بدحال زراعت کے نگہبانوں کے مسائل اور جدوجہد

تحریر: قمرالزماں خاں

پاکستانی معیشت، صنعت، زراعت اور خدمات پر مبنی تین بڑے حصوں پر محیط ہے۔ معاشی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 21فیصد زراعت کے شعبے سے حاصل ہوتاہے۔ پاکستان کی کل لیبر فورس کا 48فیصد حصہ بھی زرعی عمل میں مصروف کار ہے۔ اسی طرح پاکستان کی کل برآمدات میں سے 80فیصد مصنوعات کسی نا کسی طرح زرعی سرگرمیوں کانتیجہ ہیں۔ پاکستان کے کل رقبے کا57فیصد حصہ کاشت کاری کے قابل ہے جس میں سے کل مزروعہ رقبے کا 69فیصد حصہ صوبہ پنجاب میں ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی زراعت کی کل پیداوار میں صوبہ پنجاب کے زرعی شعبے کا حصہ کپاس میں 83%،گندم80%، مہک دار چاول97% گنا51% اور اسی طرح پھلوں میں آم 66%،کینو،مالٹا وغیرہ95%،امرود 82% اور کھجورہے۔ زراعت کے اس سارے عمل میں جہاں قدرتی وسائل یعنی زمین اورپانی اسی طرح محنت یعنی کاشت کار کلیدی حصہ دار ہیں اسی طرح اس عمل میں ایک معاون عامل کا بھی بنیادی کردار ہے۔ یہ زرعی معاون یا محکمہ زراعت کا فیلڈ اسسٹنٹ ہوتا ہے جو چاروں موسموں کی تمام فصلوں،پھلوں،جنگلات کی دیکھ بال میں محومصروف رہتا ہے۔

