ایم ٹی آئی ایکٹ: عوام کی زندگیوں پر نیا حملہ

رپورٹ: PTUDC لاہور

صحت کی سہولیات بنیادی انسانی حقوق میں سے ہی ایک تصور کی جاتی ہر شہری کو صحت کی سہولیات مفت فراہمی کسی بھی ریاست کا بنیادی فریضہ مانی جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحت کا شعبہ انتہائی بد ترین حالت میں پایا جاتا ہے۔ اس شعبے میں بہتری کرنے کی بجائے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں صحت کے شعبے کو نجی سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، پہلے ہی پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے اخراجات نجی ہسپتالوں کے برابر کئے جا رہے ہیں جس سے علاج معالجہ کی سہولیات عوام کی دسترس سے باہر ہو جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی خیبر پختونخواہ میں رائج بدنام زمانہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ 2018ء (ایم ٹی آئی) کو دیگر صوبوں میں بھی نفاذ کیا جا رہا ہے۔ ایکٹ میں نجی سرمایہ داروں پر مشتمل ایک صوبائی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جارہا ہے۔

ٹیچنگ ہسپتالوں کے معاملات چلانے کے لئے پرائیویٹ لوگوں پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے نام پر انتظامی بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ سرچ اینڈ نومینیشن کونسل میں پرائیویٹ لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو بورڈ آف گورنرز کے ممبران کے لیئے نام تجویز کریں گے۔ جس سے نجکاری اوراد اروں میں سیاسی مداخلت کو قانونی راہ دی جارہی ہے۔ ملازمین کا سول سرونٹس کا درجہ اور ان کے حقوق ختم کر دیئے جائیں گے۔ ساتھ ہی اپنے لوگوں کو بھاری تنخواہوں پر نوازا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے خیبر پختونخواہ میں بورڈ آف گورنر تحلیل کر دیئے تھے کیونکہ اداروں میں کرپشن کا انکشاف ہوا تھا۔ ایکٹ سے ادارے بہتری کی بجائے تباہی کی طرف جائیں گے۔ اداروں کا انتظامی سٹرکچر پہلے سے موجود ہے جس میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطابق ڈپٹی میڈیکل سپرینٹینڈنٹس، اے ایم ایس، آ ئی ٹی، فنائنس، سپورٹ سروسز جس میں صفائی، سیکیورٹی و غیرہ کے ڈائریکٹرز ہیں وہ پہلے سے موجود ہیں اور ایم ایس کو جواب دہ ہیں اور نظام کافی حد تک بخوبی کام کر رہا ہے اور اس کو انفارمیشن ٹیکنالوجی پر شفٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں ہسپتالو ں کے معاملات بہتر چلانے کے لئے ڈاکٹرز کا انتظامی کیڈر بنایا جائے۔ ڈاکٹرز کے انتظامی کیڈر کو سول سروس کی طرز پر انتظامی اورمالی اداروں سے اضافی ٹریننگ کروائی جائے کیونکہ بطور ڈاکٹرز وہ ہسپتالوں کےمعاملات زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں اور ان کے لیئے جزا اورسزا کا نظام وضع کیا جائے۔ اس ایکٹ سے پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کے لیئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی بورڈ آف گورنرز کی صورت میں سفید ہاتھیوں کی فوج بھرتی کی جائے گی ۔ کنٹریکٹ پر سپیشلسٹ بھرتی کرنے سے پوسٹ گریجویشن کا نظام تباہی کی طرف جائے گا جس کا مظاہرہ خیبرپختونخواہ میں ہو چکا ہے۔ اداروں کی خودمختیاری کا نام پر نجکاری اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا جا رہا ہے جیسے خیبرپختونخواہ میں پچھلے 6 ماہ سے ینگ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں حالانکہ وہاں انتظامی اور مالی خود مختاری کا نظام رائج ہے۔

ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد چونکہ سرکاری ہسپتال بھی فیس لے کر علاج کریں گے اس لئے سرمایہ داروں کے لئے منافعوں کا حصول یقینی بنانے کے لیے یہ صحت کارڈز بانٹے جا رہے ہیں تاکہ اس سے انشورنس کمپنی کی مدد سے پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی ایم ٹی آئی ایکٹ سرکاری ہسپتالوں کو ’خود مختار اداروں‘ میں تبدیل کردے گا جس سے حکومتی فنڈنگ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور سرکاری ہسپتالوں کو اپنے ’فنڈ‘ خود سے جنریٹ کرنے پڑیں گے۔ یعنی یہ نجی اداروں میں بدل جائیں گے۔ اس سے ہسپتالوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین (ڈاکٹر، نرسز، پیرا میڈک سٹاف وغیرہ) کے مستقبل پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ اِس نام نہاد صحت انصاف کارڈ کا ایک اور پہلو پہلے سے موجود نجی ہسپتالوں کی تجوریاں بھرنا بھی ہے۔ کیونکہ بعض مستند اخباری رپورٹوں کے مطابق جہاں یہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں وہاں 60 فیصد ادائیگیاں نجی شعبے کو کی جا رہی ہیں۔ یوں بہرصورت معاملہ یہ ہے کہ صحت کا بجٹ بڑھانے‘ نئے سرکاری ہسپتال بنانے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی بجائے لوگوں کو اِس کارڈ کی بتی کے پیچھے لگا کے نجی شعبے کی طرف ہانکا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کارڈ حاصل کرلینے والوں کے لئے بھی علاج کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔ یہ سارا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ اکثر صورتوں میں انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک قطار سے دوسری قطار اور ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھیجا جاتا رہے گا۔ نجی ہسپتال چند گھونٹ میں ہی کارڈ میں موجود ساری رقم پی جائیں گے جس کے بعد لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوائے جائیں گے۔

اس ایکٹ کے خلاف پی ایم اے، ینگ ڈاکٹرز،نرسنز اور صحت کے شعبے کی مختلف تنظیموں نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرزایسوی ایشن نے راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو اسپتال میں بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پریس کانفرنس کی۔ ینگ ڈاکٹرز کے رہنما ڈاکٹر شعیب تارڑ نے کہا کہ پنجاب حکومت میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) ایکٹ لانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے بعد سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں ٹیسٹ کی فیس نجی لیبارٹریوں کے برابر کر دی ہے جب کہ اسپتالوں میں سرکاری ملازمین کی مستقل نوکریاں بھی ختم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر شعیب تارڑ نے انکشاف کیا کہ سرکاری اسپتالوں کو کاروباری مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اب آپریشن کا کم سے کم 50 ہزار روپے ریٹ مقرر کیا جا رہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بورڈ آف گورنرز کے نام پر اب غیر ڈاکٹرز اسپتالوں کو چلائیں گے، اسپتالوں میں ریفارمز کے نام پر مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے ساتھ پر امن طریقے سے بات کی جائے ورنہ ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے جب کہ اس صورتحال میں اگر مریضوں کا نقصان ہوا تو اس کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*