کو دیا ہے اگر اس پر 5 مئی تک عمل نہیں ہوتا تو ریل کا پہیہ جام کر دیا جائے گا۔

 کچی آبادی حسن ابدال کے آصف صاحب اس جلسہ میں ایک بڑی ریلی کی صورت میں شامل ہوئے تھے۔  آصف صاحب کی تقریر کے بعد بھٹہ مزدور یونین کے رہنما باچہ خان خطاب کے لئے اسٹیج پر تشریف لائے انہوں نے بھی اس جلسہ میں خصوصی طور پر ایک بڑی ریلی کی صورت میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی مادری زبان پشتو میں انتہائی پر جوش خطاب کیا جس کو جلسے کے شرکاء نے خوب سراہا۔    اس کے بعد اسٹیج سیکرٹری نے تالیوں کی گونج میں پیپلز لیبر بیورو ضلع اٹک کے صدر سراج گل خٹک کو خطاب کے لئے بلایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حسن ابدال میں موجود مختلف فیکٹریوں میں مزدوروں کے حوالے سے بات رکھی ٹیکسلا کاٹن مل میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا بہانہ بنا کر طویل عرصے سے تیسری شفٹ بند کی ہوئی ہے جب کہ مزدوروں سے 8 گھنٹے کی بجائے 10 سے 12 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔   مارگلہ مل میں حکومت کے اعلان کردہ چودہ ہزارروپے کم از کم تنخواہ ابھی تک لاگو نہیں کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سی این جی اسٹیشن، پٹرول پمپ، پرائیویٹ سکولوں اور آٹے کی ملوں میں بھی حکومت کی اعلان کردہ کم ازکم تنخواہ نہیں دی جا رہی۔   گنج گلاس فیکٹری میں مزدوروں کے بقایاجات طویل عرصے سے نہیں دیے جارہے اور ان تمام مسائل پر لیبر ڈیپارٹمنٹ اٹک فیکٹری مالکان کی ملی بھگت سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔   انہوں نے مزید کہا کہ یہاں پر پولیس کرایہ داری ایکٹ کا بہانہ بنا کر خاص طور پرغریب پختونوں کو تنگ کیا جا رہا ہے اور ان سے پانچ ہزار رشوت طلب کی جاتی ہے جو کے سراسر ظلم ہے۔   سراج گل خٹک نے اپنی تقریر میں فیکٹری اور مل مالکان کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر مزدوروں کے مسائل حل نہ کئے گئے تو ہمارے  پاس احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو گا۔   سراج گل خٹک کے خطاب کے بعد پیپلز پارٹی ضلع اٹک کے صدراشعر حیات خان نے کہا کہ ہم مزدوروں کے تمام مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور پیپلز پارٹی کو مضبوط بنائیں گے۔ ان کے بعد خطاب کے لئے سابق وفاقی وزیر سردارسلیم حیدر خطاب کے کے لئے آئے۔

جلسہ کے مہمان خصوصی پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری ندیم افضل چن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پا رٹی مزدوروں کی پارٹی ہے، پارٹی میں کچھ مفاد پرست لوگ گھس آئے ہیں جن کے باعث پارٹی اپنے اصل منشور سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو ملوں اور فیکٹریوں کے اندر اور باہر لڑائی لڑنی ہو گی اسی طرح مزدوروں کو عملی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے پارٹی کے اندر اور پارٹی کے باہر لڑائی لڑنی ہو گی۔ صرف اسی طرح ہی مفاد پرستوں اور کرپٹ عناصر سے پارٹی کو صاف کیا جا سکتا ہے۔  ندیم افضل چن صاحب نے مزید کہا کہ ڈاکٹر لال خان جیسے اگر 7 سے 8 افراد اگر پیپلز پارٹی میں ہوں تو پارٹی انقلاب کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

آخرمیں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری کامریڈ لال خان اپنے صدارتی خطاب میں سادہ اندازمیں نا صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مزدوروں کے مسائل اور سرمایہ داری کے گھناؤنے  کردار پربات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ داری انسانیت کی دشمن ہے، سرمایہ داری میں پیداوار کا مقصد انسانی ضرورتوں کی تکمیل کی بجائے منافع کا حصول ہوتا ہے۔ آج سرمایہ داری ایک بحران سے گزر رہی ہے اور اس بحران میں منافعوں کو قائم رکھنے لئے استحصال کو دن بدن بڑھایا جا رہا ہے۔ اصل طاقت محنت کش طبقے کے پاس ہے محنت کش طبقے کی محنت کے نتیجے سے ہی لائٹ کے بلب سے لے کر ریل کا پہیہ ہو یا ٹیلی فون کی گھنٹی یا انٹرنیٹ یا اڑتا ہوا جہاز یہ تمام معاملاتِ زندگی چل رہے ہیں۔ محنت کش طبقہ آج سیاست سے بیزار ہے موجودہ سیاست میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں لیکن یہ سب کچھ زیادہ عرصہ رہنے والا نہیں محنت کش طبقہ باہر نکلے گا اور وہ اپنی اصل طاقت دکھائے گا۔ آج حکمران لوڈ شیڈنگ کرتے ہیں وہ وقت دورنہیں جب  محنت کش طبقہ حکمرانوں کی بجلی بند کرے گا۔    وہ وقت دور نہیں جب تخت گرائے جائیں جب تاج اچھالے جائیں گے اور اس خطے میں سوشلسٹ انقلاب کر کے مانگ کا مکمل طور پر خاتمہ کر کے حقیقی انسانی تاریخ کا آغاز کیاجائے گا۔

جلسے میں ٹیکسلا، واہ، پنڈی، اسلام آباد، فتح جنگ، جنڈااوراٹک سے کامریڈوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جلسے میں طبقاتی جدوجہد اور مزدرنامہ کو شرکاء میں بیچا گیا اس جلسے میں کتابوں کا اسٹال بھی لگایا گیا تھا جس کو شرکاء نے خوب سراہا۔    مزدوروں کے دن کی وساطت سے ایک لیفلیٹ بھی چھا پا گیا تھا جو جلسے کے تمام شرکاء میں تقسیم کی گیا۔   جلسہ میں سرمایہ داری کے خلاف اور سوشلسٹ انقلاب کے حق میں موجودہ مزدور دشمن حکومت اور ان کے مزدور کش اقدامات کے خلاف خوب نعرے بازی کی گئی۔   جلسہ میں ملک نجیب الرحمان ارشد نے پیپلز پارٹی تحصیل ٹیکسلا کے دیگر ذمہ داران سمیت شرکت کی۔    

 جلسے کا اختتام محنت کشوں کے عالمی ترانے پر کیا گیا۔  جلسے میں شریک محنت کشوں نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور پیپلز لیبر بیورو ضلع اٹک کی اس مشترکہ کا وش کو خوب سراہا اور ان کے مسائل اجاگر کر نے پر شکریہ ادا کیا۔  پی ٹی یو ڈی سی اوپیپلز لیبر بیورو کے کامریڈز نے ان سے یہ عہد کیا کہ وہ ان کے مسائل حل تک ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