فیلڈ اسسٹنٹ یا زرعی معاون نہ صرف اپنے شعبے کے جملہ کام جن میں عمومی کام کہ گندم،کپاس،گنا ،مکئی کی فصل کب کاشت کرنی ہے؟ فصل کو بجائی کے بعد فصل کو کتنے دن کے بعد پہلا پانی لگانا ہے، کن علاقوں میں اگیتی فصلیں کاشت کرنا ہے اور کہاں پر پچھیتی فصلیں بارآور ہوں گی، فصلوں، باغات اور سبزیوں کو بیماریوں سے کیسے بچانا ہے، کسان کو جڑی بوٹیوں کی تلفی ،گوڈی اور بیجوں کی ترقی یافتہ اقسام کی معلومات مہیا کرنے والا سب سے کارآمد اور متحرک عامل محکمہ زراعت کا فیلڈ اسسٹنٹ کہلاتا ہے۔ ایگری کلچرفیلڈ اسسٹنٹ محکمہ زراعت کے ریسریچرز اور سائنس دانوں کی زرعی لیبارٹروں میں کی جانے والے تجربات ،کاوشوں اور حاصلات کو کھیت تک لےجانے کی ذمہ داری بھی فیلڈ اسسٹنٹ کی ہوتی ہے۔ فیلڈ اسسٹنٹ، کسان کا ایسا مخلص دوست ہوتا ہے جو اسکو کم سے کم خرچ میں زیادہ سے فصل حاصل کرنے کے تمام رموز سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ فیلڈ اسسٹنٹ کاکسانوں اورکاشتکاروں کو مشاورت مہیا کرنے کا عمل میکانی نہیں بلکہ اپلائیڈ سائنس کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔جیسے کسی ایک ملک کے تمام زرعی رقبے پر ایک ہی فصل کاشت نہیں ہوسکتی،اسی طرح ایک معین کردہ علاقے (ضلع،تحصیل،موضع،چک،ایک ہی موگے سے سیراب ہونے والی ابتدائی اور ٹیل ) کی زمین بھی ایک جیسی نہیں ہوتی اور نا ہی ایک جیسے عوامل کے برتاﺅ سے ایک جیسی فصل لی جاسکتی ہے۔ زمین،موسم،آب وہوا،بیماریوں کے تغیرات میں کس قسم کے بیجوں،ادویات کا استعمال کیا جائے؟ فراوانی یاکم پانی والے علاقوں میں ہل تک مختلف انداز میں چلائے جاتے ہیں، یہ سب جاننا ایک عام کاشت کار کے بس کی بات نہیں ہے جس کا علم اور مشاہدہ صدیوں سے روایتی کاشتکاری کے ہالے سے نکلنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ روایت ہمیشہ ہمالیہ کی طرح سروں پر مسلط ہوتی ہے اسکو ازخود توڑنا عمومی طور پر بہت مشکل ہوتا ہے، ایسے میں’ زرعی معاونین‘ کاشتکاروں سے رابطہ کرتے ہوئے دوستی اور اعتماد کی وہ فضا قائم کرتے ہیں جہاں کسان اپنے روایتی چلن سے ترقی پسند کاشت کاری کی طرف گامزن ہوکر ’ کم خرچ اور زیادہ فصل‘ اور دیگر بحرانوں کے تدارک کے قابل ہوجاتا ہے۔محکمہ زراعت کے ’معاونین‘ سردی اور گرمی کی پرواہ کئے بغیر کسانوں کو زرعی امداد کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔عمومی طور پر کام کے دباﺅ اور رقبے کی وسعت کے اعتبار سے ’زرعی معاونین‘ کی تعداد،ضرورت کے برعکس عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ’زرعی معاونین‘ بغیر وسائل اور محکمے کی طرف سے عدم تعاون کے پس منظر میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں ان کو فیلڈ میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پنجاب بھر کی چھتیس اضلاع کی 135تحصیلوں میں کل 3500زرعی معاونین 12ایکڑ سے کم اراضی والے 3667712خاندانوں جب کہ بڑے قطعات اراضی والے دیگر15فی صد اراضی پر بڑے فارمز والے ہزاروں خاندانوں کو زرعی خدمات بالکل مفت اور بروقت فراہم کررہے ہیں۔ محکمہ پنجاب کے ساڑھے تین ہزار زرعی معاونین کوتقریباََہرروز27059دیہات کا وزٹ کرنا پڑتا ہے۔ شماریاتی انداز اختیارکیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک زرعی معاون کوزرعی مشاورت کیلئے 8 دیہات میں بسنے والے 1047سے زائد خاندانوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ تو زرعی کام ہے مگر محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سے ان کے طے شدہ فرائض منصبی کے علاوہ بھی کام لیا جاتا ہے جس میں ’پولیو ڈیوٹی،مردم شماری،انتخابی عمل کی ذمہ داریاں،دیہات میں بوئی جانے والی فصلوں کے اعدادوشمار اور محکمہ شماریات کی بیشتر ذمہ داریاں۔ ان جملہ امور کو نمٹانے کیلئے محکمہ کی طرف سے سہولیات نا ہونے کے برابر ہیں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے زرعی معاونین کو اپنے اپنے علاقے کی زمین کی جانچ کیلئے نمونے جمع کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تاکہ زمین کی ساخت کے مطابق فصل کی نوعیت، پانی، بیج، کھادوغیرہ کا تعین کیا جاسکے، زرعی معاون کاشتکاروں کو یہ نوید سناتے ہیں کہ ان کی زمین کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جارہا ہے، وہ زمین کا نمونہ لیتا ہے اور محکمے کے سپردکرتا ہے مگردوسری طرف بیوروکریسی اورمحکمہ کے ارباب اختیار کی نااہلی ملاحظہ کریں کہ دودوسال تک زمین کے نمونے کے ٹسٹ کی رپورٹ واپس موصول نہیں ہوتی۔ مینجمنٹ کی یہ نااہلی جو خالصتاََ افسران، بیوروکریسی یا وزارت کی وجہ سے ہے اسکا خمیازہ فیلڈ میں جانے والے معاون کو کاشتکاروں کے شدید ردعمل کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی طرح دورافتادہ علاقوں کیلئے وضع کئے گئے خصوصی پراجیکٹس تک پہنچنے کے لئے دیئے گئے موٹرسائیکلز کی قیمتیں تک زرعی معاونین کی تنخواہوں سے وضع کی جاتی ہیں حالانکہ وہ کام سرکاری کررہے ہوتے ہیں۔پنجاب کے دیگر محکموں کے محنت کشوں کو درپیش مسائل کی طرح ایگری کلچر فیلڈ اسسٹنٹ کے سروس سٹرکچر اور اسکیلز کے معاملات عرصہ دراز سے حل طلب ہیں مگر ان پر توجہ نہیں دی جارہی۔ کئی سالوں سے مسائل کا ایک انبھار بڑھتے بڑھتے اب زرعی معاونین کواحتجاج کی طرف لے آیا ہے۔

