قلات: مشترکہ ملازمین اتحاد کے زیر اہتمام سیمینار

رپورٹ: PTUDC قلات

مشترکہ ملازمین اتحاد قلات کے زیر اہتمام ’’موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات اور سماجی تبدیلی میں محنت کشوں کا کردار‘‘ کے عنوان سے27اکتوبرکو بلوچستان کے شہر قلات میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے مہمان خاص پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین PTUDC کے مرکزی چیئرمین نذرمینگل تھے۔ دیگر مہمانوں میں زمیندارایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما پرنس آغا، لعل جان اور عزیز مغل تھے۔ جبکہ مقررین میں مشترکہ ملازمین اتحاد کے صدر داد محمد بلوچ، جنرل سیکرٹری وڈیرہ غلام فاروق، عمران، چیئرمین عبدالسلام زہری، آفس سیکرٹری محمد اسحاق لانگو، PTUDCقلات کے علی احمد، کامریڈ عمران، ٹیچرز ایسوسی ایشن کے نمائندے خلیل دہوار، پیپلز پارٹی سے فاروق بلوچ، سابقہ صدر ٹیچرز ایسو سی ایشن اشرف دہوار اور کلرک ایسوسی ایشن کے حاجی قادر عمرانی شامل تھے۔ میمونہ نے انقلابی ترانہ پیش کیا۔

سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر زوال اور پرانتشار کیفیت سے دوچار ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کے تمام ممالک میں شدید معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی بحران دکھائی دے رہا ہے۔ پوری دنیا کی دولت مٹھی بھر سرمایہ داروں کے پاس ہے۔ امیر امیر تر ہوتے جارہے ہیں اور غریب غریب تر۔ سامراجی قوتیں اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کی خاطر دنیا کے بیشتر ممالک میں پراکسی جنگیں لڑ رہے ہیں جس میں لاکھوں بے گناہ لوگ قتل ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ داری کی منافع کی دوڑ کی وجہ سے کرہ ارض میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، خشک سالی، اور سیلابوں کی وجہ سے کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں محنت کشوں، دہقانوں اور نوجوانوں کی معاشی حالت دگرگوں ہے۔ گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ آئی ایم ایف اور سامراجی ممالک سے قرضے حاصل کرنے کے لیے عوام پر نجکاری، مہنگائی اور بے روزگاری کا قہر نازل کر رہے ہیں۔ ان تمام صورت حال میں محنت کشوں اور مزدوروں کی ٹریڈ یونین قیادت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محنت کشوں کو اس حوالے سے سرگرم اور متحد کریں۔ ان کو استحصال، ظلم اور انصافی سے آگاہ کریں۔ محنت کشوں کو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی متروکیت اور ناکامی کے بارے میں بتائیں اور ساتھ میں ان تمام مسائل کا حل بھی بتائیں۔

آخر میں تمام مقررین نے مشترکہ ملازمین اتحاد کے قائدین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے قلات جیسے شہر میں جہاں سیاسی سرگرمیوں پرغیراعلانیہ قدغن لگا ہوا ہے۔ اس سیاسی نشست اور سیمینار کا اہتمام کیا جو خوش آئند بات ہے اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ بھی اسی طرح کے پروگرام منعقد ہوں تاکہ لوگوں کو موجودہ صورت حال سے نہ صرف آگاہی ہو بلکہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*