فیلڈ اسسٹنٹ ایمپلائیز یونین (رجسٹرڈ)کی مسائل حل کرانے کی تمام کاوشیں ناکام ہوگئی ہیں اور ان کو مجبوراََ احتجاج اور ہڑتال کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ ہڑتال آج مورخہ 31مارچ کو چھٹے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ یونین کے مطالبات ہیں کہ :

٭فیلڈ اسسٹنٹ کو 14سے16اسکیل میں اپ گریڈ کے سروس سٹرکچرجاری کیا جائے۔

٭پراجیکٹ 2.0توسیع کا اضافی کام کرنے والے فیلڈ اسسٹنٹ اور زراعت انسپکٹرز کو پراجیکٹ الاﺅنس کی منظوری دیکر موجودہ تنخواہ میں ضم کیا جائے اور بقایاجات فوری ادا کئے جائیں۔

٭ٹی اے ڈی کاموجودہ نظام اور نیا متعارف شدہ ایگری سمارٹ کی بجائے کم ازکم1000روپے تنخواہ فکس کی جائے۔٭موٹر سائیکل کیلئے کم ازکم 3 لٹرپیٹرول روزانہ فکس کیاجائے۔

٭PC-1کے مطابق پراجیکٹ کے تحت مہیا کردہ موٹر سائیکل بلاقیمت دیئے جائیں۔

٭گریڈ 6 Bscکرنے والے فیلڈ اسسٹنٹ کواپ گریڈ اور زراعت انسپکٹرز کی آسامیوں پر پرموشن دی جائے۔

٭فیلڈ اسسٹنٹ کی خالی آسامیوں کو جلد از جلد مستقل بھرتی کے ذریعے پر کیا جائے اور پہلے سے بھرتی گئے فیلڈ اسسٹنٹس کو مستقل کیا جائے۔

٭رسک الاﺅنس،وردی الاﺅنس اور اضافی یونین کونسل کا اضافی الاﺅنس دیا جائے۔

٭فیلڈ اسسٹنٹ اور زراعت انسپکٹرز سے توسیعی سرگرمیوں کے علاوہ باقی محکمہ جات کے کام نہ لئے جائیں۔

اسسٹنٹ ایمپلائیز یونین (رجسٹرڈ) پنجاب کی قیادت کا کہنا ہے کہ ہماراپرامن احتجاج مانگوں کے پورا ہونے تک جاری رہے گااگر حکومت پنجاب نے ہمارے جائزمطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کردیا جائےگا۔ اس کیفیت میں زرعی عمل میں درکار معاونت جیسا اہم عامل نا ہونے سے پہلے سے ہی پانی کی بندش کے شکار کسانوں کو شدید دشواری کاسامنا ہے مگر حکومت کی بے حسی اور نان ایشوز میں دلچسپی کی وجہ سے ابھی تک کسی قسم کے سنجیدہ مذاکرات کاعمل شروع نہیں ہوسکا۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ مختلف شعبوں کے محنت کش زرعی معاونین کی جدوجہد کودیگر شعبوں کے محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ یکجا کرکے ایک بڑی تحریک کا آغازکریں تاکہ اللو ں تللوں میں غرق حکومت کو سنجیدہ مسائل حل کرنے کی طرف مجبورکیا جاسکے۔

مزید پڑھیں:

صادق آباد: محکمہ زراعت کے فیلڈ اسسٹنٹ سراپا احتجاج

One Comment

  1. Aamir Abbas says:

    Well done

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*